بریکنگ نیوز
Home / کالم / پانامہ کیس : نئے چیلنجز!

پانامہ کیس : نئے چیلنجز!


پانامہ کیس کا فیصلہ جس تیزی سے اپنے منطقی انجام کے قریب پہنچ رہا ہے‘ اتنی ہی تیزی سے ایک ایسے نظام کے بارے میں شکوک و شبہات بھی بڑھ رہے ہیں‘ جو ملک میں انصاف تک پہنچنے کی واحد سبیل ہے۔ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) نے وزیراعظم طلب کرلیا ہے اور اس سلسلہ میں تحریری سمن کے ذریعے کہا گیا ہے کہ وہ متعلقہ دستاویزات اور ریکارڈ کے ہمراہ پندرہ جون کی صبح گیارہ بجے جوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد حاضر ہوں۔ کیا یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے انوکھا واقعہ نہیں؟ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ میاں نوازشریف کے بطور وزیراعظم جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہونے سے ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی‘ انصاف کی عملداری اور قانون کی نگاہ میں ہر شہری کی بلاامتیاز مساوی حیثیت ہونے کا تاثر پختہ ہوگا جس سے لامحالہ جمہوری نظام کا بول بالا ہوگا اس لئے وزیراعظم نوازشریف نے پانامہ کیس میں جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہونے کا فیصلہ کرکے درحقیقت اپنی حکمرانی میں قانون کے روبرو ہر ایک کی بلاامتیاز جوابدہی کی یادگار مثال پیش کی ہے۔ اس حوالے سے وزیراعظم پانامہ لیکس کیس کی کسی بھی طریقے سے انکوائری کا سامنا کرنے کے لئے ہمہ وقت آمادہ و تیار رہے ہیں جنہوں نے خود اعلیٰ عدلیہ کے ججوں پر مشتمل جوڈیشل یا انکوائری کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا جس کے ’ٹی او آرز‘ پر اپوزیشن نے ہنگامہ کھڑا کیا اور عمران خان نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ فاضل عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی فل بنچ نے اس کیس کی طویل سماعت کی اور سماعت مکمل ہونے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا جو دو ماہ بعد صادر ہوا اور تین فاضل ججوں کے اکثریتی فیصلہ کے تحت پانامہ کیس کی مزید تحقیقات کے لئے ملک کی پانچ مختلف ایجنسیوں کے نمائندگان پر مشتمل جے آئی ٹی تشکیل دی گئی۔

جسے دو ماہ کے اندر اندر اپنی تحقیقات مکمل کرنے اور ہر دو ہفتے بعد اپنی کارکردگی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اگرچہ وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز نے جے آئی ٹی کے دو ارکان پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور دادرسی کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ اس کے باوجود انہوں نے ’جے آئی ٹی‘ کے روبرو پیش ہونے اور مکمل تعاون کرنے کا عندیہ بھی دیا چنانچہ جے آئی ٹی کے طلب کرنے پر وہ پانچ بار اور اُن کے بھائی حسن نواز دو مرتبہ جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہوئے جس کی کاروائی اور اس کے طریقۂ کار پر حکمران مسلم لیگ (نواز) کے ارکان کی جانب سے سخت اعتراضات بھی اٹھائے گئے اور اسی دوران نواز لیگ کے سینیٹر نہال ہاشمی کی ایک جوشیلی تقریر بھی منظرعام پر آگئی جس میں ان کی جانب سے جے آئی ٹی کے ارکان اور ان کے اہل خانہ کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ اس کے باوجود وزیراعظم کے صاحبزادوں اور اب خود وزیراعظم نے جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہونے کے معاملہ میں کسی پس و پیش کا مظاہرہ نہیں کیا جو ان کی جانب سے آئین و قانون اور عدلیہ کے احترام کا واضح عندیہ ہے تاہم نواز لیگ کے بعض ارکان کی جانب سے جے آئی ٹی کے خلاف اشتعال انگیز بیانات پر مبنی ایک جارحانہ مہم کا آغاز کردیا گیا‘ سیاسی محاذ آرائی پر مبنی یہ صورتحال برقرار رہتی ہے تو اس سے وزیراعظم کی پیشی کے روز حکمران پارٹی اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے مابین ٹکراؤ اور خون خرابے کا اندیشہ ہے اور اسی تناظر میں قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف سیدخورشید شاہ نے اس ممکنہ تصادم سے نظام کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ظاہر کیا اور حکمران نواز لیگ کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ مہم جوئی سے گریز کرے۔

اسی طرح وزیراعلیٰ سندھ اور پیپلزپارٹی کے دیگر عہدیداروں نے بھی حکمران نواز لیگ اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے مابین تصادم کی صورت میں جمہوریت کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے جبکہ عمران خان نے ماتحت اِداروں سے تحقیقات تک وزیراعظم نوازشریف سے مستعفی ہونے کا تقاضا کیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کو دھمکیاں سپریم کورٹ پر حملے کے مترادف ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر طاہرالقادری نے بھی کینیڈا سے پاکستان واپس آکر اشتعال انگیز سیاست والا محاذ سنبھال لیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ جے آئی ٹی کے ذریعے نواز لیگ کا انتخابی منشور تیار ہورہا ہے جسے لے کر میاں نوازشریف عوام کے پاس جائیں گے۔
جے آئی ٹی کے خلاف محاذ آرائی کا حکمران نواز لیگ کے ارکان کی جانب سے آغاز کیا گیا جس کے نتیجہ میں سیاسی درجہ حرارت آج انتہاء درجے تک پہنچا نظر آتا ہے‘ اس کے باوجود وزیراعظم اپنے صاحبزادوں کے علاوہ خود بھی جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہورہے ہیں تو یہ حکمران پارٹی اور حکمران خاندان کی طرف سے آئین و قانون اور عدلیہ کے احترام کا ہی پیغام ہے جو وزیراعظم کی جانب سے ایک تاریخ رقم کی جارہی ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر نصرت عزیز۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)