بریکنگ نیوز
Home / کالم / نیا پینڈورا باکس

نیا پینڈورا باکس


امیر کو اگر مشاورت والے صحیح نہ ملیں تو امیر سے غلطیاں سرزد کرواتے رہتے ہیں اور ملک میں امن کی فا ختہ زخمی ہی رہتی ہے ہم یہ سمجھتے تھے کہ عمران خان کے مشاورتی اچھے لوگ ہوں گے مگر پچھلے دنوں جب عمران خان سپریم کورٹ میں اپنے دائر کردہ کیس میں پیش ہونے جا رہے تھے تو وہ اپنے ساتھیوں سے مشورے بھی کرتے جا رہے تھے کہ کورٹ ہمارے کیس میں کیا سوال جواب کرے گی اور ہمیں اس میں کیا کرنا چاہئے تو ان کے مشورے بھی ٹی وی کے کیمروں نے محفوظ کر لئے نہ صرف یہ کہ انہوں نے مشوروں کی فلم تیار کر لی بلکہ اُسے ریلیز بھی کر لیا ہمیں اُن کے مشیروں کی باتوں سے پتہ چلا کہ جب تک مشاورت میں یہ لوگ شامل رہیں گے اُس وقت تک عمران خان کا سیدھے راستے پر آنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے بات یہ ہے کہ جس کیلئے عمران خان روڈ مارچیں اور دھرنے کر رہے ہیں وہ کام اگر سپریم کورٹ کر دیتی ہے تو لوگوں کے ہجوم کو تکلیف دینے کی کیا ضرورت ہے مگر مشیر جس طرح کے مشورے خان صاحب کو دے رہے تھے ہمیں سن کر افسوس ہوا کہ یہ لوگ اچھے بھلے ذہین اور نوجوانوں کے آئیڈیل کو ایسے مشورے دے رہے ہیں کہ جس سے پی ٹی آئی کا ہنگاموں سے ہاتھ اٹھا لینا ممکن ہی نہیں ہے۔ ادھر ایک دوسرے پر پریس کانفرنسوں میں ایسے ایسے الزامات لگ رہے ہیں کہ حیرت ہوتی ے کہ کیا یہ لوگ ایک اسلامی مملکت میں حکومت کرنے کیلئے چنے گئے اور چنے جانے والے لوگ ہیں ایک پریس کانفرنس خان صاحب نے کی جس میں انہوں نے دارالخلافے کو بند کرنے کا حتمی فیصلہ کیا جواب میں مسلم لیگ ن کے زعماء نے پریس کانفرنس کی جس میں صرف یہی التجا تھی کہ جب کیس سپریم کورٹ نے سننے کیلئے لے لیا ہے اور وزیر اعظم اور دیگر کو نوٹسز بھیج دےئے ہیں تو پھر جو کچھ خان صاحب کر رہے ہیں وہ ٹھیک نہیں ہے اس میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ خان صاحب مدرسے کے لوگوں کو تیار کر رہے ہیں۔

کہ وہ اُن کا ساتھ دیں اور دارالخلافے پر قبضہ کر لیں خود عمران خان بھی اس بات کا کئی دفعہ کہہ چکے ہیں کہ مدرسوں سے یہ جہادی کلچر ختم کیا جائے مگر وہ خود اگر ان لوگوں کو ساتھ لے رہے ہیں تو وہ ایک بہت ہی غلط رسم ڈال رہے ہیں ہم تو کسی بھی شہر کو بند کرنے کے خلاف ہیں اور یہ کہ دارالحکومت کو بند کر دیا جائے یہ تو بہت ہی غلط بات ہے ہمارے ملک کے پیچھے پہلے ہی ساری دنیا اور خاص کر ہمارا پڑوسی لگا ہوا ہے اور یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اُس کی فوجیں روز کنڑول لائن کے دوسری سمت سے آزاد کشمیر کو نشانہ بنائے ہوئے ہے ایسے میں اگر ہم اپنے ہی دارالحکومت کو بند کر دیں گے تو دنیا میں کیا پیغام جائے گا اسلئے کہ اس شہر میں تو تمام دنیا کے سفارت کاراور اُن کی فیملیاں رہائش پذیر ہیں اور یہ جو عمران خان نے کسی کے کان میں پھونکنے سے فوراً بھڑک اٹھے کہ اُن پر الزام ہے کہ فوج اُن کیساتھ دارالحکومت پر قبضہ کرنے آ رہی ہے حالانکہ ن والوں کی پریس کانفرنس میں تو فوج کا کسی نے نام ہی نہیں لیا۔مسلم لیگ ن کی کانفرنس میں اس قسم کی کوئی بات ہی نہیں تھی ۔

مگر خان صاحب کے کان میں ساتھ والے آدمی نے پھونک دیا تو وہ بغیر سوچے سمجھے ن لیگ پر چڑھ دوڑے اور اُن کو جھاڑیں پلاتے رہے یہ مشیروں کا کیا دھرا ہے کہ ہم اس حالت کو پہنچ گئے ہیں۔سپریم کورٹ میں کیس لگ جانے کے بعد بھی دارالحکومت پر چڑھائی کا بھی ایک مشیر نے ہی مشورہ دیا تھا جو ٹی وی چینل سے نشر بھی ہو گیاہم نہیں سمجھتے کہ دارالحکومت بند کرنا کسی کا آئینی حق ہے ہم نے پہلے بھی امریکہ کے آئین کی بات کی تھی کہ اس میں یہ لکھ دیا گیا ہے کہ جہاں میری ناک شروع ہوتی ہے وہاں آپ کی چھڑی کو آنے کی آزادی نہیں آئین آپکے جمہوری حق کی یہاں تک تو سپورٹ کرتا ہے کہ آپ جلسے جلوس کر سکتے ہیں مگر اس میں اگر لوگوں کی زندگی متاثر ہوتی ہے تو پھر یہ آپ کا آئینی حق نہیں ہے۔