بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیاست کے نئے رنگ

سیاست کے نئے رنگ

کہا جاتا ہے کہ جس کے بازو لمبے ہوں وہ کبھی مار نہیں کھاتا۔ دیہات میں لمبے بازؤوں کا مطلب بھائی ،برادری ہوتا ہے۔ جس بھی شخص کے بھائی اوربرادری یک جان ہو اُس پر حملہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے مگر جہاں برادری میں کھٹ مٹھ ہو جائے وہاں ان پر ہر جانب سے حملے شروع ہو جاتے ہیں اور دیکھا گیا ہے کہ ایسے میں خود برادری کے لوگ دوسروں کی مدد پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور پھر ایک دن سارے ہی ذلیل ہو جاتے ہیں اسی لئے برادری میں اتفاق پر بہت زور دیا جاتا ہے۔یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر برادری کے دو بندوں میں تو تکرار ہو بھی جائے تو وہ اسے اپنا اندرونی معاملہ ہی قرار دیتے ہیں اور جب باہر کے کسی شخص سے پالا پڑ جائے تو ساری برادری یک جان ہو جاتی ہے ۔ یہاں صرف برادری کا بچاؤ مقصد بن جاتا ہے اور بس۔ ایسے میں ہر شخص اپنے گلے گزارے بھلا دیتا ہے۔کسی سیاسی کا ایک بیان نظر سے گزرا کہ احتساب صرف سیاست دانوں کا ہی ہوتا ہے کبھی ججوں‘ جرنیلوں اور صحافیوں کا نہیں ہوا تو ہمیں بہت سی باتیں یاد آ گئیں جب ذوالفقار علی بھٹو پر انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا اور ملک میں نوستاروں نے ہنگامے کھڑے کئے تو سیاست دانوں نے مسئلے کا سیاسی حل نہیں ڈھونڈا بلکہ فوج کو مداخلت کا کہا گیا۔جماعت اسلامی ہو یا نیپ‘ مسلم لیگ ہو کہ عوامی پارٹی‘ ہر ایک کا یہی مطالبہ تھا کہ فوج حکومت کو چلتا کرے اور اپنی نگرانی میں الیکشن کروا کے حکومت عوامی نمائندوں کے حوالے کرے اور جب جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء کا نفاذ کر کے نوے دنوں میں انتخابات کروانے کا اعلان کیا تو یہی ہمارے سیاست دان تھے کہ جنہوں نے پہلے احتساب کا نعرہ لگایااور جب احتساب ہوا تو آخر میں دو گردنیں تھیں جن میں سے ایک میں پھانسی کا پھندا پڑنا تھا۔ ایک جنرل ضیاء الحق کی اور دوسری ذوالفقار علی بھٹو کی۔ اور ایک جنرل تھا کہ جس کی برادری یک جان تھی اور دوسرا سیاستدان کہ جس کی برادری ایک دوسرے کی ویری تھی چنانچہ گردن اُس کی فٹ ہوئی جس کی برادری میں نا اتفاقی تھی پھر وہی جنرل ضیاء الحق تھا کہ جس نے مرتے دم تک حکومت کی اور سیاست دان منہ تکتے رہے مگر اس دوران بھی سیاستدانوں نے اپنا حصہ حاصل کئے رکھا ان میں بھی جو اگلی صفحوں میں تھے وہ بے چارے دیکھتے ہی رہ گئے۔ اصغر خان جیسے لوگ جنہوں نے فوج کو خط لکھ کر بلایا تھا اپنا حصہ وصول نہ کر پائے اور اگر طیارے کا حادثہ پیش نہ آ جاتا تو جانے کب تک سیاستدان اپنی باریوں کا انتظار کرتے رہتے پھر ایک بیورو کریٹ اسحاق خان نے صدارتی منصب کا اور سیاستدانوں کی بے اتفاقیوں کا فائدہ اٹھایا اور باری باری مسلم لیگ اور پی پی پی کو کرپشن کے الزامات پر حکومتوں سے باہر کرتا رہا مگر جو بھی پارٹی حکومت سے کرپشن کے الزامات پر نکالی جاتی دوسرے لوگ تالیاں پیٹتے اور مٹھایاں بانٹتے۔یہ سیاستدانوں کی آپس کی چپقلش تھی جسکابیورو کریٹ اور جرنیل فائدہ اٹھاتے رہے اورمخالف سیاسی جماعتیں تالیا ں پیٹتی رہیں۔

پھر کچھ دن کیلئے ایک سیاسی حکومت بر سر اقتدار آئی اور تین چوتھائی ووٹوں کے ساتھ اقتدار میں آئی۔ ایسے میں بہت سے مخالفین یہی کہتے رہے کہ فوج اقتدار پر قابض ہو جائے۔ اسی دوران ایک سازش کا انکشاف ہوا تو وزیر اعظم نے آرمی چیف کو عہدے سے ہٹا دیا مگر یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ بھاری اکثریت والے وزیر اعظم کو پابند سلاسل کیا گیا تو خود اس کے ساتھی جو اُس وقت وزارتوں کے مزے لے رہے تھے وعدہ معاف گواہ بن کر جنرل پرویز مشرف کے دست بازو بن گئے جب یہ ہوا تو دو بڑی پارٹیوں کے بن باس لیڈروں نے سر جوڑا اور ایک دوسرے کی ٹانگ نہ کھنچنے کے وعدے وعید کئے اور یوں اس اتفاق نے جنرل پرویز مشرف سے اقتدار چھین لیا اور پاکستان کی زندگی میں پہلی دفعہ ایک جمہوری پارٹی کی حکومت نے ایک دوسری جمہوری پارٹی کو حکومت سونپی۔

یہ ایک بڑا انقلاب تھا مگر یہاں پھر ایک نئے کردار نے وہی کا م اپنے ذمے لیا جو اس سے پہلے جمہوری حکومتوں کو گرانے میں معاون ثابت ہوتا رہا مگر اب کے حالات بہت مختلف تھے اس لئے کہ فوج ایسی دلدل میں پھنسی ہوئی تھی کہ جہاں سے نکلے بغیر حکوت ہٹانے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا ۔ تو اس دفعہ عدالت کو بیچ میں لایا گیا اور آج یہ وقت آ گیا ہے کہ ملک کے وزیر اعظم کو ایک کمیشن کے سامنے پیش ہونا پڑ رہا ہے کہ جس میں اُس ہی کے ماتحت اُس سے سوال و جواب کریں گے۔ اس کو لاکھ اپنی فتح کہا جائے مگر ہم نہیں سمجھتے کہ یہ ٹھیک ہوا ہے۔ایسی مثالیں قائم نہیں کرنی چاہئیں مگر کیا کیا جائے کہ اقتدار کی ہوس اس قدر ظالم شے ہے کہ لوگوں کی مستقبل سے آنکھیں بند ہو جاتی ہیں۔