بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / خیبر پختونخوا کی معیشت

خیبر پختونخوا کی معیشت

خیبر پختونخوا اسمبلی میں صوبائی بجٹ پر گرما گرم بحث میں صوبے کی معیشت سے متعلق متعدد اعداد و شمار اور دیگر حقائق سامنے آئے ہیں صوبے کی حکومت خود کہہ رہی ہے کہ اس وقت خیبر پختونخوا پر80 سے 90 ارب روپے کا قرضہ ہے ‘ وزیراعلی پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ ہم اپنے غریب صوبے کو کسی صورت بلا ضرورت اور بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبنے نہیں دیں گے‘ رپیڈ بس منصوبے کے مالی معاملات سے متعلق وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ یہ مہنگا پراجیکٹ ہرگز نہیں اس میں20 ارب روپے کے کمرشل پلازے بھی شامل ہیں جن کی آمدن سے میٹرو کا قرض اتارا جائے گا یہ بات بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ خیبر پختونخوا اس وقت بھی پرانے قرضوں پر سود کی مد میں پانچ سے چھ ارب روپے سالانہ ادا کر رہا ہے صوبائی حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے پانچ ارب روپے کا قرضہ ادا بھی کیا ہے جبکہ صوبے میں ٹیکس ریکوریز بہتر بنانے کیساتھ بہت سے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا گیا ہے صوبائی اسمبلی میں حزب اختلاف صوبے کے بجٹ کو غیر متوازن اور خسارے کا حامل قرار دے رہی ہے اپوزیشن ارکان بجٹ کو مذاق بھی قرار دیتے ہیں اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ خیبر پختونخوا کی مجموعی معیشت امن وامان کی صورتحال سے متاثر چلی آ رہی ہے صوبے کی حکومت کو ریکوریز میں بہتری لانے کے ساتھ فنانشل مینجمنٹ کے حوالے سے ٹھوس حکمت عملی بھی ترتیب دینا ہو گی جس میں غیر ضروری اخراجات پر قابو پانا ضروری ہے اس سب کیساتھ وفاقی حکومت کو بجلی منافع اور صوبے کے بقایا جات کی ادائیگی یقینی بنانی چاہئے این ایف سی ایوارڈ میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہئے خیبر پختونخوا کو صوبے سے ملنے والی گیس سے بجلی پیدا کرنے کے مواقع ملنے چاہئیں صوبے میں سرمایہ کاری کیلئے ماحول سازگار بنایا جائے اور انویسٹرز کو سہولیات دی جائیں اس سب کیلئے مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات اٹھانا ہونگے صوبے کی معیشت بہتر ہونے پر ہی عام شہری کو ریلیف مل سکتی ہے اس مقصد کیلئے پوری سیاسی قیادت کو کردار ادا کرنا ہو گا۔

برن سنٹر کے قیام میں تاخیر کیوں؟

خیبرپختونخوا اور اس سے ملحقہ وسیع قبائلی علاقے کے شہریوں کیلئے جدید سہولیات سے آراستہ برن سنٹر کا نہ ہونا صحت کے شعبے کو حاصل ترجیح اور اس کے عملی نتائج پر سوالیہ نشان ثبت کرتا ہے جھلسے مریضوں کو ایمبولینس میں ڈال کر طویل سفر پر لے جانا ان کیلئے انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے اور وہ مسافت کراہتی حالت میں ہی طے کرتے ہیں اسکے ساتھ غریب اور متوسط شہریوں کیلئے بھاری اخراجات برداشت کرنا بھی انتہائی مشکل ہوتا ہے‘ پشاور میں برن سنٹر کے قیام سے متعلق متعدد کوششیں اور ان کی راہ میں حائل رکاوٹیں ریکارڈ کا حصہ ہیں سرکاری شفاخانوں میں جھلسے ہوئے مریضوں کے علاج کیلئے انتظامات کسی صورت قابل اطمینان نہیں یہاں تربیت یافتہ عملے اور دیگر سہولیات کا بھی فقدان ہے۔ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں زیر تعمیر 120 بیڈ کے ٹراما اینڈ برن سنٹر کی تعمیر کا کوئی واضح ٹائم فریم نہیں‘ صحت کے شعبے میں بہت بڑے اقدامات اٹھانے اور عالمی معیار کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کے اعلانات کیساتھ اگر صوبائی حکومت ہنگامی بنیادوں پر مکمل برن سنٹر کے قیام کو عملی طور پر ممکن بنا سکتی ہے تو اس کے نتیجے میں انتہائی اذیت سے دوچار مریضوں کو ریلیف مل سکتی ہے شرط صرف احساس و ادراک کے ساتھ اعلانات کو عملی صورت دینے کی ہے۔