بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / بچوں سے مشقت لینے والے ممالک میں پاکستان کا تیسرا نمبر

بچوں سے مشقت لینے والے ممالک میں پاکستان کا تیسرا نمبر

پشاور۔پاکستان دنیا کا تیسرا ملک ہے جہاں بچوں سے مشقت لی جاتی ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہاہے۔بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے غیر سرکاری تنظیم سپارک کے مطابق پاکستان میں دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں بچوں سے مشقت کا تناسب زیادہ ہے کیونکہ ان علاقوں میں بیشتر سکولز تباہ ہوجاتے ہیں ‘ کاروبار ختم ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے بچے سکول کی بجائے مشقت کی طرف راغب ہوتے ہیں ۔

بچوں سے مشقت کیخلاف عالمی دن کے موقع پر پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران تنظیم سربراہ جہانزیب خان و دیگر نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ خیبرپختونخوا اور فاٹا میں بچوں سے مشقت کے حوالے سے سروے کرایا جائے تاکہ جنگ سے متاثرہ علاقوں میں بچوں سے مشقت لینے کے حوالے سے صحیح اعداد و شمار سامنے آسکے۔ بچوں سے مشقت کے حوالے سے کوئی ٹوس اعداد شمار نہیں،1996ء کے بعد ملک میں اس حوالے سے کوئی سروے نہیں ہوئی ۔

1996ء کے سروے کے مطابق پاکستان میں 3.3 ملین بچوں سے مشقت لی جارہی ہے ۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 10سے 17سال کی عمر میں5.7ملین بچوں مختلف جگہوں پر مشقت کررہے ہیں ۔ پاکستان دنیا کا تیسرا ملک ہے جہاں بچوں سے سب سے زیادہ مشقت لی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے چائلڈ لیبر کے حوالے قانون سازی کی ہے اور سٹریٹ چلڈرن کیلئے ’’ زمونگ کور‘‘ منصوبے کا بھی آغاز کیا ہے تاہم یہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

اس کے علاوہ خیبرپختونخوا نے چائلڈ لیبر کے حوالے سے جو قانون سازی کی ہے اس پر عملدرآمد نہیں کی جارہی جس کی وجہ سے چائلڈ لیبر میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اب تک 22.2ملین بچے سکول سے باہر ہیں جس کی بنیادی وجہ غربت اور جنگ زدہ حالات ہیں۔