بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پی ٹی آئی کی حکومت صوبہ میں حقیقی تبدیلی لائی ٗ پرویز خٹک

پی ٹی آئی کی حکومت صوبہ میں حقیقی تبدیلی لائی ٗ پرویز خٹک

پشاور۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہاہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے چار سال کے دوران اداروں کی اصلاح کر انکو پیروں پر کھڑا کیا صوبہ میں حقیقی تبدیلی کا خواب شرمندہ تعبیر کرکے عوام کی تقدیر بد ل دی جس کے بعد اب اگلے الیکشن میں صوبہ کی انتخابی وسیاسی روایت توڑتے ہوئے اگلی حکومت بھی ہم ہی بنائیں گے وہ گذشتہ روز صوبائی اسمبلی میں بجٹ پر اظہار خیال کررہے تھے انہوں نے کہاکہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو بدامنی کادوردورہ تھا دہشتگردی ،اغواء برائے تاوان ،بھتہ خوری عروج پرتھی۔

سرمایہ کاراپنا سرمایہ نکال کرصوبہ سے نکل رہے تھے مگر ہماری نیت صاف اور ارادے نیک تھے اس لیے اللہ نے ہماری مددکی اور صوبہ کے حالات بدلتے گئے جس میں پاک فوج ،پولیس اورعوام کی قربانیوں کاہی عمل دخل تھا اور اب صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے جبکہ سی پیک کی شکل میں تعمیر وترقی کے نئے مواقع بھی آرہے ہیں ،ہم نے صوبہ میں نظام کی اصلاح کامشکل کام شروع کیاجس پرکبھی کسی بھی حکومت نے توجہ کی زحمت گوارہ نہیں کی تھی ۔

اس کے لیے پہلے دوسال تو قانون سازی پر لگادیئے اور ریکارڈ قانون سازی کرکے اداروں کو درست ٹریک پرڈال دیا ہمارے ہاں بدقسمتی سے کوئی بھی حلقہ کی سیاست سے آگے کی نہیں سوچتا مگر ہم نے یہ روایت ختم کی اگرچہ ہم اوروں کی طرح اسلام کے نام پرووٹ لے کربرسراقتدار نہیں آئے تھے مگر پھر بھی ہم نے اسلامی قانون سازی واقدامات پربھی توجہ مرکوز کی چنانچہ پہلی سے پانچویں تک ناظرہ قرآن اور چھٹی سے بارہویں تک باترجمہ قرآن کولازمی قراردیا،جہیز کی لعنت کے خاتمہ کے لیے جلد قانون بن جائے گا نجی سودکے خلاف پہلے ہی قانون بنادیاہواہے اسی طرح نصاب تعلیم سے تما م غیر اسلامی موادکو خارج کردیا ۔

انہوں نے کہاکہ نظام تعلیم کو انگریزوںیا آمروں نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا کہ ہم سیاسی لوگوں نے پہنچایاہے کیونکہ ہم نے اساتذہ کو سیاست میں ملوث کردیا جس سے سرکاری سکول تباہ ہوتے چلے گئے ،ساری توجہ تبادلوں پرمرکوز ہوکررہ گئی اس لیے غریب کابچہ حصول تعلیم کے معیاری مواقع سے محرو م ہوگیا ،ہم نے برسراقتدار آکر سب سے تبادلوں پرپابندی لگا دی ساتھ ہی سکولوں کی بنیادی سہولیات کی فراہمی پر اربوں روپے لگا ئے ۔

طبقاتی فرق ختم کرنے کیلیئے سرکاری سکولوں میں انگریزی نظام تعلیم متعارف کرایا ،جس کے بعدسرکاری سکولوں پر لوگوں کااعتماد بحا ل ہوتا چلاگیا ،انہوں نے کہاکہ ہسپتال تو تھے مگرڈاکٹر اورسہولیات نہیں تھیں آدھے سے زائد ڈاکٹر غیر حاضر تھے 800ڈاکٹردہری نوکریاں کررہے تھے جن کہ ہم نے فارغ کردیا ،نئی بھرتیاں کیں تنخواہوں میں دوگنے تگنے اضافے کیے حاضری کو لازمی قراردیا ساتھ ہی ایم ٹی آئی کے ذریعے بڑے ہسپتالوں کو خود مختاربنایا ،جبکہ اٹھارہ لاکھ خاندانوں کو انصاف کارڈ فراہم کیے اور دس لاکھ خاندانوں کو رواں برس فراہم کریں گے ہسپتالوں کی بہتر ی کیلئے چودہ ارب روپے کی ضرورت ہے جس کے بعدصوبہ بھرمیں صحت کے مسائل کم ہوتے چلے جائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے میرٹ پر بھرتیاں کیں اور نیا بلدیاتی نظام لاکر اسے بااختیاربنایا ہمارے صوبہ میں سیاحت کے فروغ کے کافی امکانات ہیں صوبائی حکومت نے ڈیڑھ ارب روپے سے نتھیاگلی کی شکل بد ل دی ہے اسی طرح کالام ،ناران اورچترال پربھی کروڑوں روپے لگا کر سیاحتی مواقع بڑھارہے ہیں ہم نے صوبہ میں جنگلات مافیا کو لگام دی اور درختوں کی تعداد بڑھانے کے لیے بلین ٹریز سونامی پراجیکٹ شروع کیاجس کی شفافیت کی گواہی عالمی اداروں نے دی ہمارے آنے سے پہلے کے دس سال میں ونڈفال کے نام پر دوسوارب روپے کی لکڑ ی کاٹی گئی جبکہ ستر سال میں60کروڑ پودے لگے ہم نے چار سال میں 80کروڑ پودے لگائے اوراب چترال ودیر میں کٹائی روکنے کے لیے پاک فوج کی مدد بھی حاصل کررہے ہیں ہم بلین ٹریز سونامی کے ایک ایک پودے کاحساب دینے کے لیے تیارہیں ۔

انہوں نے کہاکہ نئی پولیس دینے کے لیے میں نے اپنے اختیارات قربان کردیئے کارکردگی بہتر بنانے کے لیے پولیس میں ہر قسم سیاسی مداخلت ختم کرادی یہی وجہ ہے ہماری پولیس پورے ملک میں مثالی پولیس بن چکی ہے صنعتی ترقی کے لیے سترہ نئے انڈسٹریل اسٹیٹس لگائی جارہی ہیں مغربی روٹ کی وجہ سے صوبہ صنعتوں کے لیے سب سے زیاد ہ فیزیبل ہوتاجارہاہے انہوں نے کہاکہ بجلی منافع کی رقم ڈی کیپ کرنا ہماری کامیابی ہے اور اب بھی ہم مرکزسے بجلی بقایہ جات اورجائز منافع لینے کے لیے قانونی جنگ میں مصروف ہیں اگر ہم سے پہلی حکومتوں نے کچھ بویاہوتاتوہم آج کچھ کاٹنے کی پوزیشن میں ہوتے لیکن انہوں نے کچھ کیا ہی نہیں تو ہم آج کیا کاٹیں۔انہوں نے سوات موٹر وے کے لیے صوبائی حکومت مجموعی طورپر15ارب خرچ کررہی ہے جبکہ ایف ڈبلیو او کو 5 ارب کا جو قرضہ دیاجارہاہے۔

اس سے منصوبہ جلد مکمل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم جتنابھی خرچہ کررہے ہیں وہ ہمیں واپس مل جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ اے این پی کی حکومت نے مجموعی طور پر اپنے پانچ سالہ دور میں57میگاواٹ بجلی پیدا کی جو نہ ہونے کے برابر ہے تاہم ہم آج جن منصوبوں پر کام کررہے ہیں ان کے نتائج پانچ سالوں کے بعد سامنے آنا شروع ہوجائیں گے جس سے یقینی طور پر انقلاب برپا ہوگا