بریکنگ نیوز
Home / کالم / ہمہ جہت ترقی: ایک خواب!

ہمہ جہت ترقی: ایک خواب!

صوبائی بجٹ میں ترقیاتی کاموں کیلئے مختص208 ارب روپے جیسی خطیر رقم اور ترجیحات کا جائزہ لینا ضروری ہے لیکن موجودہ حکومت کی چار سالہ کارکردگی گواہ ہے کہ ترقیاتی عمل سیاسی و انتخابی ترجیحات اور تحریک انصاف کے مرکزی قائدین کے تابع فرمان رہا! خیبرپختونخوا بجٹ کو اگر ’اٹھارہ‘ کلیدی شعبوں میں تقسیم کیا جائے تو سب سے زیادہ مالی وسائل ٹرانسپورٹ (جس میں 53ارب روپے کا ریپڈ بس منصوبہ) شامل ہے اور سب سے کم یعنی صرف دس لاکھ روپے ان ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص کئے گئے ہیں جنکا تعلق سی پیک منصوبوں سے ہے۔ سوال یہ ہے کہ 603 ارب روپے کے مجموعی بجٹ میں صوبائی حکومت کے اپنے وسائل سے آمدنی صرف پینتالیس ارب روپے ظاہر کی گئی ہے اور ایک مرتبہ پھر خیبرپختونخوا وفاقی حکومت کا محتاج رہے گا کہ وہ اِس کی ترقیاتی حکمت عملی کے لئے مالی وسائل فراہم کرے! ہرمالی سال کی طرح اِس مرتبہ بھی آمدنی کے ظاہر کردہ اعدادوشمار بڑھا چڑھا کر پیش کئے گئے ہیں جو ہر سیاسی حکومت کیلئے ’نیک نامی کمانے‘ کا ذریعہ ہوتا ہے۔ درحقیقت بجٹ صوبائی ہو یا وفاقی‘ اِسے سیاستدان نہیں بلکہ افسرشاہی تیار کرتی ہے جو سیاست دانوں کو ہمیشہ گمراہ کرتے ہوئے ایسا تخیلاتی منظرنامہ تخلیق کرتی ہے جسکا ظاہر دلفریب لیکن باطنی چہرہ مکروہ ہوتا ہے سخت گیر مالی نظم و ضبط کا اطلاق‘ امانت و دیانت کے اصولوں پر صوبائی آمدنی کی ہر ایک پائی سادگی سے خرچ کرنے اور بدعنوانی کے امکانات کم کرتے ہوئے برسراقتدار کرداروں کی اپنی اور سرکاری ملازمین کی آسائش کی قربانی دینے سے زیادہ آسان یہ ہے اس عام آدمی سے جھوٹ بول لیا جائے‘ جسے کبھی بھی ’بجٹ‘ میں بیان کردہ الفاظ اور اعدادوشمار کی سمجھ نہیں آتی! لمحۂ فکریہ ہے اور بنی گالہ کو سوچنا چاہئے کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے ہر فیصلے کا دفاع کرنے والے چار سال بعد‘ خود کو ایک ایسی مشکل میں گھرا محسوس کر رہے ہیں‘ ۔

جس کی انہیں امید نہیں تھی!اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد ’جنرل سیلز ٹیکس کی وصولی وفاق سے صوبوں کی آمدنی کا حصہ بنا دی گئی لیکن اس موقع سے خیبرپختونخوا نے صوبہ پنجاب و سندھ کی طرز پر فائدہ نہیں اُٹھایا۔ رواں برس خیبرپختونخوا کا ترقیاتی بجٹ صوبہ سندھ سے زیادہ ہے تو اس کی تکنیکی وجہ یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے ’ایشین ڈویلپمنٹ بینک‘ سے 52 ارب جبکہ دیگر ذرائع سے 82ارب روپے قرض لیکر ترقیاتی کام شروع یا مکمل کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ یوں آئندہ مالی سال میں صوبائی ترقی کے لئے مختص مالی وسائل 39.4 فیصد قرضوں سے حاصل ہوگا‘ جسکی ادائیگی یقیناًآنیوالے مالی سالوں میں ترقیاتی بجٹ کا حجم کم کرنے کی صورت صوبائی حکومتوں کیلئے ’واجب الادا اقتصادی ذمہ داری‘ ٹھہرے گی! سیاسی مقبولیت کے لئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ’33ارب روپے‘ کا اضافہ‘ غیرترقیاتی مد میں سب سے بھاری خرچ ہے اور اگر وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے بقایا جات اَدا کرے تو بڑا حصہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی نذر ہو جائیگا۔ تصور کیجئے کہ تحریک اِنصاف کے چار سالہ دور حکومت میں سرکاری ملازمین کی تعداد میں ’’ایک لاکھ چار ہزار پانچ سو پچپن ‘‘ اَفراد کا اِضافہ کیا جاچکا ہے جو پہلے ہی خزانے پر کیا کم مالی بوجھ تھا کہ حاتم طائی بن کر اس طبقے کی تنخواہوں میں اضافہ کردیا گیا۔

جسے پہلے ہی انواع و اقسام کی مراعات حاصل ہیں اور جسکی کارکردگی کے بارے میں عام آدمی کی رائے معلوم کی جائے‘ تو حیرت اَنگیز اِنکشافات سامنے آئیں گے!تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت کی چار سالہ کارکردگی میں یہ بات بھی شامل تھی کہ صوبہ پنجاب اور وفاقی حکومت کی جانب سے’بڑے ترقیاتی منصوبوں کی ’بھرپور مخالفت‘ کی جائے لیکن آخری مالی سال صوبائی دارالحکومت پشاور کیلئے پچاس ارب روپے سے زائد مالیت کا ریپڈ بس پراجیکٹ کاتحفہ میگا پراجیکٹ نہیں تو پھر کیا ہے؟ اگر میگاپراجیکٹس شروع کرنا تھے تو پھر چار سال اِس بات کا انتظار کیوں کیا گیا کہ مسائل کی شدت سے پریشان حال عوام کی مشکلات برقرار رہیں؟خیبرپختونخوا کا سب سے بڑا حل طلب و دیرینہ مسئلہ ’غربت‘ ہے۔ اگر میگاپراجیکٹس میں سرمایہ کاری کی بجائے ’غربت میں کمی‘ کیلئے اضلاع کی الگ الگ ضروریات کا احاطہ کیاجائے‘ تو زرعی اور سیاحت کے شعبوں میں انقلاب برپا ہوسکتا ہے۔