بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پیڈوکے چیف ایگزیکٹو کی تقرری غیر قانونی قرار

پیڈوکے چیف ایگزیکٹو کی تقرری غیر قانونی قرار


پشاور۔پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس روح الامین اور جسٹس محمد اعجاز انورپر مشتمل ڈویژن بنچ نیپختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن ( پیڈو )کے چیف ایگزیکٹیو کی تقرری کو غیرقانونی قرار دینے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں فاضل عدالت کوبیرسٹر مدثر امیرنے درخواست گزار فضل رحیم کی جانب سے دائر رٹ درخواست میں بتایا کہ درخواست گزار پیڈو میں اکاؤنٹنٹ کے فرائض سرانجام دے رہا ہے ، جبکہ اس نے پیڈو میں چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی میرٹ کے برخلاف تقرری کو چیلنج کیا ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ حکام نے پیڈو میں اکبر ایوب کو فروری2015 میں بطور چیف ایگزیکٹیو آفیسرپیڈو تعینات کیا تھا جبکہ چیف ایگزیکٹیوکی تقرری پیڈو ایکٹ1993 کے منافی ہے کیونکہ ایکٹ کے سیکشن 5 کے تحت چیف ایگزیکٹیوکے عہدے پر اس فرد کی تقرری کی جائے گی ،جسے شعبہ توانائی اور بجلی کا تجربہ ہو تاہم موجودہ سی ای او اکبر ایوب کو فنانس کا تجربہ ہے اور ان کا شعبہ توانائی سے کوئی تعلق نہیں رہا ، علاوہ ازیں پیڈو کے سی ای او کی تقرری کے وقت بورڈ آف گورنرز نے دیگر قابلیت کے اہل امیدواروں کو نظر انداز کر کے تعلقات کی بناء پرا کبر ایوب کی تقرری کی ۔انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ اکبر ایوب کی تقرری سے قبل پیڈو نے بہت سے توانائی کے منصوبوں اور چھوٹے بڑے بجلی کے ڈیمز بنانے کے حوالے سے متعلقہ حکام کو سفارشات دی تھی اور ان ڈیمز کی تعمیرات بھی ممکن تھی مگر اکبر ایوب کی تقرری کے بعد تاحال وہ ڈیمز نہیں بنے ۔

دوسری جانب متعلقہ حکام کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ چیف ایگزیکٹیو پیڈو اکبر ایوب کامختلف اداروں کے ساتھ کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے جبکہ سی ای او کی تقرری میرٹ کے تحت کی گئی ہے ، جس پر فاضل عدالت نے دو طرفہ دلائل مکمل ہونے پر پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن ( پیڈو )کے چیف ایگزیکٹیو کی تقرری کو غیرقانونی قرار دینے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔