بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / نئے مالی سال کے بجٹ میں سی پیک مغربی روٹ نظرانداز

نئے مالی سال کے بجٹ میں سی پیک مغربی روٹ نظرانداز

پشاور۔وفاقی حکومت اور وزارت منصوبہ بندی نے نئے مالی سال کے بجٹ میں بھی مغربی روٹ کو نظراندازکردیاہے اوربلوچستان میں روٹ کے لیے زمین کے حصول کاعمل تاحا ل شروع نہیں ہوسکاہے صرف زمین کے حصول کے عمل کے لیے دو سے تین سال کاعرصہ درکارہے جسکے بعدمغربی روٹ پر کام شروع ہونے اورجلد سے جلد مکمل ہونے کے امکانات معدو م ہوگئے ہیں بلوچستان حکومت میں ن لیگ کی اہم اتحاد ی جماعت پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے صورت حال پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ وفاقی حکومت کسی صورت مغربی روٹ بنانے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران بلوچستان میں مغربی روٹ کے لیے ایک انچ زمین بھی حاصل نہیں کی گئی ہے اور نئے مالی سال کے بجٹ میں بھی اس مقصد کے لیے کوئی رقم نہیں رکھی گئی ہے ڈیرہ سے کوئٹہ تک صرف زمین کی خریداری کے لیے بیس ارب روپے سے زائد کا تخمینہ لگایاگیاہے جبکہ ڈیرہ سے ژوب اورژوب سے کوئٹہ تک مغربی روٹ کی تعمیر پر 160ارب روپے کی لاگت کااندازہ ہے جبکہ اس کے لیے بجٹ میں محض 5ارب روپے رکھے گئے ۔

گذشتہ ایک سال کے دوران مغربی روٹ کے لیے بلوچستان میں زمین کی خریداری شروع نہیں ہوسکی ہے اس سلسلے میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پختونخوا میپ کے سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے روزنامہ آج کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اس امرکاانکشا ف کیا کہ مغربی روٹ پر ریلوے لائن کی تعمیر کے حوالہ سے ابھی تک ایکنک نے بھی کوئی منظوری نہیں دی ہے اسی طرح پورے مغربی روٹ پر ایک بھی پاور پلانٹ نہیں لگایاجارہا انہوں نے کہاکہ حکومت جان بوجھ کرتاخیر حربے اختیار کررہی ہے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ ابھی تک بلوچستان میں مغربی روٹ کے لیے زمین کی خریداری کاعمل شروع نہیں ہوسکاہے جس سے صورت حال کی سنگینی کااندازہ لگایاجاسکتاہے جبکہ حالیہ بجٹ میں بھی حکومت نے مغربی روٹ کے لیے صرف پانچ ارب روپے رکھے ہیں گویااگریہی رفتار رہی تو مغربی روٹ کی صرف ڈیرہ سے کوئٹہ تک حصہ کی تعمیر پر 32سال کاعرصہ لگے گا اس کا مطلب یہی ہے کہ حکومت مغربی روٹ تعمیر کرناہی نہیں چاہتی اسی طرح اے این پی کے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر داؤدخان اچکزئی نے بھی تصدیق کرتے ہوئے کہاہے کہ ایک انچ زمین بھی تاحال خریدی نہیں جاسکی ہے اور وفاقی حکومت اس سلسلہ میں محض وقت ضائع کررہی ہے