بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / سعودی قطر تنازعہ

سعودی قطر تنازعہ

سعودی عرب اور اسکے اتحادیوں متحدہ عرب امارات،مصر،بحرین،یمن اور لیبیا کی جانب سے قطر سے سفارتی تعلقات کے خاتمے اور قطر کی سیاسی اوراقتصادی ناکہ بندی سے مشرق وسطیٰ بالخصوص خلیج فارس کی صورتحال مزید دھماکہ خیز ہوگئی ہے۔ سعودی عرب اور قطرکے درمیان بڑھتی ہوئی اس کشیدگی اور اس کے علاقائی اور عالمی اثرات پر بحث سے قبل اس تنازعے کا پس منظر اور اس صورتحال کے بعض تاریخی اسباب اور عوامل کا جاننا ضروری ہوگا ۔قطر خلیج میں واقع ساڑھے گیارہ ہزار مربع کلومیٹررقبے ا ور ساڑھے چھبیس لاکھ آبادی کے لحاظ سے بظاہر ایک انتہائی چھوٹاملک ہے لیکن تیل اور قدرتی گیس کی دولت سے مالا مال اس چھوٹے سے ملک نے اپنے جغرافیے اور علاقے کے دیگر ممالک کی غیر راویتی پالیسی کے باعث نہ صرف خطے کی سیاست میں بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنے وجود کی اہمیت منوائی ہے جسکا سب سے بڑاثبوت اگر ایک طرف یہاں قائم امریکہ کا خطے کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے جہاں دس ہزار سے زائدامریکی افواج نہ صرف تعینات ہیں بلکہ وہ یہاں سے عراق ‘ شام‘ یمن‘ لیبیا اورافغانستان میں فضائی حملے بھی کرتا رہا ہے تو دوسری جانب اس کی تقریباً ڈیڑھ لاکھ ڈالر کی فی کس سالانہ آمدنی جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے نے بھی اسے کئی ممالک کی آنکھوں کا کانٹا بنا رکھا ہے ۔قطر کا حالیہ سیاسی اور اقتصادی بائیکاٹ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب ایک جانب اسلامی ممالک کی اتحادی افواج بنانے کے منصوبے پرعمل پیرا ہے جبکہ دوسری جانب ا س سلسلے میں سعودی عرب تین ہفتے قبل ریاض میں اس مجوزہ اسلامی اتحاد کے سربراہان حکومت کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کے پہلے غیر ملکی دورے کے موقع پر شرف میزبانی بھی بخش چکا ہے۔

یاد رہے کہ قطر نہ صرف اس اجلاس میں شریک تھا بلکہ وہ سعودی قیادت میں مجوزہ اسلامی اتحاد کے علاوہ چھ رکنی خلیج تعاون کونسل اور عرب لیگ کا بھی ایک فعال ا ور اہم رکن ہے لیکن یہاں یہ سوال انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ آخر وہ کیا اسباب ہیں جن کے باعث کل تک کے اتحادی کا اچانک نہ صرف سیاسی اور اقتصادی بائیکاٹ کیا گیا ہے بلکہ اسے اسلامی عسکری اتحاد اور خلیج تعاون کونسل سے نکالنے کے علاوہ مزید سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔اس ضمن میں اب تک قطر کا جو قصور سامنے آیا ہے وہ قصور در اصل یہ الزامات ہیں کہ قطر نہ صرف دہشت گردتنظیموں کی پشت پناہی کرتا ہے بلکہ وہ ان کی مالی معاونت کابھی سب سے اہم ذریعہ ہے۔خلیج کی بگڑتی ہوئی صورتحال میں اسلامی دنیا سے ترکی اور پاکستان دوایسے ممالک ہو سکتے ہیں جو قطر اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کرسکتے ہیں لیکن بد قسمتی سے پاکستان سعودی عرب کا اتنا تابع محمل بن چکا ہے کہ اس کے لئے کھل کر برابری کی بنیا دپر سعودی عرب سے کوئی بات منوانا انتہائی مشکل بلکہ ناممکن ہوگاالبتہ ترکی ایک ایسا ملک ہو سکتا ہے جس سے اس قضیئے میں ثالثی کی توقع کی جا سکتی ہے لیکن اسنے ایک پرانے معاہدے کو بنیاد بنا کر قطر کی حفاظت کیلئے اپنی تین ہزار افواج بھیجنے کا اعلان کر کے خود کو بھی اس قضیئے میں متنازعہ بنا دیا ہے لہٰذا لے دے کر اس صورتحال پر اگر کوئی ملک اثر انداز ہو سکتا ہے تو وہ امریکہ ہی ہو سکتا ہے

جس کے قطر اور سعودی عرب دونوں سے قریبی مفادات وابستہ ہیں۔اس سلسلے میں صدر ٹرمپ کے قطر کے امیر شیخ تمیم اور سعودی فرمانرواشاہ سلمان سے ٹیلی فونک رابطوں کے بعد یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ شاید یہ بحران اب جلد ٹل جائے گا البتہ یہ بات یقینی ہے کہ یہ بحران مفت میں ہرگز نہیں ٹلے گا بلکہ قطر کو اس کی کچھ نہ کچھ قیمت جہاں امریکہ کو بعض مزید مراعات دینے کی صورت میں ادا کرنی پڑیگی وہاں اسے بعض اسلامی تحریکوں کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچتے ہوئے قطر میں ان کی سرگرمیوں کو محدود کرکے انکی بعض نمایاں شخصیات پر پابندیاں بھی لگانی پڑ سکتی ہیں جس سے شایدقطر اس عارضی بحران سے تو نکل جائے گا لیکن ایساکوئی بھی فیصلہ خطے کے دیگرچھوٹے ممالک کیلئے یقیناًکوئی اچھی مثال ثابت نہیں ہوگا۔