بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / آخری سال ،آخری موقع

آخری سال ،آخری موقع


چار سال ہوچکے ہیں اس دوران جو کچھ ہونا چاہئے تھایقیناًوہ نہیں ہوا اسی لئے تو آخری بجٹ پیش کرنے کے بعدپوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں سرکاری حکام کی طرف سے کئی کمزوریوں کو تسلیم کیا گیااورکہاگیاکہ صورتحال کی بہتر ی کیلئے اصلاحاتی عمل شروع کیاجائیگا گویا موجودہ مخلوط صوبائی حکومت پانچویں سال میں اصلاحاتی عمل شروع کرنیکااعزاز حاصل کرنے والی حکومت بن جائے گی جب تبدیلی کے نام پر اقتدار سنبھالا گیاتھا تو ہمارے سمیت ہرکسی نے خوش آمدید کہاتھاکیونکہ ماضی کی حکومتوں کے جوکارنامے رہے تھے اس کی سزا بدترین انتخابی شکست کی صورت میں انکو مل چکی تھی اور پورا صوبہ اب بہتر ی کی آس لگائے بیٹھا تھا سب کاخیال یہی تھاکہ اب عمران خان پشاورکی نشست اپنے پاس رکھ کر براہ راست صوبائی حکومت کے تمام معاملات کی نگرانی کریں گے مقامی میڈیااورکارکنوں کیلئے انکے دروازے کھلے رہیں گے جسکی وجہ سے صوبہ میں گڈ گورننس کاخواب شرمندہ تعبیر ہوسکے گا مگر انہوں نے پنڈی کی نشست اپنے پاس رکھی اور پھر حالات کی اصل تصویر بھی انکی نگاہوں سے پوشید ہ ہوتی چلی گئی اوراب انکاسارا انحصار سرکار ی حکام کی بریفنگز پر رہ گیا یوں انکو جو تصویر دکھائی جانے لگی وہ اصل تصویر سے کافی مختلف تھی اورہے ہم نے شروع میں بات کی پانچویں سال میں اصلاحاتی عمل شروع کرنے کی تو اس میں حیران ہونیکی ضرورت نہیں ،پورے ملک میں بیوروکریسی کی وجہ سے جون ازم کاکلچر عروج پر ہے یعنی تمام سال سرکار ی حکام صرف فائلوں کی ورق گردانی کرتے گزاردیتے ہیں اور جب جون آتاہے توراتوں رات اربوں روپے ریلیز کر کے پھرترقیاتی کاموں کے نام پرلیپا پوتی کی جاتی ہے ہمارے ہاں بھی یہی صورتحا ل تھی چارسال کے دورا ن گڈ گورننس کے راگ الاپنے کے باوجودجون ازم ختم نہ کیا جاسکا چنانچہ اب اس مہینے میں سرکار ی فنڈز کابیڑا اس نئے خیبر پختونخوا میں بھی غرق کرنے کاسلسلہ جاری ہے۔

اس کی ایک بڑی مثال سٹی سرکلر روڈ کی دیں گے جس پر اس وقت جی ٹی روڈ سے لیکر رامداس چوک تک کام جاری ہے حیر ت ہے کہ بالکل صحیح اور قابل استعمال حالت میں سڑک پر لکیریں کھینچنے کے بعد کروڑوں روپو ں کو آگ لگا کر دوبارہ بنایا جارہاہے حالانکہ آس پاس اسی شہر میں درجنوں سڑکوں کی ابتر حالت سب کے سامنے ہے مگر جون ازم کاچکر چل رہاہے اور میرٹ کاخون ہورہاہے اسی طرح سابقہ ادوار میں ایم اینڈ آر یعنی مینٹی نینس اینڈ ریپیئر فنڈ کا جس طرح حشر نشر ہوتا رہاہے بدقسمتی سے یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے یہ وہ فنڈ ہے جسکے متعلق ایم ایم اے دور میں اسمبلی کے فلور پر مرحوم بشیر بلور کہاکرتے تھے کہ سب سے آسان اور بھاری کرپشن اسی میں ہوتی ہے جون ازم کے حوالہ سے جب وزیر خزانہ کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کے دوران اس جانب توجہ مبذول کرائی گئی تو سیکرٹری خزانہ نے کھلے دل کے ساتھ اس کمزوری کااعتراف کیا اور کہاکہ اب اس حوالہ سے حکمت عملی وضع کی جارہی ہے یعنی موجودہ حکومت کے آخری سال میں اب اصلا ح احوال کی کوشش کی جائیگی جسکے بعدہمیں مزیدکسی تبصرہ کی ضرورت نہیں اسی طرح جب موجودہ حکومت نے ہسپتالوں میں اصلاحات کے نام پر مہم جوئی شروع کی تو ہمیں یادہے کہ ایک ملاقات کے دوران سینئر معالج اور ہمارے مہربان پروفیسر ڈاکٹر محمد داؤدنے یہ پیش گوئی کی تھی کہ یہ سسٹم حسب سابق ناکامی سے دوچارہوگا اوربہت ساوقت اورسرمایہ ضائع کرنے کے بعدہم پھر سے وہیں پر کھڑے ہونگے جہاں سے اصلاحات کاآغاز کیاہوگا ان کاکہناتھاکہ ہر حکومت یہی غلطی کرتی ہے کہ شعبہ صحت میں اصلاحات کاآغاز صوبہ کے تین بڑے ہسپتالوں سے کرکے پھر انہی ہسپتالوں تک محدودرہتی ہے۔

جس کے نتیجہ میں کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا انکی تجویز تھی کہ پشاور پر توجہ دینے سے پہلے صوبہ کے دوردراز اورپسماندہ اضلاع میں یاتو اعلیٰ معیار کے ہسپتال بنائے جائیں یاپھر موجودہ مراکز صحت کو تمام جدید سہولیات سے آراستہ کرکے مطلوبہ سٹاف فراہم کیاجائے اوراسکے بعدپابندی لگادی جائے کہ بلاضرورت کسی بھی مریض کو پشاور ریفر نہ کیاجائے اس سے پشاورکے ہسپتالوں پر بوجھ کم ہوتاجائے گا اورپھراصلاحاتی ایجنڈا نافذ کرنا آسان ہوگا مگریہاں آغازپھرپشاورسے کیاجا رہا ہے جس سے پھر مشکلات پیش آنے کاامکان ہے اور پھر گذشتہ دنوں ہمیں خود ایمرجنسی میں رات دس بجے جب ایل آر ایچ جانا پڑا تو اصلاحات کے دعوؤں کی حقیقت اور ڈاکٹر داؤد کی پیش گو ئی ہماری نگاہوں کے سامنے گھومنے لگی رہ گئے سرکاری سکول تو ایک لاکھ اکیاون ہزار بچے نجی سکولوں سے سرکاری سکولوں میں آنے کے حوالہ سے تفصیلات فراہم نہیں کی جارہیں اگر واقعی سرکاری سکولوں کامعیار مثالی بن گیاہے تو پھر اس سوال کاجواب بہت ضروری ہے کہ کتنے وزراء ‘حکومتی اراکین اسمبلی اور سرکاری افسران خاص طورپر محکمہ تعلیم کے افسران نے اپنے بچے نجی سکولوں سے اٹھاکر سرکاری سکولوں میں داخل کرائے ‘کیا یہ حقیقت نہیں کہ باقی لوگ تو ایک طرف خودسرکاری سکولوں کے اساتذہ کے بچے بھی آج نجی سکولوں میں ہی زیرتعلیم ہیں اور پولیس پربات کرنے کے بجائے محض آئی جی کا حالیہ اقدام ہی سوچنے کیلئے کافی ہے جس میں انہوں نے ڈیرہ کے چار ایس ایچ اوز کو بدترین الزامات پر ضلع بدر کردیاہے گویا بدلی ہوئی پولیس کے کرتوت وہی ہیں جو تبدیلی سے پہلے تھے پی ٹی آئی نے یقیناًاچھے کام بھی کئے ہیں اوراس سلسلے میں وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی کوششوں کا ذکرنہ کرنا بھی زیادتی ہوگی ۔

جنہوں نے صوبہ میں تبدیلی کے قافلہ کی اپنی استعداد کے مطابق قیادت کی اور وہ آج بھی اس حوالہ سے مصروف عمل ہیں اسی لئے تو آج نیپرا کے اجلاس میں خوب گرجے برسے ہیں تاہم ان سب کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ اچھے کام تو عمران خان کے علم میں لائے جاتے ہیں مگر حکومتی کمزوریوں کے حوالہ سے اصل حقائق ان سے پوشید ہ رکھے جارہے ہیں اور اگر اس آخری سال کے دوران عمران خان حکومتی کارکردگی کے حوالہ سے کھلی کچہریوں کاسلسلہ شروع کردیں تو پھر بہت سے پوشیدہ حقائق انکے سامنے آسکتے ہیں اوروہ اس آخری سال کے دوران بھی اصلاح احوال کیلئے کردار اد ا کرسکتے ہیں کیونکہ الیکشن کا سارا دارومدار اب اس آخری سال کی کارکردگی پرہی ہوگا سو اس آخری سال کو آخری موقع ہی سمجھنا چاہئے صوبائی حکومت ‘پرویز خٹک اور عمران خان کو صوبہ کے ان لاکھوں ووٹروں کو مایوس نہیں کرنا چاہئے جنہوں نے تبدیلی کے نعرے پرووٹ دیئے تھے اپنی کامیابیوں کیساتھ ساتھ اپنی ناکامیوں کا ادراک کرنے میں ہی کامیابی کاراز پوشید ہ ہے ۔