بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / کار سرکار میں مداخلت

کار سرکار میں مداخلت

پاکستان میں وزیراعظم نواز شریف کے خاندان کیخلاف چلنے والے مقدمے کی تحقیقات کیلئے بنائی جانی والی جائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی کارکردگی کے بارے میں بیشمار سوالات اٹھا دےئے گئے ہیں کئی قانونی ماہرین اس ٹیم کو درپیش مسائل اور اس پر کئے جانے والے اعتراضات پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے ’’ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کا متعلقہ سرکاری محکموں کو فون کر کے جے آئی ٹی کیلئے افسران کو نامزد کرانے سے نواز شریف کے ان تحفظات کو تقویت ملتی ہے کہ انہیں انصاف نہیں ملے گا‘‘اس معاملے میں عدالت عظمیٰ کے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق سرکاری محکموں کے سربراہوں نے موزوں افسروں کے نام جج صاحبان کو بھجوانے تھے اس ضابطے کو نظر انداز کرتے ہوئے اگر رجسٹرار صاحب خود ہی نام تجویز کر دیں تو اس سے تحقیقاتی عمل کی کارکردگی اور شفافیت پر شکوک و شبہات کا پیدا ہونا قابل فہم ہے سینیٹر اعتزاز احسن نے اپنے پوچھے ہوئے سوال کا خود ہی جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ رجسٹرار ارباب محمد عارف یہ کام جج صاحبان کی اجازت کے بغیر نہیں کر سکتے انہوں نے اس معاملے کی تحقیقات کیلئے فل کورٹ تشکیل کرنیکا مطالبہ کیا ہے اسکے بعد جسٹس اعجاز افضل نے تصدیق کی کہ JIT کی تحقیقاتی ٹیم عدالت عظمیٰ نے خود تشکیل دی ہے اس تسلی کے باوجود قومی میڈیا میں اس سوال پر بحث جاری ہے کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر کو وٹس ایپ پر فون کر کے بلال رسول اور عامر عزیز کے نام کیوں تجویز کئے سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا ہے کہ رجسٹرار کا عام لینڈ لائن فون سے کال کرنا بھی غیر قانونی عمل ہے اس تنازعے میں ارباب عارف کو کار سرکار میں مداخلت کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتاہے قانون کی بالادستی اور شفافیت کے حوالے سے Obstruction of Justice یا انصاف کے راستے میں روڑے اٹکانا ایک ایسا جرم ہے جو نظام انصاف کا نفاذ کرنے والوں کی توجہ کا مستحق ہونا چاہئے میڈیا اور عدالت میں گذشتہ آٹھ ماہ سے مسلسل زیر بحث رہنے والے پانامہ کیس میں مسلم لیگ نون کے رہنماؤں کے JIT کے بارے میں اعتراضات کو اگر نظر انداز بھی کر دیا جائے تووزیر اعظم کے کزن طارق شفیع کی اس تحریری شکایت سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ جے آئی ٹی کے ایک رکن نے دوران تحقیقات ان سے دھمکی آمیز لہجے میں کہا ’’ آپکو نتائج بھگتنا ہوں گے‘‘ اسکے ساتھ اگر حسین نواز کی تصویر کے لیک ہونیوالے سکینڈل کو شامل کر لیا جائے تو یہ مقدمہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہونے والی چار عدد سنسنی خیز تحقیقاتوں کی فہرست میں شامل ہونے کا حقداربن جاتاہے اب مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے کاؤنٹر اٹیک کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ سے گذارش کی ہے کہ انہیں درپیش سکیورٹی خدشات کا ازالہ کیا جائے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ممتاز صحافی عمر چیمہ نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی جس عمارت میں کام رہی ہے وہ وزارت دفاع کی زیر نگرانی ہے اب عدالت عظمیٰ وزارت دفاع کو سکیورٹی بڑھانے کا حکمنامہ جاری کرتی ہے یا نہیں یہ معاملہ بزبان شاعر کچھ اسطرح کا ہو گیا ہے

ہم نے سوچا تھا کہ منصف سے کریں گے فریاد
وہ بھی افسوس تیرا چاہنے والا نکلا

ایک خبر یہ بھی ہے کہ جوڈیشل اکیڈمی میں جے آئی ٹی کے سامنے حسین نواز کی پیشی کے موقع پرپولیس کو دھمکیاں دینے کے الزام میں ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر عبدالغفور کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلام آبادصدر کے ڈی ایس پی غلام باقر نے عبدالغفور کے خلاف کار سرکار میں مداخلت اور دھمکانے کی دفعات کے تحت مقدمہ دائر کیا ہے اس ایف آئی آر کو ہائیکورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے چوہدری عبدالغفور نے کہا ہے کہ ان سے ایسا کوئی جرم سرزد نہیں ہوا کہ پولیس مقدمہ درج کر لے انکی درخواست میں لکھا ہے کہ پولیس والوں نے انہیں دھکے دےئے اور بد زبانی کی اس مقدمے کا جو فیصلہ بھی ہو چوہدری صاحب کی جرات رندانہ کے بارے میں اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے۔
کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہتا ہے
جو گذر جائے گذر جانے کو جی چاہتا ہے

چوہدری صاحب نے جواب مقدمہ میں یہ چشم کشا بات بھی کہی ہے کہ ’’ پولیس والے ہمارے حکمران نہیں ہمارے خادم ہیں‘‘میں ان سے گذارش کرتا ہوں کہ وہ فوراً اپنی درخواست میں سے اس جملے کو حذف کر دیں ورنہ چوہدری اعتزاز احسن جیسا عالمی شہرت یافتہ وکیل بھی انکا مقدمہ نہ جیت سکے گا وجہ یہ ہے کہ درخواست گذار چوہدری صاحب اس آخری جملے میں علی ا لا علان یہ کہہ رہے ہیں کہ پولیس والے ہمارے خادم ہیں اسلئے انہیں دھمکیاں دینا جائز ہے اس جذباتی جملے کی دوسری خامی یہ ہے کہ یہ ڈی ایس پی صاحب کے کار سرکار میں مداخلت والی دفعہ کو اتنی آسانی سے ثابت کر تا ہے کہ مدعی کو یہ مقدمہ جیتنے کیلئے کسی وکیل کی بھی ضرورت نہیں اور اسکی تیسری کمزوری یہ ہے کہ اسنے مجھے ایک ایسے واقعے کی یاد دلا دی ہے جوفکر انگیز بھی تھا اور سبق آموز بھی یہ قصہ کچھ یوں ہے کہ میرے دو پاکستانی دوست جو بزنس پارٹنر تھے میں کاروباری معاملات پرجھگڑا ہو گیا دو چار ماہ میں بات عدالت جا پہنچی اس معاملے کو رفع دفع کرنے کیلئے چند لوگ جمع ہوئے ایک صاحب نے کہا کہ اگر ان کے دفتر کا کارکن جو اس مقدمے میں گواہ بھی ہے کو سچ بولنے پر آمادہ کر لیا جائے تو ملزم کے خلاف مجرمانہ دفعات کا مو ثر دفاع ہو سکتا ہے یہ ذمہ داری مجھے سونپی گئی اس محفل میں ایک امریکی دوست بھی موجود تھا اس نے اگلے روز مجھے فون کیا اور پوچھا کہ کیا میں واقعی گواہ کو قائل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں میں نے جواب دیا کہ سوچ رہا ہوں اس نے کہا کہ یہ کام کرنے سے پہلے اپنے وکیل سے بات کر لینا میں نے پوچھا آخر ایسی بھی کیا بات ہے اسنے جواب دیا کہ اس کارنامے کے بعد تمہارا دوست تو شاید بچ جائے مگر تم نہ بچ سکو گے میں نے وضاحت مانگی تو اسنے کہا تم شاید نہیں جانتے گواہوں پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرناObstruction Of Justice کے زمرے میں آتا ہے اور اسکی سزا پانچ سے دس سال قید ہے میں اس کی بات سمجھ گیا مگر یہ نہ کہہ سکا کہ اپنے ہاں تو گواہوں کااغوا، قتل اور بوری بندی معمول کی باتیں ہیں۔

امریکہ میں کار سرکار میں مداخلت کے الزام میں صدر رچرڈ نکسن کو 1973 میں واٹر گیٹ سکینڈل کی تحقیقات کے دوران استعفیٰ دینا پڑا تھا اور اسی دفعہ کے تحت1998میں صدر بل کلنٹن کو مواخذے کا سامنا کرنا پڑا تھا آجکل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سر پر بھی یہی تلوار لٹک رہی ہے اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے سابقہ ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز قومی کو سابقہ نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جنرل مائیکل فلن کیخلاف تحقیقات روکنے کا حکم یا اشارہ دیا تھا تو انکے مواخذے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔