بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / مغوی چینی باشندوں بارے اہم انکشاف

مغوی چینی باشندوں بارے اہم انکشاف


اسلام آباد۔وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے وزارت داخلہ کو چینی شہریوں کو ویزے کے اجرا کے نظام پر نظرثانی اور پاکستان میں موجود چینی باشندوں کا ڈیٹا بینک بنانے کا حکم دیدیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق پیر کے روز وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان کی زیر صدارت اجلاس ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں مغوی چینی باشندوں کے معاملہ کا جائزہ لیا گیا۔ اس دوران وزیرداخلہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ کوئٹہ میں اغواہونے والے چینی شہری کوئٹہ میں تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔

چوہدری نثار نے کوئٹہ میں دو چینی باشندوں کے اغوا کے واقعے پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ مختلف منصوبوں کے لیے پاکستان آنے والے چینی باشندے جو ملک کے مختلف حصوں میں موجود ہیں ان کا ڈیٹا بینک بنایا جائے۔چینی باشندوں کا ڈیٹا بینک نادرا تیار کرے گا جس کو تمام سیکیورٹی ایجنسیوں کو بھیج دیا جائیگا۔وزیرداخلہ نے کہا کہ ویزے کی توسیع کے معاملے پر نظرثانی کی ضرورت ہے تاکہ اس سہولت کا غلط استعمال نہ کیا جائے۔

وزیرداخلہ کی صدارت میں چینی باشندوں کے ویزے اور نئی پالیسی کے تحت این جی اوز کی رجسٹریشن کے معاملے پر منعقدہ ایک اعلی سطحی اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں اغوا ہونے والے دو چینی باشندوں نے بزنس ویزے کی خلاف ورزی کی اور کوئٹہ میں اردو سیکھنے کے نام پر دیگر سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے تھے۔اجلاس میں سیکریٹری داخلہ، ایڈووکیٹ جنرل، ڈپٹی چیئرمین نادرا اور دیگر سینیئرعہدیدار شامل تھے۔وزیرداخلہ کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ چینی باشندوں کا گروپ بزنس ویزے پرآیا جن میں ہلاک ہونے دو چینی بھی شامل تھے تاہم مذکورہ چینی باشندے انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی اے آر کے کے مالک کوریا کے شہری جوان وان سیو سے اردو سیکھنے کے بہانے کوئٹہ چلے گئے اور تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے۔

وزیرداخلہ نے چینی باشندوں کی ہلاکت کا واقعہ بزنس ویزے کے غلط استعمال کے باعث قرار دیتے ہوئے سیکرٹری داخلہ کو معاملے کی تحقیقات اور ویزوں کے غلط استعمال کی روک تھام کی ہدایت کردی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چینی باشندوں کی سیکیورٹی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ چینی باشندوں پر بھی پر لازم ہے کہ وہ ویزہ قوائد کا پاس کریں۔چوہدری نثار نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی مشن غیرملکوں کو ویزہ کے اجرا سے قبل کوائف کی بھرپور جانچ پڑتال کرے اور ویزوں کے اجرا اور پالیسی پر وزارت خارجہ کو بھی پالیسی سازی میں شامل کیا جائے۔