بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / بھارتی دھمکیوں کا بھرپور جواب

بھارتی دھمکیوں کا بھرپور جواب

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھارتی فوج کے سربراہ کی اڑھائی فرنٹ جنگ کی دھمکیوں کا بھرپور جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اڑھائی فرنٹ کی بجائے جتنے بھی محاذہوں پاک فوج ہر جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے قابل ہے جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاک فوج وطن کو درپیش دفاعی اور سلامتی کے چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہے اور ہر محاذ پر دشمن کو عبرتناک شکست دینے کی بھرپور صلاحیت سے مالا مال ہے، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف کے مظفر آباد سیکٹر میں ایل او سی کے دورے میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ جوانوں کی آپریشنل تیاریاں مثالی اور حوصلے بند ہیں، بھارت مقبوضہ کشمیر میں حق خودارادیت کا مطالبہ کرنیوالے شہریوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑرہا ہے، مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق سے متعلق عالمی قاعدے قانون کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں، یہی نہیں بلکہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھی کئی دہائیوں سے نظر انداز کیاجارہا ہے، یہ بات بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ بھارت اپنے حالات سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے نت نئے ڈرامے رچا تا رہتا ہے، ان ڈراموں میں پاکستان کیخلاف بے بنیاد الزامات بھی عائد کئے جاتے ہیں، اس سب کیساتھ لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

گزشتہ روز بھی بھارتی فورسز نے ایل او سی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 70سالہ شخص شہید ہوا ، پاک فوج کی بھرپور جوابی کاروائی پر بھارتی توپیں خاموش ہو گئیں، دوسری جانب پاکستان بھارت کیساتھ تمام تصفیہ طلب معاملات بات چیت کے ذریعے طے کرنے کی خواہش ظاہر کرچکا ہے، بھارت ایک سے زائد مرتبہ بات چیت کے عمل کو عین آخری وقت پر سبوتاژ بھی کرچکا ہے، پاکستان کی کشمیر سے متعلق پالیسی واضح ہے، آرمی چیف بھی بھارتی مظالم کے خلاف شہریوں کے عزم کو سراہتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان حق خود ارادیت کے حصول کیلئے کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا، یہ حق عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے، بھارت کو چاہئے کہ وہ دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے ڈرامہ بازی بند کرے۔

پشاور کیلئے مستقل ٹریفک پلان؟

ٹریفک وارڈن پولیس نے رمضان المبارک کے دوسرے عشرے سے رش میں اضافے کیساتھ ٹریفک کی روانی کیلئے اقدامات اٹھائے ہیں، ٹریفک وارڈن پولیس کو تین شفٹوں میں ڈیوٹی دیدی گئی ہے، آخری شفٹ رات ایک بجے تک ہوگی، شہر میں گیارہ ٹریفک موبائل اور 20سے زائد رائیڈرز بھی ہیں، پشاور میں ٹریفک کے سنگین مسئلے کا ادراک قابل اطمینان سہی تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ٹریفک کی روانی کیلئے اب تک اٹھائے گئے اقدامات کسی صورت ثمر آور ثابت نہیں ہوپارہے، اس کی ایک وجہ تمام وسائل اور توجہ ایک ہی سڑک تک محدود رکھنا ہے، ہمارے منتظمین کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ پشاور صرف جی ٹی روڈ تک محدود نہیں، عارضی اقدامات کیساتھ مستقل ٹریفک پلان کی ضرورت ابھی تک اپنی جگہ ہے، اس پلان میں ٹریفک انجینئرنگ کی تکنیک اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی مشاورت ناگزیر ہے ایک ادارے کے اقدامات سے دوسرے اداروں کا بے خبر ہونا ہماری پلاننگ کا بہت بڑا سقم ہے یہی وجہ ہے کہ ایک محکمہ سڑک تعمیر کرتا ہے تو دوسرا ایک ہفتے بعد اسے اکھاڑ کر سروس لائنیں ڈالنا شروع کردیتا ہے، اس بے ترتیبی پر قومی خزانے کے ضیاع کے ساتھ عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، رمضان میں ٹریفک انتظامات کے ساتھ ضرورت مستقل ٹریفک پلان ترتیب دینے کی بھی ہے۔