بریکنگ نیوز
Home / کالم / خطرے کی دستک !

خطرے کی دستک !

عراق اور شام میں گہرا اثرورسوخ رکھنے والی دہشت گرد تنظیم داعش کی پاکستان میں موجودگی کے شواہد ہمارے سکیورٹی اداروں کے لئے ایک نیا چیلنج ہیں‘ جس سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا۔ سات جون کو تہران میں سترہ ہلاکتوں کا سبب بننے والے پانچ ایرانی باشندوں کا تعلق بھی ’داعش‘ ہی سے بتایا گیا ہے۔ داعش کس کی تخلیق ہے‘ اس کی سرپرستی کون اور کیوں کر رہا ہے‘ اِس بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان کہ ’’ایران آج وہی کاٹ رہا ہے جو اِس نے بویا تھا۔‘‘ کو بطور حوالہ پیش کیا جارہا ہے اور اِس بیان کو ایران نے ناخوشگوار قرار دیا ہے۔ تہران حملوں کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سامنے آنے والے بیان کا آغاز متاثرین کے لئے افسوس اور ہمدردی سے کیا گیا لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ دہشت گردی کو فروغ دینے والے ریاستیں اسی برائی کا شکار ہوجاتی ہیں جسے انہوں نے پروان چڑھایا ہوتا ہے۔‘‘تہران میں پارلیمنٹ اور امام خمینی کے مزار پر فائرنگ و خودکش دھماکوں کی پاکستان‘ بھارت‘ افغانستان‘ امریکہ‘ برطانیہ‘ فرانس‘ جرمنی‘ روس اور اقوام متحدہ سمیت کئی دیگر ممالک نے شدید مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر افسوس کا اظہارکیا لیکن صرف مذمت سے کام نہیں چلے گا بلکہ دنیا کے وہ سبھی ممالک جو دہشت گردی کی مذمت کر رہے ہیں اُنہیں رنگ نسل اور مذہب سے بالاتر ہو کر اس خطرے کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ ریاض سربراہی کانفرنس میں امریکی صدر ٹرمپ اور سعودی فرمانروا شاہ سلمان کی جانب سے ایران کو دہشت گردوں کا سرپرست قرار دے کر اسکے خلاف کاروائی کا عندیہ دیاگیا اور مسلم ممالک سے ایران کیساتھ تمام تعلقات توڑنے اور اسے تنہا کرنے کا تقاضا کیا گیا ۔

جبکہ ایران نے جواب میں اسلامی فوجی اتحاد میں داعش کے عمل دخل کا الزام عائد کیا۔ اس کے ایک ہفتے بعد ایران میں داعش کے حملے ایران کے اس الزام کو جواز فراہم کرتے ہیں کہ حملوں کے پیچھے سعودی عرب اور امریکہ کا ہاتھ ہے۔ قطر کا سعودی عرب کی سربراہی میں چھ عرب ممالک نے بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ اس کی نوبت کیوں آئی؟اس سے خود صدر ٹرمپ نے پردہ اٹھایا ہے۔ وہ کہتے ہیں دہشت گردی کی مبینہ حمایت پر انہوں نے ہی عرب ممالک کو قطر کیساتھ تعلقات منقطع کرنے کو کہا تھا اس سے ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ریاض کانفرنس میں پچاس ممالک نے قطر کی جانب سے دہشت گردوں کی فنڈنگ کے معاملے میں سخت ایکشن لینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ ٹرمپ کہتے ہیں کہ انتہاء پسند نظریات کی فنڈنگ کی سب ممالک نے نشاندہی کی تھی۔ ٹرمپ کو جس کانفرنس کے دوران پچاس ممالک نے قطر کے خلاف سخت ایکشن لینے کی یقین دہائی کرائی‘ اس کانفرنس میں قطر بھی شامل تھا۔ اب قطر کا جس طرح ناطقہ بند کرنے کی کوشش کی جارہی ہے‘ اس سے امریکہ اور سعودی عرب کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ ایران کے خلاف بھی کہاں تک جا سکتے ہیں۔یہ صورتحال علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کیلئے انتہائی تشویشناک ہے۔ داعش پوری دنیا میں دہشتگردی کی تباہ کن کاروائیوں میں مصروف ہے۔ برطانیہ میں اس نے پے در پے دھماکے کئے‘ یورپ میں بربادی کررہی ہے‘ مسلم ممالک خصوصاً اسکے نشانے پر ہیں۔ سعودی عرب بھی محفوظ نہیں۔ ان حالات میں کیا امریکہ و سعودی عرب اور عرب ممالک نے پہلے ایران کیخلاف زور آزمائی کا فیصلہ کرلیا ہے؟داعش دن بدن پھلتی پھولتی جارہی ہے۔ ایران میں داعش کی یہ پہلی کاروائی ہے جسے آخری قرار نہیں دیا جا سکتا اسکا اثرورسوخ مشرق وسطیٰ سے جنوبی ایشیاء کی طرف ہورہا ہے۔ افغانستان میں یہ اتنی مضبوط ہوچکی ہے کہ اس نے کئی علاقے تسخیر کرلئے ہیں۔ افغانستان کے ذریعے یہ پاکستان میں بھی کاروائیاں کرچکی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا ماننا ہے کہ ایران میں ہوئی دہشت گردی افغانستان کے ذریعے کی گئی ہے۔

ایران میں افغان مہاجرین موجود ہیں‘ گو ان کو الگ تھلگ کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔ پاکستان میں مہاجرین کے بھیس میں دہشت گرد پکڑے گئے ہیں۔ ایران میں مہاجرین کیمپ دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ثابت ہو سکتے ہیں۔ افغانستان کے اندر طالبان بھی ابھی تک داعش کے خلاف کوئی واضح پالیسی نہیں بنا سکے۔ کچھ طالبان گروپس داعش کیساتھ ملکر سرکاری فوج کے خلاف لڑتے ہیں اور کچھ داعش کیخلاف ہیں یعنی طالبان میں اپنا بھی اتفاق نہیں لیکن طالبان اس بات سے ضرور حیران ہیں اور انہوں نے یہ نکتہ دوہا کانفرنس میں بھی اٹھایا کہ داعش کے پاس جدید ہتھیار‘ پیشہ ورانہ منصوبہ ساز اور بے تحاشا رقوم کہاں سے آ رہی ہیں؟ بین الاقوامی دنیا ان پر کنٹرول کیوں نہیں کرتی؟ داعش کے پاس وسائل کی فراوانی کا یہ عالم ہے کہ داعش کے ہر سولجر کو ماہانہ چھ سو ڈالر تنخواہ ملتی ہے جبکہ طالبان سولجرز کو بمشکل تین سو ڈالرز ملتے ہیں اس لئے کچھ لوگ طالبان اور سرکاری فوج سے بھاگ کر داعش کی طرف چلے جاتے ہیں اسی لئے داعش تیزی سے پھیل رہی ہے۔ تاجکستان کے ساتھ صوبہ کندوز پر یہ لوگ قابض ہو چکے ہیں۔ وہاں لگ بھگ داعش کے تین ہزار لوگ موجود ہیں۔ علاقے کی پولیس انہی کے ماتحت کام کر رہی ہے۔ ۔ دہرا معیار ترک کئے بناء داعش کا خاتمہ ممکن نہیں جو ایران کو اپنے لئے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ عالمی امن اور خود ان کیلئے بھی داعش بہت بڑا خطرہ ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر سرور عالم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)