بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / افغان الزامات کی حقیقت

افغان الزامات کی حقیقت


افغانستان میں دہشت گردی کے پے درپے واقعات کی روک تھام میں ایک بارپھر ناکامی کے بعد افغان صدر کا کابل میں قیام امن کے سلسلے میں منعقد ہونے والی پچیس ملکی کانفرنس سے خطاب کے دوران اپنی کوتاہیوں کے اقرار اورمستقبل میں دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کیلئے کوئی مکینزم اور لائحہ عمل دینے کی بجائے اپنی ناکامی کا نزلہ ایک بار پھر پاکستان پر سنگین الزامات اور دھمکیوں کی صورت میں گرانا نہ صرف حد درجے کی نااہلی کا ثبوت ہے بلکہ یہ طرز عمل سفارتی ‘اخلاقی اور ہمسائیگی کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔افغان صدر نے اس موقع پر جو لب ولہجہ اختیار کیا ہے اس کی مخالفت خود افغانستان کے اندر بھی کی جا رہی ہے حتیٰ کہ اب تو ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں پچھلے کئی دنوں سے کابل کی سڑکوں پرپرتشدد احتجاج بھی دیکھنے کو ملا ہے جس میں نصف درجن سے زائد مظاہرین کو ہلاک بھی کیا جا چکا ہے۔ پاکستان جو افغان گیدڑ بھبھکیوں پر ہمیشہ صبر وتحمل کا مظاہرہ کرتاآیا ہے کی جانب سے پہلی دفعہ نہ صرف عسکری سطح پر بلکہ اعلیٰ حکومتی سطح پر بھی افغانستان کی حالیہ دشنام طرازی کا نوٹس لے کرایک واضح اور متوازن جواب دینے پر مجبور ہوا ہے۔اس حوالے سے کور کمانڈرز کے اجلاس کی اس توجہ میں کافی وزن نظر آتا ہے کہ افغان حکومت کو دوسروں پر الزامات لگانے کی بجائے اپنی کمزوریاں تلاش کرکے اپنے اندر جھانکنا چاہئے۔یہ بات محتاج بیان نہیں ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ ہر موقع اور مرحلے پر افغانستان کی آزادی اور خود مختاری کا احترام کرتے ہوئے یہاں دہشتگردی کے خاتمے اور پائیدار قیام امن میں کلیدی اور قائدانہ کردار ادا کیا ہے لیکن بد قسمتی سے جب سے افغانستان میں غیر ضروری طور پر بھارتی عمل دخل میں اضافہ ہوا ہے اور افغان حکمران بھارتی بہکاوے میں آکر افغانستان میں تخریب کاری کے ہر واقعے کے الزامات پاکستان پر عائد کرنیکی غیر حقیقت پسندانہ اور غیر منطقی راستے پر گامزن ہوئے ہیں ۔

تب سے بعض مواقع پر پاکستان کو بھی تمام ترسفارتی اور اخلاقی احتیاط کے باوجود افغانستان کو اس کی اصل اوقات یاد دلانے کیلئے آئینہ دکھانے کا راستہ مجبوراً اختیار کرنا پڑرہا ہے۔ دوسری جانب پاکستان پر کابل بم دھماکوں کے یک طرفہ اور بے سروپا اور من گھڑت الزامات سے قطع نظر کابل دھماکوں کی تصاویر ‘ ویڈیوزاور خبریں دیکھ کر کسی بھی حساس‘ باضمیر اور درد مند انسان کیلئے اس کیفیت کو برداشت کرنا ممکن نہیں ہے حیرت یہ ہے کہ جب پاکستان دہشت گردی کے واقعات کے ہاتھوں خود زخمی زخمی ہے اور خو دمسلسل دباؤ کے شکنجے میں ہے ایسے میں کابل کی جانب سے بلا سوچے سمجھے اور بغیرکسی تحقیق اور ثبوت کے کابل بم دھماکوں کی ذمہ داری پاکستان پرعائد کرنے کا واضح مطلب اپنی کمزوری وکوتاہی دوسروں کے سرتھوپنے کے مترادف ہے۔

کابل دھماکوں کے حوالے سے یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ نہ صرف پاکستان نے بلکہ طالبان جن کی پشت پناہی کا الزام پاکستان پر افغان حکومت کی جانب سے بے سروپاطورپر عائد کیاجاتا ہے کی جانب سے بھی کابل دھماکوں سے نہ صرف اعلان لا تعلقی کیا گیا ہے بلکہ اس کی پرزور مذمت بھی کی گئی ہے دوسری طرف طالبان نے یہ ذمہ داری قبول نہ کرکے ا ن دھماکوں کے اصل ماسٹر مائنڈیعنی بھارتی خفیہ ایجنسیوں کو بھی بے نقاب کردیا ہے یہ حقیقت کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے کہ بھارت پاکستان کو گھیر کرکمزور بنانے کے مکروہ عزائم پر کاربند ہے ۔اس مکروہ سوچ کی ایک وجہ اگر دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ظلم وتشدد سے ہٹانا ہے توپاکستان مخالف ان منفی ہتھکنڈوں کا دوسرا مقصد سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ کے عظیم الشان اقتصادی منصوبوں میں پاکستان کی نمایاں اہمیت ہے جس نے بھارت کے متعصبانہ اور انتہا پسند حکمرانوں کوحواس باختہ کر رکھا ہے ۔دراصل یہی وہ عوامل ہیں جن کے باعث بھارتی خفیہ ایجنسیاں افغان سرزمین اور وہاں کے کمزور حکمرانوں کوپاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہیں۔