بریکنگ نیوز
Home / کالم / پانامہ لیکس: عدالتی فیصلے کا انتظار

پانامہ لیکس: عدالتی فیصلے کا انتظار


پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کا کیا جواز رہ جاتا ہے جبکہ سپریم کورٹ نے پانامہ پیپرز سے متعلق مقدمے کی سماعت شروع کر دی ہے جس میں پانچ فریق بشمول تحریک انصاف چاہتے ہیں کہ بیرون ملک سرمایہ منتقل کرنے اور ظاہر کردہ مالی حیثیت سے زیادہ اثاثے بنانے کی تحقیقات کی جائیں‘عجیب بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی جانب سے فوری سماعت کی درخواست قبول کر لی لیکن اسی قسم کی درخواستیں چار دیگر فریق قبل ازیں دے چکے ہیں‘ جن پر عدالت نے خاموشی اختیار کئے رکھی۔سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کے معاملے پر تحریک انصاف‘ جماعت اسلامی‘ عوامی مسلم لیگ اور طارق اسد ایڈوکیٹ کی وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی سے متعلق ایک جیسی درخواستوں کی باقاعدہ سماعت کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں اور دو ہفتوں میں جواب طلب کیا ہے جبکہ سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کا دھرنا روکنے کی درخواست قبل از وقت قرار دے کر مسترد کر دی۔ عدالت کی طرف سے نوٹس جاری ہونے پر پی ٹی آئی سمیت درخواست دائر کرنے والی جماعتوں کی طرف سے اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا گیا جبکہ حکومتی سطح پر بظاہر نوٹس جاری کرنے کو ایک قانونی تقاضا قرار دے کر قبول کرنے کا تاثر دیا گیا مگر وزراء کا لب و لہجہ ترش اور باڈی لینگویج سے بے چینی واضح ہے جو ہونی بھی چاہئے۔ وزیراعظم نوازشریف نے پانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے حکومتی اقدامات کا ایک بار پھر اعادہ کیا جن کو حزب اختلاف مسترد کرچکی ہے تاہم وزیراعظم نے بجا کہا کہ وہ سپریم کورٹ کی کاروائی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ عمران خان نے نوٹس جاری ہونے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ سپریم کورٹ نے بادشاہ کو قانون کے نیچے لانے کیلئے پہلا قدم اٹھایا ہے۔ بال سپریم کورٹ کی طرف اچھال دی گئی ہے نوٹس جاری ہونے پر حزب اختلاف اور حکومتی حلقوں میں پائی جانے والی کشیدگی میں اضافہ اور طرفین میں برداشت‘ بردباری اور تحمل کا فقدان نظر آتا ہے جو قومی و تعمیری سیاست کیلئے نیک شگون نہیں ایک دوسرے کے بارے میں غیرمہذبانہ زبان استعمال کرنے سے عوام کے دل میں سیاسی رہنماؤں کی عزت اگر کم نہیں ہوتی تو متاثر ضرور ہوتی ہے جو موجودہ حالات میں بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔

بیان بازی میں ایک دوسرے پر سبقت لیجانا کیا معنی رکھتا ہے؟ ایک دوسرے کیلئے بے شرم اور بے غیرت جیسے الفاظ استعمال کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ کوئی دوسرے کو ڈرگ مافیا قرار دیتا تو جواب میں نشئی ہونے کا طنز سنتا ہے آخر یہ سب کیا ہے؟ ایسی زبان وہ لوگ استعمال کررہے ہیں جو کم از کم گریجویٹ تو ہیں جبکہ عمران خان کو تو کوالیفائیڈ ہونے کا اعزاز حاصل ہے‘ وہ عموماً مغربی جمہوریت کی عملداری اور ایسے ہی جمہوری معاشرے کی تشکیل کی بات کرتے ہیں مگر لب و لہجہ تلخ اور حریفوں کے لئے آسانی سے ہضم کرنے والا نہیں ہوتا اور پھر سیاسی مخالفین اینٹ کا جواب اینٹ سے نہیں‘ پتھر سے دیتے ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ حکومت کا حصہ ہیں جسے حزب اختلاف پر گرجتے برستے ہوئے ٹوٹ نہیں پڑنا چاہئے۔ فریقین کو احساس ہونا چاہئے کہ شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر برسانے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔ آج سیاسی کشیدگی جس سطح پر جاچکی ہے اس کی بنیادی وجہ ہر دو فریقوں کی ہٹ دھرمی ہے۔ نواز لیگ پانامہ لیکس کے احتساب سے گریز کررہی ہے‘ وزیراعظم نوازشریف کا پانامہ لیکس میں نام نہیں‘ ان کے نام پر اب تک کوئی آف شور کمپنی بھی سامنے نہیں آئی وزیراعظم کے خاندان کے کچھ لوگوں کے پانامہ لیکس میں نام ہیں‘۔

جن کی وجہ سے وزیراعظم کے احتساب کی بات کی جاتی ہے میاں نوازشریف کے ہاتھ صاف ہیں تو وہ اپوزیشن جس طرح چاہتی ہے اسی طرح تحقیقات ہونے دیں مگر نواز لیگ کے رہنماؤں کا اپوزیشن کے ’ٹی او آرز‘ پر پارہ چڑھ جاتا ہے جو شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ عمران خان کی آف شور کمپنی سامنے آچکی ہے‘ اس پر نواز لیگ کی طرف سے زبانی گرفت ہوتی ہے۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں پر قرض معاف کرانے کے الزامات ثبوتوں کیساتھ لگائے جاتے ہیں‘ اس پارٹی کے اندر قبضہ مافیا کا تذکرہ کیا جاتا ہے‘ حکومت کی طرف سے بیان بازی نہیں عمل اور ایکشن ہونا چاہئے اب سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کے حوالے سے کیس لگ گیا ہے عمران سپریم کورٹ کے نوٹس لینے پر اطمینان کا اظہار کررہے ہیں وہ عدلیہ پر اعتماد بھی ظاہر کرچکے ہیں‘ اسکے باوجود دو نومبر اسلام آباد بند کرنے کی تیاری جاری ہے یہ دہرا معیار نہیں تو کیا ہے؟