بریکنگ نیوز
Home / انٹرنیشنل / امریکہ میں ارکانِ کانگریس پر حملہ

امریکہ میں ارکانِ کانگریس پر حملہ


واشنگٹن ۔امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن سے متصل ریاست ورجینیا کے علاقے الیگزنڈریہ میں بیس بال کے ایک پریکٹس میچ کے دوران ارکانِ کانگریس پر فائرنگ کرنے والا شخص صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کڑا ناقد تھا۔امریکی میڈیا کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کی شناخت 66 سالہ جیمز ہوجکنسن کے نام سے ہوئی ہے جو ریاست الی نوائے کے شہر بیلے ول کا رہائشی تھا۔ملزم کی فائرنگ سے ریاست لوزیانہ سے ایوانِ نمائندگان کے منتخب رکن اور ری پبلکن رہنما اسٹیو اسکالس سمیت چار افراد زخمی ہوگئے تھے۔

حملہ آور بعد ازاں ارکانِ کانگریس کی حفاظت پر مامور کیپٹل پولیس کے اہلکاروں کی جوابی فائرنگ میں مارا گیا تھا۔پولیس کے مطابق جیمز ہوجکنسن ایک چھوٹے کاروبار کا مالک تھا جس کا نام شراب پی کر ڈرائیونگ کرنے، گرفتاری میں مزاحمت اور گھریلو تشدد جیسے نسبتا چھوٹے جرائم میں ملوث ہونے کے باعث پولیس کے ریکارڈ میں پہلے سے موجود تھا۔ملزم کے سوشل میڈیا پر موجود اکاونٹس سے پتا چلا ہے کہ وہ سیاست دانوں کا کڑا ناقد اور ری پبلکن پارٹی کا سخت مخالف تھا اور فیس بک پر ری پبلکن جماعت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرنے والے ایک فیس بک گروپ کا رکن بھی تھا۔ملزم کے سوشل میڈیا اکاونٹس سے پتا چلا ہے کہ وہ صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ پارٹی کے ٹکٹ کے امیدوار برنی سینڈرز کا حمایتی تھا اور ان کی انتخابی مہم میں بطور رضاکار بھی شریک رہا تھا۔

اپنے ایک بیان میں سینیٹر برنی سینڈرز نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تشدد کو امریکی معاشرے میں کسی صورت قبول نہیں کیاجاسکتا۔اپنے سوشل میڈیا اکاونٹس پر ہوجکنسن تقریبا روز ہی صدر ٹرمپ کے خلاف پوسٹ کیا کرتا تھا جن میں سے بعض جھوٹی خبروں اور نازیبا مذاق پر مشتمل ہوتی تھیں۔اپنی بعض پوسٹس میں ملزم نے 2016 کے صدارتی انتخابات میں ڈونالڈ ٹرمپ کا مقابلہ کرنے والی ڈیموکریٹ امیدوار ہیلری کلنٹن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ آیا ہوجکنسن کو پہلے سے علم تھا کہ جہاں وہ فائرنگ کرنے والا ہے وہاں ارکانِ کانگریس موجود ہیں اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ کیا وہ کسی مخصوص رکنِ کانگریس کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔کئی علاقہ مکینوں نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ ملزم کا بیس بال کے میدان کے ساتھ ہی واقع ایک سماجی مرکز میں آنا جانا تھا۔پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اور حکام نے تاحال اس واقعے کو دہشت گردی قرار نہیں دیا ہے۔