بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاک افغان حکومت کی دہشت گردوں بارے حکمت عملی

پاک افغان حکومت کی دہشت گردوں بارے حکمت عملی

اسلام آباد۔ پاکستان اور افغانستان نے دہشت گرد گروپوں کے خلاف خصوصی کاروائیوں کے لیے چار ملکی رابطہ گروپ (کیو سی جی ) کے علاوہ باہمی ذرائع کو استعمال کرنے اور ان کاروائیوں کو وضح کرنے و نگرانی کے لیے باہمی مشاورت سے طریقہ کار طے کرنے پر اتفاق کیا ہے یہ اتفاق رائے آستانہ قازقستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم نواز شریف اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان ملاقات میں ہوا ہفتہ کو اس ملاقات کے حوالے سے اسلام آباد میں جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق باہمی ملاقات کے دوران وزیر اعظم نواز شریف نے افغانستان کے درالحکومت کابل میں حالیہ دہشت گرد حملوں خاص کر گذشتہ ہفتے کابل میں ٹرک خود کش حملیکی سخت الفاظ میں مذمت کی جس میں جانی نقصان کے علاوہ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ۔

نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن و استحکام بارے اپنے وعدے پر قائم ہے، افغانستان میں امن و استحکام اور معاشی ترقی کے لیے پاکستان کی کوششیں افغان بھائیوں کے لیے اسکے اپنے عزم کا معاملہہے وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی افغانستان اور پاکستان کے لیے مشترکہ خطرہ ہے پاکستان اور اسکی فورسز دہشتگردی کی لعنت کے خلاف بہادری سے جدوجہد کررہی ہیں پاکستان نے حالیہ سالوں میں اس جدوجہد کے دوران مالی جانی اور معاشی قربانیاں پیش کیں ہیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان قریبی تعاون ہمارے علاقے سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے ۔

ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دہشت گرد گروپوں کے خلاف خصوصی اقدامات اٹھانے کے لیے چار ملکی رابطہ گروپ کے علاوہ باہمی ذرائع استعمال کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ ایسی کاروائیوں کو وضح کرنے اور نگرانی کے لیے باہمی مشاورت سے ایک طریقہ کار طے کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے دونوں رہنماؤں نے کیو سی جی کو افغانستان میں امن اور مصالحت کو فروغ دینے کی خاطر استعمال کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے وزیر اعظم پاکستان نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا مصالحت اور سیاسی مذاکرات افغان تنازعے کا بہترین حل ہے اس سلسلے میں انہوں نے افغان کے زیر قیادت مصالحتی عمل میں مدد دینے کے لیے پاکستان کی سنجیدہ کوششوں کو اجاگر کیا۔