بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / زبان یار:

زبان یار:

رحمان بابا پشتو کے صوفی شاعر ہیں۔ تاہم لوگ ان کی صوفی شاعری سے اتنا لطف نہیں لیتے جتنا کہ ان کے اشعارکی سادگی سے محظوظ ہوتے ہیں۔ میں بڑے جوش و خروش سے ایک اردو بولنے والے دوست کو ان کے چند اشعار کی تشریح کرنے کی کوشش کررہا تھا ؔ ہر زندہ چہ دَ مُردہ پہ قبر ورشی: بس دے دومرہ نصیحت پہ دا دنیا۔ لیکن ان کے چہرے کے تاثرات سے ان کی بوریت کا اندازہ ہورہا تھا۔ رحمان بابا کا دیوان مختصر ہی ہے لیکن جس نے بھی اسکی تشریح لکھی ،ہزاروں صفحے اس پر سیاہ کرڈالے۔ ایک مرحوم طٰہٰ خان تھے جنہوں نے ان کے پورے دیوان کا اردو میں منظوم ترجمہ کیا اور کسی حد تک پشتو زبان کی چاشنی ترجمے کی چھلنی سے نہ نہیں گری۔ تاہم رحمان بابا کا کلام اردو میں ترجمہ ہوتے ہوتے دوگنے حجم کا ضرور ہوگیا۔
یہی حال تقریباً ہر زبان کے ترجمے کی کمزوری کا ہے۔ جب تلک کسی زبان پر پورا عبور حاصل نہ ہو ، اسکا ترجمہ اصل مضمون کی ترجمانی نہیں کرسکتا۔ ہمارے سکول کے زمانے میں سارے سرکاری سکول اردو زبان میں ہی تعلیم دیتے تھے۔ تاہم ہمیں عالمی ادب کے ساتھ متعارف کرانے میں اردو تراجم کی وجہ سے کوئی دقّت نہیں ہوئی۔ اس زمانے میں میری لائبریری اور قاسم محمود نے کئی بڑے انعام یافتہ ناول اور تواریخ اردو میں ترجمہ کروائے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اردو زبان رجعت پسندی کی نشانی بنتی گئی اور انگریزی میں بات کرنا فیشن ہوگیا۔ کئی ایک فلمی ایکٹریسوں کی کمزور انگریزی لطیفوں میں بدلتی گئی لیکن پھر بھی وہی اداکارائیں میڈیا میں انگریزی کی ٹانگیں توڑنے سے باز نہیں آتیں۔

خیر اردو اور انگریزی کا تقابل تو برسبیل تذکرہ آیا ورنہ دنیا میں انگریزی ہر گز بھی ترقی کیلئے ناگزیر نہیں۔ اگر تعلیمی نظام کسی بھی زبان میں مضبوط ہوتو انگریزی سے نابلد ہونے کا مطلب جاہل ہونا تو نہیں۔ جاپانی، چینی، فرنچ، جرمن، عربی اور فارسی تو چھوڑیں ، افغانستان میں یونیورسٹی تک کی تعلیم پشتو اور فارسی میں ہے۔اگر پچھلی صدی انگریزی کی صدی کہلائے جانے کے قابل تھی تو موجودہ صدی شائد چینی زبان کی نظر آتی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں چینی زبان سکھانے کے ادارے دھڑا دھڑ کھل رہے ہیں، خواہ وہ امریکہ میں ہوں یا یورپ میں۔ بلکہ اب تو پاکستان میں بھی چینی زبان کے سکھانے کے بے شمار ادارے وجود میں آگئے ہیں۔تاہم انگریزی سے مرعوب ہونا بالکل قدرتی امر ہے۔ جب دنیا میں مسلمان حکومتیں سُپر پاور ہوا کرتی تھیں، تو غیرمسلم بھی دور دور سے بغداد میں آکر عربی سیکھتے تھے اس لئے کہ یہ زبان سُپرپاور کی زبان تھی۔گو مسلمان سائنسداانوں نے رومن، یونانی اور عبرانی زبانیں سیکھ رکھی تھیں اور دوسری زبانوں کی بڑی بڑی کتابوں کے عربی ترجمے کئے تھے۔ لیکن مغربی دنیا سے علم کے طالب غیر مسلم ہوتے ہوئے بغداد کا رخ کرتے ، عربی سیکھتے اور یوں اُس زمانے کی جدید طب، جغرافیہ اور الجبرا سے بہرہ مند ہوتے۔

جیسا کہ میں نے اوپر تذکرہ کیا کہ اس وقت دنیا کا زیادہ تر علمی خزانہ انگریزی میں محفوظ ہے اور کسی بھی موضوع پر کوئی بھی حوالہ نہایت آسانی کے ساتھ تلاش کیا جاسکتا ہے۔تمام ماڈرن زبانوں کے ساتھ بھی یہی خوبی لگی ہوئی ہے اور عالمی لٹریچر فرنچ، جرمن، جاپانی اور کسی بھی یورپی زبان میں اُسی آسانی کے ساتھ مل جاتا ہے جیسے کہ انگریزی میں ملتا ہے۔ عربی زبان بھی اب بڑی حد تک ان زبانوں میں شامل ہوگئی ہے۔ اس سلسلے میں مصر اور عراق میں کافی کام ہوا ہے لیکن چند سال پیشتر قطر کی حکومت نے امریکی کانگریس کی لائبریری کو لگ بھگ ایک ارب ڈالر اس مقصد کیلئے ادا کئے کہ عربی زبان کا سارا لٹریچر الیکٹرانک شکل میں لائبریری میں شامل کیا جائے۔یہ ساری تمہید جو کافی لمبی ہوگئی ہے، میں نے قرآن کے حوالے سے شروع کی۔ اس وقت دنیا میں قرآن کے بے شمار ترجمے دنیا کی ہر زبان میں موجود ہیں۔ لیکن جس طرح سے کسی شعر کی دوسری زبان میں تشریح نہ صرف اسکے معانی میں کمی لاتی ہے بلکہ زبان کی چاشنی بھی ترجمے کی چھلنی سے اوپر ہی رہ جاتی ہے۔ جن لوگوں کی مادری زبان عربی ہے، ان کیلئے قرآن کی زبان جادو کا اثر رکھتی ہے، جس سے ہم غیر عرب لوگ محروم رہ جاتے ہیں۔

میں نہیں چاہتا کہ اس بحث میں الجھنے لگوں کہ کس کا ترجمہ کیسا ہے ۔ لیکن تھوڑی بہت عربی سیکھ کر اسکے کئی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔ ان میں پہلا تو قرآن کی تلاوت کا لطف دوبالا ہونا ہے۔ جب آپ قرآن پڑھ رہے ہوں تو گویا اللہ کے ساتھ رازو نیاز کی باتیں کررہے ہوتے ہیں۔ اس میں زبان کی حلاوت بندے کو اپنے خالق سے اور قریب کردیتی ہے‘ رمضان میں ہمیشہ سے تراویح میں قرآن پاک کے ختم کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اس عبادت سے یوں جان چھڑاتے ہیں کہ بیس پچیس منٹ میں دو پارے ختم کرلیتے ہیں۔ نہ تو قاری صاحب کو خود سمجھ آتی ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور نہ ہی تلاوت کی ترتیل درست رہ پاتی ہے۔ مقتدی پہلی رکعت میں تھوڑا وقفہ کرلیتے ہیں اور رکوع سے فوراً پیشتر امام کے پیچھے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس قسم کی تراویح سے وہ مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے جس کیلئے رمضان میں ایک دفعہ قرآن کی ختم کی روایت پڑی۔

رمضان کا یہ بابرکت مہینہ نہایت آسانی سے قرآنی عربی سیکھنے میں گزارا جاسکتا ہے۔ اس دورِجدید میں تو اب کوئی بھی زبان سیکھنا بچوں کا کھیل بن گیا ہے۔ انٹرنیٹ پر بے شمار ویب سائٹس ایسے موجود ہیں جو مفت میں عربی سکھاتے ہیں۔ زیادہ تر یہ ویب سائسٹس مصر سے کام کرتی ہیں لیکن کئی دوسرے ذرائع بھی موجود ہیں‘ بسا اوقات تو گوگل ٹرانسلیٹ بھی اچھا خاصا مددگار ثابت ہوتا ہے۔ میرا ایک مریض عراق سے آیا تھا۔ مریض تو بچہ تھا لیکن اسکے ماں باپ نوجوان تھے اور عربی کے سوا کوئی دوسری زبان نہیں جانتے تھے۔ میرے بیٹے نے اسکا حل یہ نکالا کہ انگریزی میں بات گوگل میں لکھ کر اسکا عربی ترجمہ اسکے سامنے کردیتا۔ جواباً وہ عربی میں لکھتا اور ہمیں انگریزی میں جواب مل جاتا۔ تاہم یاد رہے کہ گوگل کا ترجمہ بھی بامحاورہ نہیں ہوتا۔ تاہم تھوڑا تھوڑا کرکے بھی اگر قرآن کی عربی سیکھ لی جائے تو تلاوتِ قرآن کا لطف کئی چند بڑھ جاتا ہے۔