بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / روئیوں کا سوگ!

روئیوں کا سوگ!


سرکاری علاج گاہوں کی موجودگی کیا معنی رکھتی ہے اگر ان سے علاج معالجے کیلئے رجوع کرنے والوں کومفت اَدویات ہی فراہم نہ کی جائیں؟ خیبرپختونخوا میں ترقی کا خلاصہ یہ ہے کہ خوبصورت عمارتیں اور ’ہجوم دَر ہجوم‘ ملازمین تو دکھائی دیتے ہیں لیکن ان سرکاری اداروں کی افادیت و اہمیت محدود کر دی گئی ہے! عام آدمی کیلئے نجی علاج گاہوں سے رجوع کرنے کے سوا چارہ نہیں رہا‘ تو اس بات کا احساس بالآخر صوبائی حکومت کو بھی آ ہی گیا ہے جس نے زمینی حقائق کا اعتراف کرتے ہوئے سات جون کو پیش کردہ مجوزہ صوبائی بجٹ میں سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی کمی دور کرنے کے لئے خصوصی رقم مختص کی ہے! چار سال گزرنے کے بعد ادویات کی کمی کا احساس ایک ایسے وقت میںآیا ہے جبکہ بدعنوانی پورے ’ہیلتھ کیئر نظام‘ میں سرایت کر چکی ہے! خیبرپختونخوا میں بی ایچ یوز کی کل تعداد 760 جبکہ رورل ہیلتھ سنٹرز کی تعداد 96 ہے جہاں دستیاب ادویات کبھی بھی حسب ضرورت سوفیصد نہیں رہیں بلکہ اگر حکومت کے مرتب کردہ اعدادوشمار پر یقین کرلیا جائے تو ضروریات کے تناسب سے قریب ساٹھ فیصد ادویات فراہم کی جاتی ہیں جبکہ عوام کے نکتہ نظر سے سرکاری علاج گاہوں میں بمشکل چالیس فیصد مریضوں کو ادویات فراہم کی جاتی ہوں گی اور یہ چالیس فیصد میں بھی تمام تر ادویات کی فراہمی نہیں ہوتی بلکہ چند ایک ادویات ہی دی جاتی ہیں!اگر صوبائی حکومت اپنے پہلے ہی دن سرکاری ہسپتالوں کے سٹور کیپرز کو تبدیل کرکے تحقیقات کرواتی اور سرکاری ہسپتالوں کے اکاؤنٹس اور سٹور کیپرز کے اثاثہ جات کی خفیہ ذرائع سے تحقیقات کرتی تو ایسے عناصر کا احتساب قطعی مشکل نہیں تھا جو تنخواہیں اور مراعات کے علاوہ سرکاری وسائل کی چوری میں ملوث ہیں! ہر سال علاج معالجے کیلئے مختص مالی وسائل کا بڑا حصہ بدعنوانی کی نذر ہو رہا ہے لیکن نہ تو اِس بارے میں تحقیقات کی جاتی ہیں‘ اُور نہ ہی کارکردگی و مالی بدعنوانیوں کے بارے عوامی شکایات کا نوٹس لیا جاتا ہے کیا خیبرپختونخوا میں حکومت نام کی کسی ایسی شے کا وجود بھی ہے‘ جس کا خوف ہو؟ سرکاری علاج گاہوں کے انتظامی فیصلہ سازوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو علاج معالجے کی سہولیات اور مشینری کی خرابی کے لئے ذمہ دار ہے تاکہ نجی شعبے سے وابستہ انکے مالی مفادات کا تحفظ اور اضافہ ہوتا رہے! ڈاکٹروں اور ادویات ساز اداروں کے درمیان ’گٹھ جوڑ‘ سے عام آدمی کس حد تک متاثر ہو رہا ہے‘ افسوس کہ اس بارے میں بھی فیصلہ سازوں کو سوچنے کی فرصت نہیں!
۔
شعبۂ صحت کیلئے خیبرپختونخوا حکومت نے اکیاون ارب روپے مختص کئے جبکہ تیرہ ارب روپے سے علاقائی سطح پر علاج معالجے کی سہولیات کو وسعت دینے پر خرچ کئے جائیں گے تاکہ مرکزی ہسپتالوں پر مریضوں کا رش کم کیا جاسکے آخری مالی سال کے آغاز پر صوبائی حکومت تین سطحی حکمت عملی وضع کئے بیٹھی ہے جس کے مطابق صحت کے جملہ سرکاری مراکز میں علاج معالجے کی موجود سہولیات کا معیار بہتر بنایا جائے۔ دوئم زیادہ مالی وسائل فراہم کئے جائیں تاکہ صحت کے مراکز میں علاج معالجے کی سہولیات میں ’بلحاظ مقدار‘ اضافہ کیا جائے اور سوئم سرکاری علاج گاہوں میں سہولیات کے معیار و مقدار کی نگرانی کرنے کیلئے ایک آزاد و خودمختار نظام وضع کیا جائے کیا تحریک انصاف کی قیادت نے خیبر پختونخوا کی تجربہ گاہ سے بس یہی کچھ سیکھا ہے؟ آخر اس ضرورت کی ضرورت کا احساس و ادراک کیوں نہیں کیا جاتا کہ مسئلہ مالی وسائل یا زیادہ مالی وسائل مختص کرنے کی حد تک سادہ نہیں بلکہ پیچیدگی کا مؤجب سرکاری ملازمین اور فیصلہ سازوں کی حرص و طمع ہے۔

جس کی وجہ سے ناعاقبت اندیش ذاتی مفادات کے اسیر بن چکے ہیں اور چاہے خیبرپختونخوا کے تمام کا تمام سرمایہ بھی سرکاری ہسپتالوں کو سونپ دیا جائے تب بھی یہ ادارے خاطرخواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کریں گے کیونکہ اگر ہمارے ہاں سرکاری ہسپتال فعال ہو بھی جائیں تو نجی اداروں میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری اور ان شریک سرمایہ کاروں کا کیا بنے گا‘ جو بیک وقت حکومتی فیصلہ سازی کے عمل کا بھی حصہ ہیں اور ہمہ وقت منافع بخش نجی علاج گاہوں کے بارے میں بھی سوچتے رہتے ہیں! ہر سال بجٹ میں پہلے سے زیادہ بلکہ زیادہ سے زیادہ مالی وسائل مختص کرنے اُور انتظامی فیصلوں میں آزادی و خودمختاری سے نہیں بلکہ تبدیلی روئیوں پر نظرثانی سے آئے گی‘ جس کے لئے نہ تو صوبائی کابینہ کے شرکاء عملاً آمادہ ہیں اور نہ ہی انکی دیکھا دیکھی سرکاری ملازمین اپنے فکروعمل سے رجوع کرنے کی طرف مائل ہیں۔ ڈاکٹروں اُور معاون طبی عملے جیسے باشعور طبقے کو اِحساس تک نہیں کہ اُن کے ’بے رحم‘ کردار کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی کتنی اذیت و مشکلات سے دوچار ہے!