بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / گیس اور آئل کے پانچ نئے ذخائر دریافت

گیس اور آئل کے پانچ نئے ذخائر دریافت


اسلام آباد۔ وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آئل اور گیس کی کمپنیوں نے گیس اور آئل کے پانچ نئے ذخائر دریافت کئے ہیں جس سے 70 ملین کیوبک فٹ گیس اور 636 بیرل آئل روزانہ پیدا ہوں گے‘ حکومت نے اپنی مدت کے دوران 98 آئل اور گیس کی 98 نئی دریافتیں کی ہیں اور 940 ملین کیوبک اضافی گیس سسٹم میں ڈالی جو ایک ریکارڈ ہے‘ 18 ویں ترمیم کے بعد سوئی نادرن گیس پائپ لائنز کے کوٹہ میں 33فیصد گیس کی کمی ہوئی‘ صوبوں کو آئین کے تحت گیس تقسیم کی جارہی ہے‘ وزیراعلیٰ سندھ اس حوالے سے مناظرہ کرلیں‘ قطر کا خلیجی ممالک کے ساتھ تنازعہ پاکستان اور قطر کے درمیان ایل این جی کے معاہدے پر اثر انداز نہیں ہوگا ‘ گیس کی قیمتیں نہیں بڑھائی جائیں گی۔

حکومت سوئی نادرن کے لئے 20لاکھ ڈومیسٹک صارفین کے کنکشن کا بیک لاگ ختم کررہی ہے اب تک ڈیڑھ ملین کنکشن لگائے جاچکے ہیں‘ کمرشل کنکشن پر پابندی ختم ہوچکی ہے اور میرٹ پر سب کو کنکشن دیئے جائیں گے‘ چار سال گزرنے کے باوجود خیبرپختونخوا حکومت گیس چوری کی روک تھام میں ناکام رہی ہے اور چھ سے آٹھ ارب سالانہ گیس چوری کی جارہی ہے ‘ ایران پر پابندی ختم ہونے تک پاک ایران گیس پائپ لائن نہیں بن سکتی۔

پیر کو وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے وزارت پٹرولیم اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں میں آئل اور گیس کے پانچ نئے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ یہ ذخائر او جی ڈی سی ایل ‘ پی پی ایل‘ او ایم وی اور ایم پی سی ایل کمپنیوں نے دریافت کئے ہیں۔ یہ سارے ذخائر صوبہ سندھ کے مختلف اضلاع میں دریافت ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق چھوتی دن جو حیدر آباد میں واقع ہے وہاں سے 285 بیرل آئل روزانہ اور 9ملین کیوسک فٹ گیس روزانہ پیدا ہورہی ہے۔ سانگھڑ میں گیمباٹ فیلڈ سے 310 بیرل آئل یومیہ جبکہ تیس ملین کیوبک فٹ گیس پیدا ہوگی۔ سجاول بلاک سے جو سندھ میں واقع ہے روزانہ پانچ ملین کیوبک فٹ گیس اور اکیس بیرل آئل روزانہ پیدا ہوگا۔

کھیواری بلاک خیرپور سے 15.1 ملین کیوسک فٹ گیس روزانہ اور بیس بیرل آئل روزانہ پیدا ہوگا۔ لطیف بلاک میرپور سے 11.6 ملین کیوبک فٹ گیس روزانہ پیدا ہوگی ان نئی دریافتوں سے 70ملین کیوبک فٹ گیس روزانہ جبکہ 636 ملین کیوبک فٹ گیس روزانہ پیدا ہوگی ان کی قیمت ڈیڑھ دو بلین ڈالر سالانہ بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے آئل اور گیس کی 98 نئی دریافتیں کی ہیں جو ایک ریکارڈ ہے۔

حکومت نے اپنے دور میں 940 ملین اضافی گیس سسٹم میں ڈالی جبکہ اتنے مقدار میں ذخائر سے گیس ختم ہوئی حکومت گیس اور آئل کی مقامی پیداوار کو بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے انہوں نے کہا کہ میڈیا میں تاثر دیا گیا ہے کہ حکومت آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت گیس کی تقسیم نہیں کررہی آئین کی خلاف ورزی کررہی ہے یہ بالکل غلط تاثر ہے۔ 18 ویں ترمیم سے قبل 2010 میں سوئی نادرن گیس پائپ لائن کو 1660 ملین کیوبک فٹ گیس روزانہ ملتی اب 2017 میں یہ 18ویں ترمیم پر عمل درآمد ہونے کی وجہ سے کم ہو کر 1120 ملین کیوسک فٹ رہ گئی ہے اٹھارویں ترمیم پر عمل درآمد سے سوئی نادرن گیس پائپ لائن کے کوٹہ میں 33 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ سندھ کو گیس فراہم کرنے والی کمپنی سوئی سدرن گیس پائپ لائن کو 2010 میں 1174 ملین کیوبک فٹ گیس ملتی تھی بڑھ کر 2017 میں 1207 ملین کیوبک فٹ گیس روزانہ ہوگئی ہے اور یہ تیس فیصد اضافہ ہے۔

حکومت آئین پر عمل کررہی ہے اور آئین کے تحت گیس تقسیم کررہی ہے اس حوالے سے مکمل تفصیل مشترکہ مفادات کونسل سمیت ہر فورم پر پیش کی جائے گی وزیراعلیٰ سندھ میرے ساتھ مناظرہ کرسکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قطر اور عرب ممالک کے درمیان سفارتی بحران کا پاکستان اور قطر سے ایل این جی کی برآمد کے معاہدے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ ایل این جی ملک میں دستیاب ہے کوئی بھی استعمال کرسکتا ہے انہوں نے کہا کہ سوئی نادرن گیس پائپ لائنز کے لئے جب موجودہ حکومت آئی تھی 20لاکھ کنکشن التواء کا شکار تھے حکومت نے میرٹ پر کنکشن لگائے ہیں ڈیڑھ ملین سے زائد کنکشن لگائے جاچکے ہیں۔

اپنی مدت کے دوران دو ملین کنکشن لگالیں گے صنعتوں کو چوبیس گھنٹے روزانہ گیس فراہم کی جارہی ہے جس کی وجہ سے صنعتوں کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مسائل حل ہونے تک پاک ایران گیس پائپ لائن نہیں بنائی جاسکتی ایران کے ساتھ ڈالر میں ادائیگیوں کا میکنزم موجود نہیں ہے اور ایران اگر نیوکلیئر معاہدے ی خلاف ورزی کرتا ہے تو تجارت پر پابندی لگنے سے پاکستان کی گیس پائپ لائن پر پانچ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری خطرے میں پڑ جائے گی انہوں نے کہا کہ پی ایس او کا گردشی قرضہ دو سو ارب کا ہے جو حکومتی گارنٹی کے ذریعے مینج کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ موسم سرما میں حالات بہت بہتر ہوں گے اور گیس کی قلت نہیں ہوگی حکومت نے چھ سال بعد کمرشل گیس کے کنکشن پر پابندی ختم کی ہے اور میرٹ پر سب کو کنکشن دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے چار سال گزرنے اور وعدے کے باوجود گیس چوری کی روک تھام نہیں کی اور اب بھی چھ سے آٹھ ارب سالانہ کی گیس چوری ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے گیس کی قیمتیں نہ بڑھا کر عوام پر بوجھ نہیں ڈالا گیس کی قیمتیں نہیں بڑھایں گے حکومت گیس اور آئل کی برآمد کے حوالے سے چین‘ آذربائیجان‘ ترکی‘ ملائشیا ‘ روس‘ عمان اور یو اے ای سے بات چیت کررہی ہے۔