بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / نیپرا کے اجلاس میں خیبرپختونخوا کا مؤقف

نیپرا کے اجلاس میں خیبرپختونخوا کا مؤقف

اسلام آباد میں ہونیوالے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کے اجلاس کی کاروائی اور وزیراعلیٰ پرویزخٹک کی اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت میں خیبرپختونخوا حکومت کے متعدد تحفظات اور خدشات کیساتھ مطالبات سامنے آئے ہیں، خیبرپختونخوا کا کہنا ہے کہ دستور کے مطابق صوبے کا بجلی میں شیئر 2400میگا واٹ ہے جبکہ اس وقت 1800میگاواٹ بجلی مل رہی ہے، کے پی گورنمنٹ کا اعداد وشمار اور نرخوں میں اتارچڑھاؤ کی روشنی میں یہ بھی کہنا ہے کہ پن بجلی کی مد میں صوبے کا خالص منافع 100ارب روپے سالانہ بنتا ہے، اس وقت اس منافع کا حجم صرف 19ارب روپے ہے جو قبل ازیں 6ارب روپے سالانہ تھا، صوبے کی ذمہ دار ادارے یہ بھی کہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا 55پیسے فی یونٹ کے حساب سے پن بجلی پیدا کرتا ہے، یہ بجلی ہم 10.45روپے فی یونٹ کے حساب سے لیتے ہیں، واپڈا کی جانب سے لوڈشیڈنگ کے دورانیے کو صوبے میں بجلی چوری کے باعث لائن لاسز کا نتیجہ قرار دیئے جانے پر صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ بجلی چوری پر قابو پانا خود واپڈاکاکام ہے، صوبائی حکومت اس کیلئے پولیس کی مدد دینے کو تیارہے۔

اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ وفاقی حکومت توانائی بحران کے خاتمے کو اپنی ترجیحات کا حصہ بناتے ہوئے اقتدار میں آنے کیساتھ ہی سے اقدامات اٹھا رہی ہے، اس کیساتھ انکار اس حقیقت سے بھی نہیں کیاجاسکتا کہ ان اقدامات کے ثمرات سے عام شہری کوئی خوشگوار ریلیف محسوس نہیں کررہا، جہاں تک سوا ل لائن لاسز کا ہے تو اس کو اہم قومی اور عوامی مسئلہ قرار دیتے ہوئے وفاق اور صوبے کو مل کر حل کرنا چاہئے، جس میں پولیس فراہم کرنے کی پیشکش قابل اطمینان ہے، وطن عزیز میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور سی پیک سمیت دیگر منصوبوں کیلئے توانائی کی ضرورت ایک ایسا سوال ہے جس پروفاق اور صوبوں کو سرجوڑنا ہوگا، جہاں تک تعلق خیبرپختونخوا کا ہے تو بجلی کی پیداوار میں بڑا شیئر رکھنے والے اس صوبے کا جغرافیہ اور امن وامان کی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ یہاں بجلی اور گیس سمیت دیگر سہولیات خصوصی کیس کے طور پر دی جائیں تاکہ یہاں صنعتی وتجارتی سرگرمیوں کو تقویت ملے معیشت بحال ہو اور بے روزگاری کا خاتمہ ممکن ہو اس مقصد کیلئے جس طرح بقایا جات اور منافع کی شرح کا معاملہ بات چیت کے ذریعے نمٹانے کی سعی کی گئی اس طرح باقی امور پر بھی مل بیٹھ کر بات کی جاسکتی ہے تاکہ معاملات کو یکسو کیا جاسکے۔

مارکیٹ کنٹرول میں ناکامی کیوں؟

ہمارے رپورٹر کی سٹوری کے مطابق ڈسٹرکٹ لیول پر ایڈمنسٹریشن مہنگائی کے کنٹرول اور ملاوٹ کی روک تھام میں کامیاب نہیں ہوپارہی رمضان المبارک کیلئے خصوصی اقدامات بھی ثمر آور ثابت نہیں ہورہے اور بات صرف نمائشی چھاپوں اور سب اچھا کی رپورٹس تک محدود ہے یہ ساری صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ صوبائی حکومت ناکامی کے اسباب کا تکنیکی جائزہ لے تو اس میں شک کی گنجائش نہیں کہ حکومت مارکیٹ کنٹرول کیلئے باقاعدہ سیٹ اپ پائے گی نہ ہی اس کیلئے قاعدہ قانون یہ سارا ڈھانچہ جو مجسٹریسی نظام کہلاتا تھا مشرف دور میں فائلوں کے اندر بند کردیاگیا خیبر پختونخوا حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے اپنی کوششوں کے مثبت نتائج حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے مجسٹریسی نظام کی بحالی کیلئے کام کرنا ہوگا بصورت دیگر آزاد مارکیٹ عوام کیلئے مشکلات کا باعث بنتی رہے گی اور لوگ کسی صورت حکومتی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوں گے۔