بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / چینی شہریوں کی ہلاکت نے نیا موڑ اختیار کر لیا

چینی شہریوں کی ہلاکت نے نیا موڑ اختیار کر لیا

بیجنگ۔چینی شہریوں کی پاکستان کے شہر کوئٹہ میں قتل کی واردات نے ایک نیا موڑ لے لیا،چین کے معروف روز نامہ گلوبل ٹائمز نے یہ انکشاف کیا ہے کہ چین کی اپنی تحقیق اور تفتیش کے بعد بعض شواہد ایسے ملے ہیں کہ قتل کی یہ واردات کورین مشنری گروپ کے کام سے متعلق ہو سکتا ہے،روزنامہ نے اپنی رپورٹ کی سنسنی خیز شہ سرخی (چینی میں لنک) کا استعمال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستان میں مغوی چینی لوگوں کے قتل کے پیچھے بھی کورین تنظیم کے محرکات ہو سکتے ہیں۔

؂ابتدائی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں مقتول باشندوں کو اساتذہ کے طور پر سامنے لایا جا رہا ہے ، چین کی وزارت خارجہ بھی یہ بتانے سے قاصر ہے کہ وہ پاکستان میں کیا کر رہے تھے اور دوسری جانب اسلامی ریاست کے دہشت گردوں کے دعویٰ کی بھی تصدیق کی جا رہی ہے جب کہ ایک تحقیق کے مطابق اس قتل کا لنک اور طریقہ واردات کورین عیسائیت پسند گروہ کا دکھائی دیتا ہے کیونکہ کچھ عرصہ قبل شمالی کوریا کے عیسائی امدادی کارکنوں کو اغوا کر لیا گیا تھا بیرون ملک قتل کیا گیا تھا۔ دوسری بات جو اس طرف اشارہ کرتی ہے وہ یہ کہ چین کی اور جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے چینی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے بارے میں سوالات کا جواب نہیں دیا۔

گلوبل ٹائمز کی خبر کے مطابق (چینی میں لنک) دونوں مقتول چینی شہری ایک جنوبی کوریائی شہری کی قیادت میں ایک عیسائی مشنری گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔اطلاعات کے مطابق مقامی مسلم کمیونٹی کے کو اس گروپ کے ارکان نے مسیحیت کی تعلیم و ترغیب دینے کی کوشش کی تھی۔اس گروپ کے ارکان کی تعداد 13بتائی جای ہے اور یہ 13 رکنی گروپ ایک زبان اسکول چل رہا تھا۔اس پہلو کو بھی مد نظر رکھتے ہوئے تفتیش کی جا رہی ہے کہ چین اور جنوبی کوریا کے مابین حالیہ کچھ عرصہ سے امریکی میزائل سسٹم تھاڈ پر تناؤ کی کیفیت ہے اس لئے کورین گروپ نے ان چینی شہریوں کا قتل کیا ہو۔

چین میں گلوبل ٹائمز کی اس تحقیقی و تفتیشی رپورٹ کو عوام بھت توجہ سے دیکھ رہے ہیں کہ چینی پاکستان میں مشنری سرگرمیوں میں ملوث کیوں تھے بلکہ ایک صارف نے یہاں تک کہا کہ اگر چینی شہری مشنری سرگرمیوں میں ملوث تھے تو وہ قتل کے ہی مستحق تھے۔ جب کہ دوسری جانب ہلاکتوں کی ذمہ داری اسلامی ریاست نے قبول کر لی ہے۔ چینی شہریوں کی ہلاکتوں کے تناظر میں پاکستانی حکام اقتصادی کوریڈور کے ساتھ ساتھ منصوبوں کی حفاظت کے لیے حال ہی میں قائم کیا گیا 15ہزار فوجیوں پر مشتمل دستہ کو مزید فعال اور بڑھانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔600مزید پولیس اہلکار 5000چینی باشندوں کی حفاظت پر مامور کیا جائے گا۔