بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / گھر کھر کی کہانی!

گھر کھر کی کہانی!

’محلہ خداداد‘ میں یوسف خان المعروف دلیپ کمار کے آبائی گھر‘ جسے محفوظ رکھنے اور اِس تاریخی ورثے کی حفاظت سے جڑی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ایک سے زائد صوبائی حکومتی ادارے عملاً ناکام ثابت ہوئے ہیں ایک ایسا موضوع ہے‘ جس کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اِس گھر میں ’دلیپ کمار‘ کا بچپن بسر ہوا‘ جو قطعی معمولی حوالہ نہیں اور یہی دکھ ہے کہ اِس خستہ حال مکان کی عمارت جو اپنی موت آپ مر رہی ہے تو اِسے بچانے کا یہی آخری موقع ہے!دلیپ کمار کا گھر کئی دہائیوں سے کسی کے زیراستعمال نہیں اور اِس کی خستہ حالی کا یہی ’بنیادی سبب‘ ہے کہ اِس گھر کی دیکھ بھال اور تعمیرومرمت عرصہ دراز سے نہیں ہو سکی ہے۔ لکڑی‘ مٹی اور پختہ اینٹوں سے بنا ڈھانچہ موسمی اثرات کو مزید برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا! جن مقامی افراد کو اِس گھر کی اہمیت کا علم تھا وہ یا تو وفات پا چکے ہیں یا پھر کسی سبب اندرون پشاور سے کوچ کر گئے ہیں اور نئی نسل تو بالخصوص پشاور کے تاریخی اثاثوں کی اہمیت و شناخت آشنا نہیں! اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ آج ’گھر گھر کی یعنی ہر گھر کی کہانی‘ یہی ہے کہ وہ ’پشاور آشنا‘ نہیں۔ جب پشاور اور اِس کی اہمیت کو چار چاند لگانے والے اثاثوں کے بارے میں نئی نسل کو آگاہ کرنے کا کوئی وسیلہ اور ذریعہ ہی موجود نہیں تو اُس دن کو قریب دیکھا جا سکتا ہے جب پشاور کے گلی کوچوں کے ’قدیمی نام‘ بھی تبدیل ہوتے چلے جائیں گے یا پھر اِن کی وجہ تسمیہ کسی کو یاد تک نہیں رہے گی!سال اُنیس سو بائیس‘ دلیپ کمار ’محلہ خداداد‘ کے مذکورہ مکان میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اِس مکان کا تذکرہ اپنی آب بیتی میں بھی تفصیلاً کیا ہے‘ سوال یہ ہے کہ ’دلیپ کمار‘ کون تھا‘ کیا تھا اور اُس کے آبائی گھر کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اِسے محفوظ ہونا چاہئے؟ قیام پاکستان سے قبل یوسف خان نامی جادوئی شخصیت کا مالک خوبرو نوجوان‘ ملازمت کی تلاش میں اتفاقیہ طور پر فلمی دنیا جا پہنچا‘ اُور اِس کے بعد ملنے والے اِس موقع کو اُس نے حقیر نہیں سمجھا اور نہ ہی پھر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ فلم انڈسٹری کے اُن دنوں تقاضوں کی وجہ سے اُس نے فرضی فلمی نام ’دلیپ کمار‘ اپنایا اور خوب شہرت پائی۔

شاید اِس زوایے سے بہت کم لوگوں نے سوچا ہو کہ جس ’دلیپ کمار‘ کی فن اداکاری کا ایک جہان معترف ہے اُنہوں نے ’قصہ خوانی بازار‘ سے ملحقہ ایک ایسے محلے میں آنکھ کھولی جہاں سماج اور معاشرے کے مضبوط خاندانی نظام پر گہرے اثرات ہوا کرتے تھے۔ دلیپ کمار نے اداکاری کی تعلیم و تربیت کسی ادارے سے حاصل نہیں کی بلکہ یہ اُن کی وہ خداداد صلاحیت تھی جو محلہ خداداد سے لیکر ’بالی ووڈ‘ تک عروج کی داستان ہے اور حکومت پاکستان نے اُن کی فلمی خدمات و نایاب شخصیت کا اعتراف کرتے ہوئے 1998ء میں اُنہیں اعلیٰ ترین ’سویلین اعزاز‘ نشان امتیاز‘ سے بھی نوازا۔ ذہن نشین رہے ! پشاور میں صرف دلیپ کمار ہی نہیں بلکہ بھارتی فلمی دنیا کے دیگر نامور کرداروں راج کپور اور شاہ رخ خان کے آبائی مکانات بھی موجود ہیں‘ جن کی جلدازجلد بحالی اور اِنکے حسب اہمیت استفادے کی سبیل ہونی چاہئے۔ بنیادی طور پر ’دلیپ کمار‘ کے آبائی گھر کی ’آثار قدیمہ‘ کے نکتۂ نظر سے کوئی خاص حیثیت نہیں لیکن یہ ایک نادر موقع ہو سکتا ہے کہ اِس مکان کی ثقافتی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پشاور کے اُس طرزتعمیر کو ’بطور نمونہ ہی سہی‘ لیکن پھر سے بحال کر دیا جائے‘ جو یہاں وہاں کی دیکھا دیکھی کی جانے والی تعمیرات میں کہیں گم ہو چکا ہے!