بریکنگ نیوز
Home / کالم / لطیفہ‘ آکٹیو یو پاز اور فرائڈ

لطیفہ‘ آکٹیو یو پاز اور فرائڈ

نوبل انعام یافتہ جنوبی امریکی مصنف آکٹیویوپاز اپنے ایک مضمون میں لطیفوں کے بارے میں کہتے ہیں’’ شاعری کے سمبل اوراشارے اور لطیفے دراصل ایک دورخی حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہیں… آرٹ اور لطیفے کی بنیاد ایک ہی ہے اور فرائڈ نے اپنا ایک مشہور مضمون اس موضوع پر لکھا ہے لکھی شاعری اور لطیفہ دونوں مسرت کے اظہار کے طریقے ہیں اگرچہ یہ عارضی نوعیت کی ہوتی ہے اور محض ایک تصور ہوتا ہے اگرچہ لطیفہ عارضی ہوتا ہے جبکہ آرٹ میں آگے بڑھنے کی صلاحیت ہوتی ہے اب آپ کو یقین آگیا ہوگا کہ میں لطیفہ گو حضرات کو ہر گز مسخرے نہیں سمجھتا‘ پاز اور فرائڈ دونوں لطیفے کو آرٹ کے برابر جگہ دیتے ہیں‘ چنانچہ اگر ہم لطیفے کو… ایسے لطیفے کو جو بہت مدت تک عوام الناس کی نفسیات میں شامل رہتا ہے اور اسکی کشش میں کمی نہیں ہوتی‘ تصوف کا ایک پرتو قرار دیتے ہیں تو اس توجیہہ پر سنجیدگی سے غور کرنیکی ضرورت ہے… میں ایک مرتبہ پھر ادریس شاہ کی کتاب’’ دے صوفیز‘‘ کی جانب رجوع کرتا ہوں‘ یہ کتاب بنیادی طور پر یورپی لوگوں کیلئے آسان اشاروں کو بروئے کار لاتے ہوئے لکھی گئی تھی تاکہ وہ آسانی سے مشرق کے تصوف کی جڑوں تک پہنچ سکیں‘ میں نے آج سے تقریباً پچیس برس پیشتر جب اس کتاب کا مطالعہ کیا تو میں ایک حیرت بلکہ بے یقینی سے دوچار ہوا کہ جہاں اس میں عظیم صوفیاء کرام کے بارے میں مضامین تھے وہاں فرید الدین عطار اور جنید بغدادی وغیرہ کے ہمراہ ملا نصیر الدین پر بھی ایک تفصیلی باب تھا… یا وحشت ایک لطیفے باز شخص ایک صوفی کیسے قرار دے دیاگیا… ادریس شاہ اس ردعمل کی توقع رکھتے تھے کہ لوگ ملا نصیر الدین کو اس فہرست میں شامل دیکھ کر اس امر کی توجیہہ جاننا چاہیں گے‘ شاہ صاحب نے اسے کچھ یوں بیان کیا کہ…

اور انہوں نے بھی شاید فرائڈ کے مضمون سے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ… جتنے بھی لطیفے وقت کی سرحدوں کے پارے چلے جاتے ہیں‘ صدیوں تک لوگوں کو نہ صرف محظوظ کرتے ہیں بلکہ ان کی سوچ کو مہمیز دیتے ہیں ان سب میں ایک صوفیانہ سوچ پوشیدہ ہوتی ہے‘ … ادریس شاہ نے ملا کے مختلف لطیفوں کو اس پیمانے پر پرکھا اور واقعی وہ سب تصوف کی گہری رمز سے منسلک تھے… ان میں ایک تو وہی گدھے کو بولنے والا لطیفہ تھا کہ بیوقوف تم ہو جس نے میری زبان پر اعتبار نہیں کیا گدھے کی زبان پر اعتبار کرلیا اور دوسرا ڈبل روٹی اور شیر والا تھا… ملا ہر روز نہایت اہتمام سے اپنے صحن میں ڈبل روٹی کے ٹکڑے بکھیردیتے تھے…کسی نے پوچھا کہ ملا ایسا کیوں کرتے ہو تو ملا کہنے لگے’’ ڈبل روٹی کے ٹکڑے بکھیرنے سے شیر میرے صحن میں نہیں آتے‘‘… اس پر سوال کرنے والے نے نہایت حقارت سے کہا’’ ملا… بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ڈبل روٹی بکھیرنے سے شیر تمہارے صحن میں نہ آئیں‘‘ تو ملا نے نہایت تحمل سے کہا ’’ کیا تم نے آج تک میرے صحن میں کوئی شیر دیکھا ہے؟…‘‘ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ کھوج لگائیں کہ اس لطیفے میں آخر وہ کونسی کشش ہے کہ یہ سینکڑوں برس بعد بھی ہمیں ایک سوچ میں تو مبتلا کرتا ہے… بہرطور میں نے سوچا کہ مجھے مقامی لطیفوں کے حوالے سے پرکھنا چاہئے کہ کیا ان میں بھی تصوف کا کوئی پوشیدہ پہلو موجود ہے کہ وہ بھی ایک مدت سے دوہرائے جارہے ہیں۔

اور بے شمار لطیفوں کی مانند فراموش نہیں کئے گئے اور شاید آپکو بھی کچھ صدمہ ہو کیونکہ مجھے تو ہوا کہ سکھوں کے بیشتر لطیفوں پر اس کلیے کا اطلاق ہوتاہے اور ثابت ہوتا ہے کہ سکھوں میں ایک طاقتور روایت ہے… آیئے اس حوالے سے چند سردار لطیفوں کو ایک نئے رخ سے پرکھتے ہیں…تقسیم سے پیشتر روزانہ امرتسر اور جالندھر وغیرہ سے سکھ نوجوان فلمیں دیکھنے اور ہلا گلا کرنے لاہور آتے تھے کہ لاہور ایک تہذیبی اور ثقافتی شہر ہوا کرتا تھا جہاں نہ صرف متعدد تھیٹر تھے جن میں عزیز تھیٹر سب سے مشہور تھا بلکہ درجنوں ان زمانوں کے معیار سے جدید سینما گھر تھے جن میں نہ صرف تازہ ترین فلمیں دکھائی جاتی تھیں بلکہ فلم کے آغاز سے پیشتر سٹیج پر’’ زندہ ناچ گانا‘‘ بھی ہوا کرتا تھا… امرتسر وغیرہ سے لاہور آنیوالے سکھ نوجوان ہمیشہ ٹرین پر آتے اور ’’بے ٹکٹے‘‘ یعنی ٹکٹ کے بغیر آتے … یا تو لاہور سٹیشن کی قربت پر جب ٹرین کی رفتار کم ہوتی تو چھلانگیں مار کر اتر جاتے اور یا پھر لاہور پہنچ کر ٹکٹ چیکر سے نظریں بچا کر باہر نکل جاتے… تو یوں ایک شب پانچ چھ سکھ ٹکٹ چیکر جب دیگر مسافروں کے ٹکٹ چیک کر رہا تھا وہ چپکے سے باہر کھسک گئے… البتہ ایک سکھ نوجوان پیچھے رہ گیا اور جب اس نے کھسکنے کی کوشش کی تو ٹکٹ چیکر نے اسے پکڑلیا… اس دوران اس کے ساتھی سٹیشن سے باہر ایک ٹانگے والے سے میکلوڈ روڈ جانے کا بھاؤ تاؤ کر رہے تھے… یہ آخری سکھ جو پکڑا گیا اس نے اپنے ساتھیوں کو آواز دے کر کہا ’’اوئے واپس آجاؤ‘ ہم سب پکڑے گئے ہیں‘‘… اب ذرا غور کیجئے کہ کیا اس میں ایک سبق پنہاں نہیں ہے… اپنے دوستوں کے چناؤ میں احتیاط برتو… کوئی ایک اپنی بیوقوفی سے تمہیں بھی ذلیل و خوارکر سکتا ہے…سفر کے ساتھیوں کے بارے میں بھی چھان پھٹک کر لو کہ ان کی لیاقت کا معیار کیاہے…انہی دنوں ایک اور سردار لطیفہ گردش میں ہے اور آپ جانتے ہیں کہ سکھ وہ واحد قوم ہے جو اپنے آپ پر ہنس سکتے ہیں‘ اپنے لطیفے خود مزے لے لیکر سناتے ہیں بلکہ خشونت سنگھ نے تو سکھوں کے لطیفوں کے کئی مجموعے ترتیب دیئے…

تو تازہ ترین ‘ کم از کم میں نے یہ لطیفہ چند روز پیشتر پہلی بار سنا کچھ یوں ہے کہ تین سردار ایک ہی چارپائی پر بمشکل لیٹے ہوئے تھے‘ کروٹ بدلنے کو بھی جگہ نہ تھی تو ان میں سے ایک نے رضاکارانہ طورپر پیشکش کی کہ وہ چارپائی سے اتر کر نیچے فرش پر لیٹ جاتاہے چنانچہ وہ اترا اور لیٹ گیا…کچھ دیر بعد چارپائی پرلیٹے ہوئے ایک سکھ نے اس کا نام لیکر اسے پکارا اور کہا’’ اوئے چارپائی پر اب بہت جگہ ہوگئی ہے… واپس آجاؤ‘‘… اس لطیفے میں تصوف کی رمز تلاش کرنے کیلئے میں آپکے ذوق تصوف کو دعوت دیتا ہوں‘ یہ سب لطیفے اپنی جگہ لیکن ایک سردار لطیفے نے نہ صرف مجھے چونکایا بلکہ مکمل طورپرقائل کر دیا کہ سدا بہار لطیفے دراصل اپنے اندر تصوف کا ایک پوشیدہ پرتو رکھتے ہیں‘ ایک سردار جی نہایت اہتمام سے چائے پی رہے تھے… وہ ایک گھونٹ بھرنے کے بعد چائے کو ایک چمچے سے خوب ہلاتے‘ چمچہ چائے میں پھیر کر ایک گھونٹ بھرتے اور پھر مسکرانے لگتے… وہ یہ عمل باربار دوہراتے رہے… ہر گھونٹ کے بعد چائے کو چمچے سے ہلاتے‘ ایک اور گھونٹ بھرتے اور مسکرانے لگتے… نزدیک بیٹھے ایک صاحب نے پوچھا کہ سردار جی آپ ہر بار چائے کو چمچے سے ہلاکر گھونٹ بھرنے کے بعد مسکراتے کیوں ہیں؟ تو سردار جی نے کہا کہ… ایک بات آج ثابت ہوگئی ہے… چائے میں اگرچینی نہ ڈالو تو لاکھ اسے چمچے سے ہلاؤ وہ میٹھی نہیں ہوتی…اگر نیک اعمال کی چینی آپکی حیات میں نہ ہو تو آپ لاکھ عبادتیں کریں‘ تسبیح پھرولیں‘ فیصلہ تو اعمال کی چینی سے ہوگا ورنہ روز حشر آپکی پوری زندگی کی چائے پھیکی ہی رہے گی… شاہ حسین اور بلھے شاہ کے اکثر شعروں میں یہی پیغام ہے کہ اگر عمل مفقود ہے تو تم پھیکے کے پھیکے رہو گے… کبھی میٹھے نہ ہوگے…اچیاں بانگاں اوہوڈیسن… نیت جنہاں دی کھوٹی…