بریکنگ نیوز
Home / کالم / قانون سے کوئی بھی بالاتر نہیں

قانون سے کوئی بھی بالاتر نہیں

زرداری صاحب جب بھی ملک سے باہر چلے جاتے ہیں تو بلاول بھٹو قدرے آزاد نظر آنے لگتے ہیں اور کبھی کبھی انکے منہ سے ایسی باتیں ضرور نکل جاتی ہیں کہ جو عوام کے دل کی آواز ہوتی ہیں مثلاً اگلے روز انکایہ بیان کہ اگر (ن) لیگ نے عدالتوں سے پنگا لینے کی کوشش کی تو وہ عدالتوں کا ساتھ دیں گے بلاول نے یہ بھی کہا کہ بعض عدالتی فیصلوں سے پی پی پی جتنی متاثر ہوئی اتنی شاذ ہی کوئی سیاسی پارٹی متاثر ہوئی پر پی پی پی نے کبھی بھی عدلیہ سے تصادم کی راہ اختیار نہ کی یہ بات ہر پاکستانی محسوس کررہا ہے کہ دن بہ دن ن لیگ کے رہنماؤں کا عدالتوں کے بارے میں لب ولہجہ سخت سے سخت ہوتا جارہا ہے انکی زبان میں درشتی آتی جارہی ہے انکے چہروں سے گھبراہٹ بھی جھلک رہی ہے عدلیہ کے بارے میں ن لیگ کا ٹریک ریکارڈ کوئی زیادہ تسلی بخش نہیں سپریم کورٹ کی عمارت پر ماضی میں اس پارٹی کے بعض رہنماؤں نے جو حملہ کیا تھا وہ ایک ایسا داغ ہے کہ جو(ن) لیگ کے ماتھے سے شاید کبھی بھی مٹایا نہ جاسکے پارلیمانی جمہوریت میں سب ریاستی اداروں کا اپنا اپنا واضح کردار ہے انتظامیہ ہو کہ عدلیہ یا فوج ‘سب کیلئے آئین میں حدود وقیود مقرر کردیئے گئے ہیں اگر یہ سب ریاستی ادارے ان حدود وقیود کے اندر رہ کر اپنے فرائض منصبی ادا کریں تو کبھی بھی کسی قسم کی چپقلش پیدا ہی نہ ہو اس ملک کا المیہ یہ ہے کہ نام تو ہمارے حکمران جمہوریت کا لیتے ہیں پر انکے لچھن بادشاہوں جیسے ہوتے ہیں وہ صرف اپنے آپ کو دودھ کادھلا ہوا تصور کرتے ہیں کوئی آسمانی مخلوق اپنے آپ کو سمجھتے ہیں اور دیگر ریاستی اداروں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان کے ہر جائز اور ناجائزحکم پر لبیک کہیں انٹاروگیشن روم میں اگر حسین نواز کو ایک کرسی پر بٹھایا دکھا ہی دیا گیا۔

توآخر کونسی قیامت آگئی جس پر بھی کسی مقدمے میں الزامات لگتے ہیں تو اسے اپنی صفائی پیش کرنے کیلئے تحقیقاتی اداروں کے سوالوں کے جوابات دینے پڑتے ہیں اگرہمارے خلفائے راشدین عدالتوں کے سامنے پیش ہونے سے ہچکچاتے نہ تھے تو ہم کس باغ کی مولی ہیں کہ ہم کسی مقدمے میں اپنی صفائی پیش کرنے کیلئے کسی عدالت یا تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونیکا برامنائیں قانون سے کوئی بھی بالاتر نہیں اور اس کا عملی مظاہرہ آج ہم دیکھ رہے ہیں اچھا کا م ہو یا برا ایک دن وہ رنگ ضرور لاتا ہے مکافات عمل سے شاید ہی کوئی بچ سکے اب دیکھنا یہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے کوئی دن جاتا ہے کہ عدالت عظمیٰ کا پانامہ لیکس کے بارے میں فیصلہ آنے والا ہے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائیگا (ن) لیگ کے رہنماؤں نے حال ہی میں جو بیانات دیئے ہیں۔

ان کے بین السطور اگر دیکھا جائے تو صاف پتہ چلتا ہے کہ اگر فیصلہ ان کی توقعات کے مطابق نہیں آتا تو پھر وہ عوامی عدالت کے پاس جانیوالے ہیں اور عوامی عدالت سے ظاہر ہے ان کی مراد نئے الیکشن ہیں جو اس صورت میں اس سال کے اواخر میں بھی کرائے جاسکتے ہیں تب ہی تو کئی سیاسی پارٹیوں نے الیکشن مہم غیر اعلانیہ طور پر شروع کررکھی ہے ہماری دانست میں اگر آج الیکشن کا اعلان ہوجاتا ہے تو تن تنہا کوئی سیاسی جماعت بھی ازخود مرکز یا صوبوں میں حکومت بنانے کے قابل نہ ہوگی ہاں یہ اور بات ہے کہ معجزاتی طور پر کوئی سیاسی پارٹی الیکشن میں اس قسم کا جھاڑو پھیر دے کہ جو 1970ء کے الیکشن میں اس وقت کے مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان نے اور بھٹو نے مغربی پاکستان میں پھیراتھا پر معجزے روز روز تھوڑی ہوا کرتے ہیں۔