بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / مغربی روٹ

مغربی روٹ

پہلے توصوبائی حکومت اور قوم پرست سیاسی جماعتوں کی طرف سے مغربی روٹ کو نظرانداز کئے جانے کیخلاف آوازیں اٹھا کرتی تھیں حتیٰ کہ صوبائی اسمبلی کے سپیکرنے تو اس حوالہ سے عدالت عالیہ میں رٹ پٹیشن تک دائر کردی تھی وزیراعلیٰ پرویز خٹک کالب ولہجہ بھی خاصا تلخ رہا اور وہ مغربی روٹ کو نظر انداز کئے جانے کیخلا ف کھل کربولتے رہے مگر پھرنجانے کیاہواکہ رفتہ رفتہ اس حوالے سے مخالفانہ آوازیں دبتی چلی گئیں نومبر میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال صوبائی حکومت کے تحفظات دور کرنے کیلئے پشاور آئے اورپھر راوی ہر طرف چین ہی چین لکھنے لگا حتیٰ کہ کاریڈورفرنٹ کے نام سے بننے والی تنظیم بھی کہیں گم ہوگئی ایسا دکھائی دینے لگاکہ اب مغربی روٹ کامسئلہ ہمیشہ کیلئے حل ہوگیاہے پھر وزیر اعلیٰ اور صوبائی وزراء نے چین کے دورے کئے اور بہت سارے معاہدوں پر دستخط کرکے آگئے اسکے بعد چاروں وزراء اعلیٰ پچھلے دنوں وزیر اعظم کیساتھ چین گئے جسکے بعدتو مغربی روٹ کے حوالہ سے تمام ترگردوغبار چھٹنے کے آثار نظر آنے لگے مگر حقیقت کچھ اور تھی جس کی طرف سال بھرپہلے انہی سطور میں اشارہ کیا گیاتھا ہمیں مطمئن کرنے کے لیے ہکلہ ڈیرہ موٹروے پر تو کام شروع کردیاگیا اورکہاجانے لگا کہ یہ مغربی روٹ ہے سال بھر پہلے راقم نے ہی اس حوالہ سے بارہالکھا اوربلوچستان کے حکومتی سینیٹرز کیساتھ بات چیت کی روشنی میں یہ انکشاف کیاگیاکہ مغربی روٹ کی تعمیرکیلئے ابھی تک وفاقی حکومت نے بلوچستان حکومت کے ساتھ زمین کے حصول کے لئے کوئی رابطہ تک نہیں کیا ہم نے عرض کیا تھاکہ ڈیرہ کے بعدیہ مغربی روٹ کیا ہوا میں گوادر تک جائے گا انہی سطور میں صوبہ کی تمام سیاسی جماعتوں اورصوبائی حکومت کی توجہ بھی اس طرف مبذول کرانیکی کوشش کی گئی مگر کسی نے ہماری نہ سنی اورمرکزی حکومت کی یقین دہانیوں کوکافی سمجھاجانے لگا مگر اب پھر اس حوالہ سے یہ اطلاعات آنے لگی ہیں کہ وفاقی حکومت نے مغربی روٹ کو سرد خانے کی نذر کرکے تمام فنڈز مشرقی روٹ کی فوری تکمیل کیلئے مختص کردیئے ہیں مغربی روٹ کی تعمیرکیلئے زمینوں کے حصول کیلئے 56ارب کی لاگت کاتخمینہ لگایا گیا تھا۔

یہ روٹ ڈیرہ اسماعیل خان سے ہوتے ہوئے پھر ضلع شیرانی‘ ژوب ‘چمن ‘کوئٹہ ‘مستونگ اورقلات سے گذر کرگوادرجاتاہے مگر تاحال بلوچستان میں زمینوں کے حصول کیلئے مرکزی حکومت نے صوبائی حکومت کیساتھ کو ئی رابطہ نہیں کیا اوراسی لئے ڈیرہ سے قلات تک سڑک کی تعمیر کیلئے کسی قسم کی سرگرمی نظر نہیں آرہی صر ف ہکلہ سے ڈیر ہ تک 285کلو میٹر شاہراہ کیلئے زمین خرید ی گئی ہے جس پرتیرہ ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں تاہم ڈیرہ سے قلات تک مغربی روٹ کی تعمیرکیلئے کوئی سرگرمی نظر نہیں آرہی کیونکہ مرکزی حکومت کی ترجیح آج بھی مشرقی روٹ ہی ہے اوراگر ایک بار مشرقی روٹ پر ٹریفک رواں دواں ہوگئی تو پھر مغر بی روٹ ہمیشہ کیلئے قصہ پارینہ بن جائیگا اس حوالہ سے سب سے تشویشناک امریہ ہے کہ پارلیمان کی سی پیک کمیٹی میں بلوچستان حکومت کی طرف سے یہ واضح طور پر کہاگیاہے کہ وفاقی حکومت نے مغربی روٹ کی تعمیر کیلئے زمینوں کے حصول کی غرض سے تاحال کوئی رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی اس حوالہ سے فنڈز رکھے گئے ہیں۔

خودبعض سرکاری افسران کی طر ف سے آف دی ریکارڈ یہ کہاجانے لگاہے کہ مغربی روٹ کے فنڈز اب مشرقی روٹ کی طرف موڑ دیئے گئے ہیں بد قسمتی یہ ہے کہ اس حوالہ سے وفاقی وزارت منصوبہ بندی نے نومبر کے بعدسے صوبہ کی حکومت و میڈیاکے ساتھ کسی قسم کاکو ئی رابطہ نہیں رکھا نہ رابطوں پرکوئی جواب ملتاہے جسکے بعداب خدشہ بڑھ گیاہے کہ مغربی روٹ پھر سے نظر انداز ہوگیاہے ویسے بھی وفاقی حکومت نے چھوٹے صوبوں کیساتھ کئے گئے باقی وعدے کونسے پورے کئے کہ مغربی روٹ پر کئے گئے وعدوں کاپاس رکھاجائے گا تاہم حیر ت اس امر پر ہے کہ ہماری تمام سیاسی جماعتیں اور خودصوبائی حکومت بھی اب خاموش نظر آنے لگی ہے اس سلسلے میں یہ کہاجارہاہے کہ اندرون خانہ ہرکسی کے ساتھ کوئی نہ کوئی ڈیل ہورہی ہے کسی کیلئے گیس کے ڈائریکٹیوز ایشو کئے جارہے ہیں تو کسی کے بجلی کے مسائل حل کروائے جارہے ہیں یعنی سب کو راضی رکھنے کا اہتمام ہورہاہے خدا کرے کہ یہ صرف افواہیں ہوں بصورت دیگر مغربی روٹ ہمیشہ کیلئے ہمارے ہاتھ سے نکلنے والاہے۔