بریکنگ نیوز
Home / کالم / ہمارے مسائل اور ہم

ہمارے مسائل اور ہم


آئیے آج ہم عالم اسلام پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں افغانستان خستہ حال ہو چکا ہے عرا ق کو مکمل تباہ کر دیا گیا ہے پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے لیبیا کا حشر نشر کر دیا گیا ہے ‘ سومالیہ کو بربادی کے دہانے تک پہنچا دیا گیا ہے ‘ شام شکست و یخت کا شکار ہو چکا ‘ یمن کو ملیا میٹ کیا جا رہا ہے سوڈان اور مراکش کو خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے مصر کو بند گلی میں دھکیلا جا رہا ہے اب یہ پروگرام بنایا جا رہا ہے کہ کسی طرح ایران اور قطر کی خبر لی جائے کس طریقے سے ان کا بھی قافیہ تنگ کیا جائے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ 20 برس میں بیس لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کو قتل کیا گیا مسلمان پناہ گزینوں کی تعداد 59.9 ملین کے قریب ہے ناخواندہ لوگوں کی اسلامی دنیا میں شرح43 فیصد ہے یعنی دو ارب لوگوں میں 43 فیصد لوگ ان پڑھ ہیں اسلامی دنیا میں غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والوں کی تعداد 60 فیصد ہے یہ تو ہماری صورتحال ہے اور حیرت ہوتی ہے یہ دیکھ کو ہم کر کیا رہے ہیں ہم نے آپس میں بحث کن موضوعات پر چھیڑ رکھی ہے ایسے فروعی قسم کے موضوعات پر کہ جس سے دنیا بھر میں ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے ‘ہمارے معاشرے کے تقریباً تمام طبقے بھلے وہ علماء ہو ں سفارتکار ہوں ‘ عسکری رہنما ہوں ‘ سکالرزہوں اور بھلے ان کا تعلق کسی بھی مسلک سے کیوں نہ ہو وہ اپنا وقت اور انرجی ان کاموں میں ضائع کر رہے ہیں کہ جن کا نہ کوئی حاصل ہے اور نہ وصول اس پر طرہ یہ کہ رمضان شریف جیسے مقدس مہینے میں بھی ہم ملاوٹ جیسی لعنت سے باز نہیں آتے یہ جو اگلے روز ملک کے کئی شہروں میں ہزاروں لیٹرز کے قریب ملاوٹ شدہ دودھ پکڑ اگیا اس گھناؤنے جرم میں ملو ث افراد کو اللہ پاک کیا معاف کریگا کہ جودودھ میںیوریا‘کھاداور فارمالین جیسے کیمیکلز ملا کر اس ملک کے کمسن بچوں کی زندگی بلکہ اس کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہے ہیں ؟

کیا پارلیمنٹ کی یہ ڈیوٹی نہیں کہ وہ فوراً سے پیشتر اس قسم کے سنگین جرائم میں ملوث افراد کو پھانسی کی سزا دلوانے کیلئے قانون سازی کرے یقین کریں اگر اس قسم کے دو چار مجرموں کو بھرے بازار یا چوک میں پھانسی دے دی جائے تو کسی کی آئندہ پھر ہمت نہ ہو کہ وہ ایسی حرکات کرے یہ ہمارے سیاستدان جو چھوٹی باتوں پر دھرنے یا روڈ بلاک کرتے ہیں وہ ملاوٹ کرنے والوں یا اشیائے خوردنی کو مہنگا فروخت کرنیوالوں کیخلاف سڑکوں پر کیوں نہیں نکلتے؟فروٹ بائیکاٹ سے یہ ثابت ہو گیا کہ ڈنڈے یا عوامی پریشر کے بغیر ہم ٹھیک ہونے والے نہیں حکومت نام کی تو کوئی شے ہمیں نظر ہی نہیں آ رہی جن لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون نافذ کریں انکو مہنگائی زیادہ اسلئے تنگ نہیں کرتی کہ ان کو تو دکاندار لوگ ان کی وردی اور عہد ہ کا خیال رکھتے ہوئے اکثر کئی اشیائے خوردنی بغیر پیسوں کے ان کے گھر تک پہنچا دیتے ہیں باقی رہی پبلک تو وہ جائے بھاڑ میں اس کے علاوہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والوں کی ’’اندھی آمدنی‘‘ ہوتی ہے وہ تو جب بازار سے کوئی شے خریدنے جاتے ہیں تو کبھی بھی کسی چیز کی قیمت پر دکاندار سے تکرار نہیں کرتے جو قیمت وہ بتاتا ہے اسے وہ آنکھیں بند کرکے ادا کر دیتے ہیں یہ مہنگائی تو اگر مارتی ہے تو بے چارے ان بے کس افراد کو مارتی ہے کہ جن کی ماہانہ آمدنی فکس ہے اور جو رزق حلال پر گزارہ کرتے ہیں ورنہ وہ افراد کہ جن کی آمدنی مختص ہو اور وہ کرپشن کر رہے ہوں تو وہ بھی مہنگائی کے عذاب کو ہنسی خوشی جھیل لیتے ہیں غریبوں ‘ لاچاروں اوربے کسوں کا خدا کے سوا او ر کون ہے کہ جس کے آگے وہ ہاتھ اٹھا کر فریاد کر سکیں۔