بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا ہدف؟

لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا ہدف؟

پانی و بجلی کے وفاقی وزیر خواجہ آصف نے عندیہ دیا ہے کہ ملک بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے سے متعلق ہدف کے قریب پہنچ چکا ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ بجلی کی قلت کی شرح اب صرف 15.4 فیصد رہ گئی ہے۔ وفاقی وزیر کا کہناہے کہ جون کے مہینے میں بجلی کی اوسط پیداوار 18 ہزار 52 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے جو اس سے قبل جون 2012ء میں 11 ہزار 240 میگاواٹ تھی۔ وزارت پانی و بجلی کے پاس موجود اعداد و شمار بھی بجلی بحران کے خاتمے کی نوید دیتے نظر آتے ہیں دوسری جانب لوڈشیڈنگ کی شکایت عام ہے جس کے جواب میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بجلی بندش لائن لاسز کا نتیجہ ہے‘ اس عمل میں بجلی کا بل ادا کرنیوالے صارف دوسرے شہریوں کی غلطی کی سزا کے طور پر اندھیروں میں رہنے پر مجبور ہیں‘ اس سب کیساتھ بجلی کی ترسیل کے نظام میں آئے روز کی خرابیاں اور غلط میٹر ریڈنگ کے باعث اضافی بل ملنے کی شکایت عام ہے۔ معمولی آندھی یا بارش بجلی کی سپلائی کے پورے نظام کو متاثر کردیتی ہے۔ اس ساری صورتحال سے واپڈا کی سپلائی کمپنیاں اپنے طور نمٹنے کی کوشش کرتی بھی رہتی ہیں تاہم انکے وسائل پیش آمدہ مسائل کے مقابلے میں کم ہی ہوتے ہیں وفاقی حکومت بجلی کی پیداوار میں اضافے کیساتھ لوڈمینجمنٹ اور ترسیل کے نظام میں موجود خرابیوں کو دور کرنے کے لئے وسائل فراہم کرے تو عام شہری ریلیف محسوس کرے گا۔

توانائی کے وسائل سے متعلق ذمہ دار اداروں کو احساس کرنا ہو گاکہ بجلی اور گیس کی عدم فراہمی نہ صرف گھریلو صارفین کیلئے مشکلات کا باعث بنتی ہے بلکہ ملک کی مجموعی معیشت بھی اس سے بری طرح متاثر ہورہی ہے اس وقت بھی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سال کا تجارتی خسارہ 30 ارب ڈالر کی بلندی ترین سطح پر پہنچ چکا ہے اگر ذمہ دار ادارے صرف اعداد و شمار کے اتار چڑھاؤ کی رپورٹس جاری کرتے رہے اور آن گراؤنڈ صورتحال میں تبدیلی نہ آئی تو ملکی معیشت کے استحکام کی منزل کسی صورت حاصل نہیں ہو پائے گی۔

ترقیاتی منصوبوں کیلئے ٹائم فریم

وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے پشاور میں صحت و صفائی اور آبنوشی کی سکیموں میں تاخیر کا نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری بلدیات کو خود منصوبوں کا معائنہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ڈیڈ لائن کے مطابق کام نہ کرنے والے ٹھیکے داروں کو بھاری جرمانہ کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ وزیراعلیٰ پشاور کی تعمیر وترقی کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست قرار دیتے ہوئے یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔ بعد از خرابی بسیار سہی ترقیاتی منصوبوں کی ٹائم فریم کے اندر تکمیل کا احساس و ادراک قابل اطمینان ہے تاہم وزیراعلیٰ کے احکامات اور ان کے عملی نتائج کے درمیان گیپ دور کرنا ہی تبدیلی کا احساس دے سکتاہے‘ صوبے کی حکومت پشاور کی خوبصورتی کے ساتھ مختلف شعبوں میں اصلاحات کے لئے متعدد اقدامات اٹھاچکی ہے تاہم ان کے عملی نتائج ابھی تک برسرزمین نظر نہیں آرہے‘ سرکاری منصوبوں کی تکمیل کیلئے ٹائم فریم کیساتھ اصلاحات کے تحت اٹھائے گئے اقدامات کا عملی نتیجہ اسی صورت ممکن ہے جب وزیراعلیٰ اُسی طرح کے احکامات دیگر تمام ذمہ دار حکام کو بھی دیں جس طرح ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ کیلئے دئیے ہیں تاکہ حکومتی اعلانات اور عوام کو ملنے والے ریلیف میں فاصلوں کا اندازہ ہوسکے بصورت دیگر سب رائیگاں ہی جائے گا۔