بریکنگ نیوز
Home / کالم / لیڈر

لیڈر


انیس اکتوبر کے تیسرے اور آخری صدارتی مباحثے نے امریکی عوام کو ایک ایسے مخمصے میں مبتلا کر دیا ہے جس سے نجات آٹھ نومبر کے انتخابی نتیجے سے پہلے ممکن نظر نہیں آتی اس قومی مکالمے کو سات کروڑ سے زیادہ لوگوں نے دیکھا اسکے ماڈریٹر نے ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا کہ وہ انتخابی نتائج کو تسلیم کریں گے یا نہیں تو اس نے کہا کہ وہ اس سوال کاقبل از وقت کوئی جواب نہیں دے سکتا لاس ویگاس میں منعقد ہونے والے اس تندوتیز مباحثے میں ممتاز صحافی کرس والس نے اپنے سوال کو مختلف الفاظ استعمال کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا کہ ہمارا ملک دنیا بھر میں پر امن انتقال اقتدار کیلئے پہچانا جاتا ہے کیا آپ اس روایت کا احترام کریں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے مختصر جواب دیا کہ I will keep you in suspense میں آپ کو سسپنس میں رکھونگا۔ دونوں صدارتی امیدواروں کے درمیان ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والے ان کلمات اختلاف کے اختتام کے بعد سوشل میڈیا پر یہ بحث شروع ہوگئی کہ ٹرمپ نے اگر شکست تسلیم نہ کی تو پھر کیا ہوگا بیس اکتوبر کے اخبارات نے بھی اس اعلان بغاوت کو نمایاں طور پر شائع کیا آئینی ماہرین کی رائے میں فیصلہ اگر انیس بیس کے فرق سے ہوتا ہے تو تمام متنازعہ پولنگ سٹیشنوں پر دوبارہ گنتی کے امکانات موجود ہیں لیکن ہیلری کلنٹن اگر واضح مارجن سے جیت جاتی ہیں۔

تو الیکشن کمیشن ڈونلڈ ٹرمپ کے اعتراضات کو مسترد کر کے انکے صدر امریکہ ہونے کا اعلان کر سکتا ہے امریکی انتخابات کے معتبر اور مستند ہونے کے بارے میں تجزیہ نگاروں نے تحقیقاتی رپورٹوں کے حوالے دے کر ثابت کیا ہے کہ گزشتہ تین صدارتی انتخابات میں ایک ارب سے زیادہ لوگوں نے ووٹ ڈالے اور صرف 2068 شکایات موصول ہوئیں ان میں سے صرف دس شکایات کو تحقیقاتی کمیشن نے درست تسلیم کیا تھا اور باقی تمام ثبوت اور شہادتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے مسترد کر دی گئی تھیں ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ ہمارا ملک قانون کے احترام کی بنیاد پر قائم ہے اور یہاں دو سو سال سے انتخابات ہو رہے ہیں مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی فریق نے نتائج تسلیم کرنے سے انکار کیا ہو اس معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ بیس اکتوبر کو صدر اوباما اور ان کی اہلیہ مشیل اوباما نے فلوریڈا اور اریزونا میں جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ صدر امریکہ نے کہا ہے کہ یہ کوئی مذاق کی بات نہیں ہے یہ ایک خطرناک اعتراض ہے جب کوئی ہمارے انتخابات کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات کے بیچ بونے کی کوشش کرتا ہے تو وہ ہمارے جمہوری نظام کو چیلنج کر رہا ہوتا ہے یہ وہ کام ہے جو ہمارے دشمن کرنا چاہتے ہیں۔ماہرین کی رائے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ان حیلہ سازیوں کی کئی وجوہات ہیں ایک تو اسے اپنی شکست واضح طور پر نظر آ رہی ہے دوسرا اس قسم کی کرتب کاریاں ریپبلکن پارٹی کے انتہا پسند طبقے کے سیاسی کلچر کا اہم حصہ ہیں ۔اس گروہ نے پہلے سیاہ فام امریکی صدر کو یہ کہہ کر مستردکیا کہ وہ کینیا میں پیدا ہوا تھا اور اس کا پیدائشی سرٹیفیکیٹ جعلی ہے ڈونلڈ ٹرمپ نے اس برتھر موومنٹ کی پانچ سال تک قیادت کرنے کے بعد صرف ایک ماہ پہلے باراک اوباما کی صدارت کو اس لئے تسلیم کرنے کا اعلان کیا کہ اسے سیاہ فاموں کے ووٹوں کی ضرورت ہے امریکی دانشور اور تجزیہ نگار گزشتہ کئی ماہ سے نیو یارک کے ارب پتی سیاستدان کے ماضی حال ‘ عہد شباب ‘ کاروبار اور نجی زندگی کے معاملات کے بارے میں مسلسل لکھ رہے ہیں۔

اس متنوع اور متنازعہ شخصیت کے بارے میں ہر روز اخبارات اور انٹر نیٹ پر مضامین تازہ کے انبار لگے ہوتے ہیں ملک کے تمام بڑے اخبارات میں مسٹر ٹرمپ کی بیش بہا دولت ‘ ہوٹلوں ‘ کیسنوز ‘ گالف کلبوں ‘ ٹیکس نا دہندگی ‘ قرضہ جات کے حساب کتاب‘ تین عدد شادیوں اور خواتین پر جنسی تشدد کے معاملات پر Investigative Journalism یا تحقیقاتی صحافت کاکانٹے دار مقابلہ ہو رہا ہے اخبارات اور میگزین دھڑا دھڑ بک رہے ہیں نیو یارک ٹائمز کے ممتاز کالم نگار ڈیوڈ بروکس امریکی سماج ‘سیاست اور تاریخ پر کئی کتابیں لکھ چکے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت اور نفسیات پر بھی انہوں نے متعدد کالم باندھے ہیں اس موضوع پر گیارہ اکتوبر کو شائع ہونے والے ان کے کالم پر مراسلہ نگاروں کی بحث و تمحیص ابھی تک جاری ہے اس نفسیاتی تجزیے کے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیے۔
’’ سیاست انسانوں سے تعلق قائم کرنے کی ایک کوشش ہے ڈونلڈ ٹرمپ یہ تعلق قائم کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے وہ زندگی بھر گنے چنے پسندیدہ لوگوں کے حلقے میں رہا ہے اس کی خود پسندی اور نرگسیت اسے اپنے جذبات کو سمجھنے کا موقع نہیں دیتی وہ اپنے پیچیدہ جذبوں کو سمجھ نہیں سکتا اس لئے انہیں بیان بھی نہیں کرسکتا جب کبھی وہ ایسی کوئی کوشش کرتا ہے تو بری طرح ناکام رہتا ہے اسے ہر لمحہ لوگوں کی نہ ختم ہونے والی توجہ کی ضرورت رہتی ہے وہ ہر رات بلا ناغہ بے خوابی کے عالم میں ٹویٹ کرتا ہے اس کی اہلیہ کئی مرتبہ اس کی عادت سے بیزاری کا اظہار کر چکی ہیں اس طرح کے لوگوں کے اندر ایک ایسا خلا ہوتا ہے جسے پر کرنے کیلئے وہ دولت ‘ حسن ‘ شہرت اور دوسرے خارجی عوامل کا سہارا لیتے ہیں ایک اچھے تعلق اور دوستی سے جو خوشی حاصل ہوتی ہے یہ لوگ اس سے محروم ہوتے ہیں خواتین محبت اور ہمدردی جیسے نرم و گداز جذبوں کا منبع سمجھی جاتی ہیں مگر ان لوگوں کی بکھری ہوئی زندگی میں خواتین کیلئے بھی نفرت اور تشدد کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ہم میں سے اکثر اپنی اخلاقی اقدار کی قربت سے سکون اور طمانیت حاصل کرتے ہیں مگر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسی متوازی دنیا میں رہتا ہے جہا ں لوگوں کی موجودگی سے جنم لینے والی مٹھاس اور لطافت نہیں پائی جاتی اس دنیا کے لوگ کسی کو کچھ دینے ‘ خدمت خلق اور قربانی کے جذبوں سے نا آشنا ہوتے ہیں ایسے لوگوں کو ہر وقت کچھ سمیٹ کر اور تشدد کر کے ہی سکون حاصل ہوتا ہے ذرا سوچئے آپ ڈونلڈ ٹرمپ ہیں آپ ایک ایسا بلند و بالا منصب حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی اہلیت آپ میں موجود نہیں آپ سیاسی جلسوں میں نعرہ بازی اور ہیجان خیزی سے کام لیتے ہیں صدارتی مباحثوں میں آپ کو دروغ گوئی کا سہارا لینا پڑتا ہے آپ ہر وقت امید کی ایسی کرن کی تلاش میں رہتے ہیں جو آپ کی عظمت کا پتہ دے سکے آپ اپنے مد مقابل کی تذلیل کر کے سکون حاصل کرتے ہیں‘‘

پروفیسر ڈیوڈ بروکس نے لکھا ہے ’’ اپنے مخالف کو نیست و نابود کر دینے کی کوشش کرنے والا ڈونلڈ ٹرمپ در اصل ایسا تنہا اور اداس شخص ہے جس کے جذبات کے جنگل میں اگر کوئی درخت گر جائے تو اس کی آواز تک نہیں آتی ‘‘ اس کالم کے آخر میں بروکس کہتا ہے کہ ’’ ہمیں ایک ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو محبت ‘ اپنائیت ‘ عقیدت اور خدمت خلق کی زندگی گزار چکا ہو اسی طرح کی زندگی سے اس کا باطن منور ہو اور وہ خوبیوں کو تقسیم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو ہمیں ایک ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جو انسانی تخلیق کی عظمت ‘ وقار اور شان و شوکت سے آگاہ ہو جو جذباتی روحانی اخلاقی اور معاشرتی طور پر ایک متوازن اور قابل ستائش شخصیت کا مالک ہو‘‘
کالم نگار کی رائے میں ڈونلڈ ٹرمپ ان تمام خوبیوں سے بے بہرہ ہے وہ مستعارلی ہوئی مصنوعی کامیابیوں کا مرقع ہے ہم میں سے کوئی بھی ایسے جنگل کی تنہائی میں رہنا پسند نہیں کریگا اس کالم کا آخری جملہ یہ ہے کہ نو نومبر کو ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست کے ایک دن بعد غصے اور نفرت کے اس کھیل پر یقین رکھنے والے واپس چلے جائیں گے اس روز یہ ہجوم بکھر جائیگا۔
میری دانست میں یہ ہجوم بہت جلد واپس آ جائیگا یہ اپنی خوئے انتقام سے دستبردار نہیں ہوگا اس طرح کے بے چین اور مضطرب لوگوں کے بارے میں شاعر نے کہا ہے کہ
غضب ہے جستجوئے دل کا یہ انجام ہو جائے
کہ منزل دور ہو اور راستے میں شام ہو جائے