بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / گیس انفراسٹرکچرڈویلپمنٹ سیس کی وصولی روک دی گئی

گیس انفراسٹرکچرڈویلپمنٹ سیس کی وصولی روک دی گئی

پشاور۔پشاورہائی کورٹ کے جسٹس قیصررشید اورجسٹس لعل جان خٹک پرمشتمل دورکنی بنچ نے خیبرپختونخوا کے مختلف صنعتی یونٹس سے گیس انفراسٹرکچرڈویلپمنٹ سیس کی وصولی20جون تک روکتے ہوئے جواب مانگ لیاعدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے سیف ٹیکسٹائل ملزکی جانب سے قاضی غلام دستگیرایڈوکیٹ کی وساطت سے دائررٹ کی سماعت کی اس موقع پرعدالت کو بتایاگیاکہ جی آئی ڈی سی کے خلاف ابتدائی طورپرپشاورہائی کورٹ میں رٹ دائرکی گئی تھی جسے خارج کرتے ہوئے جی آئی ڈی سی کو قانونی قرارد یاگیاتھا تاہم اس حوالے سے فیصلے میں تفصیلی وجوہات نہیں آئیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس حوالے سے سابق لیٹی گیشن کے عمل میں سپریم کورٹ تک جی آئی ڈی سی کو غیرقانونی قرار دیاگیاتھاتاہم بعدازاں وفاق نے اس حوالے سے قانون سازی کی جسے قانونی تحفظ فراہم کیاگیاانہوں نے بتایا کہ31مئی2017ء کو جوفیصلہ سامنے آیاہے اس میں جی آئی ڈی سی کو قانونی قرار دیاگیاہے چونکہ یہ گیس کے ماہانہ بلوں میں وصول کیاجاتاہے اورگذشتہ ایک سال سے حکم امتناعی کے ذریعے صنعتی یونٹس کے مالکان اسے ادا نہیں کررہے تھے ا س بناء اس فیصلے کے بعد گیس حکام ممکنہ طورپر اسے موجودہ مہینے کے گیس بلوں میں شامل کریں گے جس کی یکمشت وصولی سے صنعتی یونٹس پرشدیدبحران آئے گاچونکہ درخواست گذار اس حوالے سے کیس سپریم کورٹ میں دائرکرناچاہتے ہیں جس کے لئے60روز کی مہلت ہوتی ہے ۔

لہٰذاسپریم کورٹ کے فیصلے تک قانون کے تحت ہائی کورٹ کواپنے فیصلے پرعملدرآمد روکنے کااختیار حاصل ہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے تک متعلقہ حکام کو جی آئی ڈی سی کی وصولی سے روکاجائے جس پرعدالت نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے 20جون تک جی آئی ڈی سی کی وصولی سے روکتے ہوئے وفاق سے جواب مانگ لیا۔