بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / ایس سی او رکنیت‘وزیراعظم کی ملاقاتیں

ایس سی او رکنیت‘وزیراعظم کی ملاقاتیں


وزیراعظم نوازشریف کا دورہ آستانہ پاکستان کیلئے شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت ملنے کے ساتھ افغان صدر اشرف غنی سمیت دیگر رہنماؤں کیساتھ ملاقاتوں کے حوالے سے اہمیت کا حامل قرار دیاجاسکتا ہے، پاکستان 2005ء سے شنگھائی تعاون تنظیم کے مبصر کی حیثیت سے کام کررہا تھا، 2010ء میں مکمل رکنیت کی درخواست دی گئی جس کے نتیجے میں تنظیم کی سٹیٹ قونصل کے سربراہان کے 17ویں اجلاس میں یہ رکنیت دی گئی، سربراہی اجلاس کی سائیڈ لائن پر وزیراعظم نوازشریف نے دیگر رہنماؤں کیساتھ افغانستان اور روس کے سربراہوں سے بھی ملاقاتیں کیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ ملاقات میں وزیراعظم نوازشریف نے بھارتی مداخلت اور مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانیوالے مظالم کی تفصیلات سے آگاہ کیا، رپورٹس کے مطابق افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات میں وزیراعظم نوازشریف نے افغانستان کی جانب سے پاکستان پر لگائے جانیوالے بے بنیاد الزامات کو مسترد کرنے کے ساتھ یہ پیشکش بھی کی کہ دونوں ملک مل کر دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ دیں، رپورٹس کے مطابق نوازشریف اور اشرف غنی کے درمیان ملاقات 30منٹ کیلئے طے تھی ۔

جس کا دورانیہ ایک گھنٹے سے بھی زیادہ رہا، افغان صدر کو بتایاگیا کہ مسائل بات چیت کے ذریعے حل ہوسکتے ہیں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور افغان صدر کیساتھ ملاقاتوں میں بھارت اور افغانستان سے متعلق پاکستان کا موقف واضح ہوتا ہے، عالمی برادری کو بھارتی مداخلت اور مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانیوالے مظالم کا نوٹس لینا ہوگا تاکہ خود اس کی غیر جانبداری پر کوئی حرف نہ آئے، دوسری جانب افغانستان کے حکمرانوں کو اب احساس کرنا ہوگاکہ پاکستان معاملات بات چیت کے ذریعے طے کرنے اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پہلے کی طرح پرعزم ہے، ایسے میں کابل کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ بیانات کا سلسلہ اب ختم ہونا چاہئے، افغانستان کو بھارتی لب ولہجے میں بات چھوڑ کر پاکستان کیساتھ بہتر بارڈر مینجمنٹ اور تجارتی روابط بڑھانے پر توجہ دینی چاہئے، اسی سے بہتری کی مزید راہیں ہموار ہوں گی، جو وقت کا تقاضا اور ضرورت ہیں۔

وائس چانسلروں کی تعیناتی

خیبرپختونخوا کی سرکاری یونیورسٹیوں میں وائس چانسلروں کی تقرری کردی گئی ہے صوبے میں بعض یونیورسٹیاں ابھی نئی ہیں جن میں عمارات کی تعمیر اور تعلیمی سرگرمیوں میں تیزی کیلئے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے اس مقصد کیلئے مستقل وائس چانسلرز کا ہونا زیادہ ضروری تھا پرانی جامعات میں بھی بعض انتظامی امور مستقل وائس چانسلرز کی تقرری کے متقاضی تھے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکاری یونیورسٹیوں کے وسائل میں مزید اضافہ کیا جائے تاکہ ہر جامعہ میں نئے ڈسپلن شروع کئے جاسکیں‘اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا تاہم اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ نئے ادارے قائم کرنے کیساتھ پہلے سے موجود اداروں کو مستحکم کرنا بھی ضروری ہے وفاقی حکومت نے وژن 2025ء کے تحت اعلیٰ تعلیم کیلئے 35 ارب روپے سے زائد کے فنڈز مختص کئے ہیں جس میں 15نئی تحقیقی جامعات کا قیام بھی شامل ہے اس کیساتھ فاٹا یونیورسٹی کے ذیلی کیمپس قائم کرنے کا منصوبہ بھی اس پروگرام کا حصہ ہے ضرورت اس بڑے پروگرام سے مستفید ہونے کیلئے ہوم ورک کی بھی ہے تاکہ صوبے میں اعلیٰ تعلیم کا فروغ ممکن ہوسکے۔