بریکنگ نیوز
Home / کالم / شنگھائی کانفرنس : پاک بھارت اور علاقائی تعاون!

شنگھائی کانفرنس : پاک بھارت اور علاقائی تعاون!

شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس منعقدہ آستانہ (قازقستان)کے موقع پر وزیراعظم نوازشریف کی اپنے ہم منصب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے غیررسمی ملاقات اور مصافحہ خبروں کی زینت بنا جس میں اطلاعات کے مطابق مودی نے وزیراعظم نوازشریف سے ان کی والدہ اور فیملی کا حال احوال پوچھا‘آستانہ پہنچنے پر وزیراعظم نوازشریف نے خلیجی ممالک کو بحران کے حل کے لئے ثالثی کی پیشکش کی اور کہا کہ سعودی عرب‘ ایران‘ قطر سمیت تمام عرب ممالک کیساتھ ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں‘ پاکستان معاملہ کو سفارتی سطح پر حل کرنیکی کوشش کریگا۔ دفتر خارجہ کے بقول پاکستان کو عرب ممالک میں موجود کشیدگی پر تشویش ہے اور پاکستان تمام ممالک کا اتحاد چاہتا ہے یہ خوش آئند صورتحال ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں پاکستان کو علاقائی تعاون کی اس تنظیم کی مستقل رکنیت حاصل ہوگئی ہے جبکہ پاکستان دوہزار پانچ سے اس تنظیم کے سربراہی اجلاس میں بطور مبصر شریک ہورہا تھا۔ چین کی جانب سے پہلے ہی پاکستان کو شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت پر خوش آمدید کہا جا چکا ہے جبکہ آستانہ میں وزیراعظم نوازشریف کی چین‘ روس‘ افغانستان اور منگولیا کے صدور اور دیگر رکن ممالک کے نمائندگان سے ملاقاتیں ہوئیں جن میں بطور خاص پاکستان چین اقتصادی راہداری‘ افغانستان‘ پاکستان کشیدگی اور سعودی عرب کے ایران اور قطر کیساتھ تنازعات کے باعث خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر چین کے صدر شی جن پنگ اور افغان صدر اشرف غنی کی الگ سے ملاقات بھی ہوئی جس میں دونوں ممالک کے مابین ون بیلٹ اینڈ روڈز منصوبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا جبکہ چینی صدر نے افغان امن عمل میں تعمیری کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ وزیراعظم نوازشریف پہلے ہی افغانستان میں امن و استحکام کی ضرورت پر زور دے چکے تھے جنکے بقول غیرمستحکم افغانستان کے پاکستان پر بھی اثرات پڑیں گے اسلئے افغانستان میں استحکام ہماری بھی ضرورت ہے ‘شنگھائی تعاون تنظیم علاقائی تعاون کے حوالے سے بلاشبہ مؤثر تنظیم ہے اور جس کے وساطت سے تنظیم کے رکن ممالک کے باہمی تنازعات کے حل کے لئے بھی آواز اٹھائی اور پیش رفت کی جا سکتی ہے اس لئے اس تنظیم کی مستقل رکنیت حاصل کرنا پاکستان کی ضرورت تھی چونکہ بھارت کو بھی گزشتہ روز کے سربراہی اجلاس میں ہی شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت ملی ہے اس لئے کوئی بعید نہیں کہ وہ اس پلیٹ فارم کو بھی پاکستان کو عالمی تنہائی کا شکار کرنیکی اپنی سازشوں کو فروغ دینے کیلئے استعمال کرنیکی کوشش کرے۔

اس تناظر میں پاکستان کا اس پلیٹ فارم پر موجود ہونا اور بھی ضروری ہے اور یہ خوش آئند صورتحال ہے کہ اس پلیٹ فارم پر چین اور روس جیسے ہمارے قابل اعتماد دوست پہلے ہی موجود ہیں اور چین پاکستان بھارت تنازعات بالخصوص مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کا کھلا حامی ہے جبکہ سی پیک میں شمولیت کے ناطے روس اور شنگھائی تعاون تنظیم کے دیگر رکن ممالک کی بھی پاکستان کے ساتھ قربتیں بڑھ رہی ہیں۔ سردست پاکستان کو بھارت کے علاوہ افغانستان اور ایران کی جانب سے بھی سرحدی کشیدگی کا سامنا ہے جبکہ افغانستان اور ایران کیساتھ سرحدی کشیدگی میں بھی بھارت ہی کا عمل دخل ہے دوسرا رخ یہ ہے کہ اگر چین کو افغانستان کے عدم استحکام پر بھی تشویش ہے جو درحقیقت بھارت کا پیداکردہ ہے تو افغانستان میں امن کی بحالی کیلئے چین کی کوششیں کارآمد ثابت ہو سکتی ہیں جبکہ افغانستان میں امن کی بحالی کی خود پاکستان کو بھی ضرورت ہے اور پاکستان کو چاہئے کہ وہ بھارتی سازشوں کے ثبوت شنگھائی تعاون تنظیم کے سامنے بھی رکھے تاکہ بھارت کو یہ پلیٹ فارم پاکستان کیخلاف استعمال کرنے کا موقع نہ مل سکے۔

علاقائی اور عالمی قیادتوں سے وزیراعظم نواز شریف کی ملاقاتوں اور رابطوں کے دوران خلیجی ممالک کی باہمی کشیدگی پر بطور خاص تبادلہ خیال اور ترک صدر اردوان کے میاں نوازشریف سے ٹیلی فونک رابطے کے دوران خلیجی تنازعہ بات چیت کے ذریعے حل کرانے پر اتفاق غیرمعمولی ہیں۔ اس تناظر میں وزیراعظم نے کردار ادا کرنیکا عندیہ دیکر پاکستان کے مناسب مؤقف کی وکالت کی ہے کیونکہ ہم سعودی عرب‘ ایران اور قطر کے باہمی تنازعہ میں فریق بننے کے کسی صورت متحمل نہیں ہو سکتے۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر رفعت حسین۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)