بریکنگ نیوز
Home / کالم / ہمارا صوتی سرمایہ

ہمارا صوتی سرمایہ


12 جون2017ء کو معروف نیوز کاسٹر شکیل احمد کی برسی کا دن تھا اتر پردیش کے شہر ملیح آباد میں پیدا ہونیوالے اس شخص کو قدرت نے ایک گر جدار‘ بھاری ور گونج دار آوا ز سے نوازا تھا اس جیسی آوازوں پر مائیک عاشق ہو جایا کرتا ہے شکیل احمد کو براڈ کاسٹر بنانے میں اس وقت کے آل انڈیا ریڈیو کے کرتا دھرتا زیڈ اے بخاری کا بڑا ہاتھ تھا ہیرے کی پہچان صرف جوہری کو ہوا کرتی ہے ریڈیو کیلئے کونسی آواز موزوں ہے او ر کونسی ناموزوں اس کا فیصلہ کرنے میں زیڈاے بخاری کویدطولےٰ حاصل تھا شکیل احمد ایک لمبے عرصے تک ریڈیو پاکستان سے خبریں پڑھا کرتے ان کے ہم عصروں میں اگر انور بہزاد اور مسعودی تابش کا ذکر نہ کیا جائے تو زیادتی ہو گی یہ دونوں براڈ کاسٹرز بھی ریڈیو کے سامعین میں بطور نیوز کاسٹررز کافی قبول تھے جس زمانے میں یہ لوگ اردو میں خبریں پڑھتے انگریزی زبان کے نیوز بلیٹن جہاں آرا سعید اور شمیم اعجاز پڑھا کرتیں شکیل احمد نیوز کاسٹر کی برسی کے موقعہ پر ریڈیو پاکستان سے ان کی یاد میں ایک پروگرام سن کر ہمیں یکدم نہ جانے کیوں یاد ایامNostalgia نے گھیر لیا ٹیلی ویژن کا جب تک اس ملک میں ظہور نہ ہوا تھا تو تب صرف ریڈیو پاکستان ہی تو تھا کہ جو عوام کی تفریح طبع کا واحد ذریعہ تھا اس کے پروگرام سننے سے سامعین کو نہ صرف انٹرٹینمنٹ میسر آتی ان پر معلومات اور علم کے کئی در کھلتے۔

پورا خاندان جادو کے ایک ڈبے کے سامنے بیٹھ جاتا اور اپنے پسندیدہ پروگرا مز سنتا جن میں ڈرامے‘ موسیقی اور ریڈیو شوز ہوتے تھے ریڈیو سامعین کی تربیت بھی کرتا اور ان کی زندگیوں میں خوشیاں بھی بکھیرتا پاکستان کے مختلف علاقوں سے گلوکار‘ گلوکارائیں‘ موسیقار شاعر ‘ لکھاری ریڈیو پاکستان کے ساتھ منسلک ہو گئے تھے اور ملک میں ثقافتی فروغ کا ایک دور شروع ہو گیا تھا ہمیں اچھی طرح مقبول فلمی نغموں کے وہ پرگرام یاد ہیں کہ جو آپ کی فرمائش کے نام سے یاسمین طاہر پیش کرتی تھیں ٹیسٹ کرکٹ میچوں کی رننگ کمنٹری ر یڈیو سے نشر ہوتی جو 1970ء تک زور و شورسے جاری رہی 1950 اور 1960 ء کی دہانیوں میں اس ملک میں کرکٹ کو مقبول عا م بنانے میں عمر قریشی اور جمشید مارکر کا بڑاہاتھ ہے یہ دونوں کمنٹریٹرز لچ انگریزی بولتے قدرت نے ان کو بڑی خوب صورت آوازوں سے نوازا تھا اور ان کا تلفظ بھی غضب کا تھا اس طرح ہاکی کہ جو ہمارا قومی کھیل ہے اور جس میں ہم 1952ء سے لیکر1980ء تک دنیا میں پہلی پوزیشن پر تھے اس کے میچوں کی کمنٹری اردو میں ریڈیو پاکستان سے ایس ایم تقی پیش کرتے اس طرح ریڈیو پاکستان بچوں کیلئے بھی ہفتہ وار خصوصی پروگرام بچوں کی دنیا پیش کرتا جس میں بچوں کی ایک بڑی تعداد شوق سے شرکت کرتی اس میں کوئی شک نہیں کہ ریڈیو پاکستان کئی نامور فلم اور ٹیلی ویژن آرٹسٹوں کیلئے ایک قسم کی ٹریننگ اکیڈیمی بھی تھی کئی فلمی اداکاروں اور ٹیلی ویژن ڈراموں میں کام کرنیوالی اداکاراؤں نے داکاری اور صدا کاری کا ہنر ریڈیو پاکستان سے ہی سیکھا ہم اس ضمن میں آپ کو چند نام گنوا دیتے ہیں ۔

کہ آغا طالش ‘ محمد علی‘ قوی خان ‘ طارق عزیز ‘ ابراہیم تفیس ‘ قاضی واجد‘ طلعت حسین ‘‘ خورشید شاہد‘ عرفان کھوسٹ‘ ضیاء محی الدین‘ کنول نصیر‘ پرتھوی راج کپور وغیرہ وغیرہ1965 ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران ریڈیو پاکستان نے پوری قوم کو متحد کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا اپنے فوجیوں کا مورال بلند رکھنے کیلئے مادام نور جہاں‘ مسعود رانا‘ شوکت علی‘ عنایت حسین بھٹی اور مہدی حسن نے خون گرمانے والے ترانے گائے نور جہان اس جنگ کے دوران17 دنوں تک ریڈیو پاکستان لاہو ر میں رہیں اور ملی ترانے ریکارڈ کرواتی رہیں باوجود اس حقیقت کے کہ ان کی چھوٹی بیٹی بیمار تھی 1957ء میں مہدی حسن کو ریڈیو پاکستان نے بطور ٹھمری سنگر متعارف کرایا اور غزل گائیکی کی طرف مہدی حسن کو راغب کرنے میں دو عظیم براڈ کاسٹرز زیڈ اے بخاری اور رفیق انور کا بڑا ہاتھ تھا اس طرح ملک میں کلاسیکل اور نیم کلاسیکل موسیقی کو مقبول بنانے میں بھی ریڈیو پاکستان کا بڑا ہاتھ تھا ‘جن دنوں زیڈ اے بخاری یا ان کے شاگردوں کا ریڈیو پاکستان میں عمل دخل تھا تو ان دنوں میں ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے پر پروگرام میں بھلے وہ کسی بھی زبان میں ہی کیوں نہ ہوتا براڈ کاسٹر کے کان ضرور کھینچتے کہ جن کا تلفظ درست نہ ہوتا ‘ ریڈیو سے جو لوگ وابستہ ہیں ان کو بجا طور پر اس بات پر حکومت سے گلہ ہے کہ وہ ریڈیو کے معاملات میں اب زیادہ دلچسپی نہیں دکھا رہی غالباً ریڈیو اب اس کی ترجیحا ت میں شامل نہیں ریڈیو ہمارا صوتی سرمایہ ہے اور اس سرمائے کی حکومت کے ہاں جو توقیر اور اہمیت ہونی چاہئے وہ ہمیں نظر نہیں آ رہی۔