بریکنگ نیوز
Home / کالم / پارلیمنٹ کو نظر انداز نہ کریں

پارلیمنٹ کو نظر انداز نہ کریں

ایک معاملہ بیرونی ہے اور دوسرا اندرونی۔ پر ہیں دونوں اہم قومی اہمیت کے حامل لہٰذا ان پر تبصرہ موخر نہیں کیاجاسکتامیاں نوازشریف آرمی چیف کو ساتھ لیکر اچانک ریاض اگلے روز گئے اس پر سیاسی حلقوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں، اس سے پیشتر حکومت نے اس خبر کی تردید تو کی کہ سعودی عرب اور خلیج کے ایک ملک کے درمیان تنازعے میں پاکستان نے وہاں اپنی فوج نہیں بھجوائی پر اس قسم کے معاملات میں ہمارے حکمران اگر پارلیمنٹ کے اراکین کو اعتماد میں لے لیا کریں تو غلط فہمیاں کبھی بھی جنم ہی نہ لیں بلاشبہ سعودی عرب نے مالی معاملات میں ہماری کئی مرتبہ مدد کی ہے پر اسکا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم اسکی ایران دشمن پالیسی میں اسکی اندھی تقلید کریں، قطر کے ساتھ ریاض کے اور دیگر خلیجی ریاستوں کے تعلقات خراب ہونیکی ایک بڑی وجہ قطر کے ایران کیساتھ اچھے تعلقات ہیں، خلیج کے مسلمان ممالک کے آپس میں تعلقات ٹھیک کرنے کی بے شک آپ کاوش کریں کہ اس میں امت اسلامیہ کا فائدہ ہے پر یہ تاثر بالکل بھی نہیں پیدا ہونا چاہئے کہ آپ اس قضیے میں کسی فریق کی طرف داری کررہے ہیں پھر ذرا آپ یہ بھی سوچیں کہ کیا سعودی عرب کا شاہی گھرانہ آپ کو گھاس بھی ڈالے گا یا نہیں؟ سعودی عرب کے وزیر دفاع کیساتھ یہ بیان منسوب کیاگیا ہے کہ وہ برصغیر کے مسلمانوں کو حقارت سے دیکھتے ہیں اور انہیں ہندی مسکین مسلمان کے نام سے پکارتے ہیں وہ عجم کے مسلمانوں کو وہ توقیر اور قدر نہیں دیتے جو وہ عرب کے مسلمانوں کو دیتے ہیں اور پھر ڈونلڈ ٹرمپ کب چاہے گا کہ عرب کے مسلمان ممالک ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں، ان حقائق کے پیش نظر میاں نواز شریف کا ان مسلمان ملکوں کو یکجا کرنا کوئی آسان کام نہ ہوگا، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کو البتہ یہ بیان نہیں دینا چاہئے تھا کہ وزیر اعظم کا دورہ سعودی عرب ناکام رہا ابھی تواس دورے کی پوری تفصیلات منظر عام پر آنی ہیں ان کو ایڈوانس میں کیسے پتہ چل گیا کہ یہ دورہ کامیاب تھا یا ناکام۔

ہاں اس مطالبے میں البتہ وزن ہے کہ وزیراعظم اس مسئلے پار لیمنٹ کو اعتماد میں ضرور لیں یہ بات بھی وضاحت طلب ہے کہ کیا اس تنازعے کے کسی فریق نے وزیراعظم صاحب سے درخواست کی تھی کہ وہ ہمارے درمیان مصالحت کریں یا نوازشریف صاحب ازخود وہاں تشریف لے گئے، اگر وہ ازخود وہاں گئے تو پھر تو یہ ’’توکون میں خواہ مخواہ‘‘ یا ’’بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ‘‘ والی بات تھی، ملک کے اندرونی سیاسی محاذ پر انٹرا پارٹی الیکشن منعقد کرواکر پاکستان تحریک انصاف نے ایک اچھی سیاسی روایت قائم کی ہے اس لئے اسے اس کا کریڈٹ ضرور ملنا چاہئے، گو اس پارٹی کے مخالفین اس الیکشن کو آئی واش سے تعبیر کرتے ہیں، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بہتر ہوتا اگر انٹرا پارٹی الیکشن گراس روٹ سطح یعنی ضلعی سطح پر بھی کرائے جاتے اور خواتین کو بھی کھل کر یہ الیکشن لڑنے کی اجازت ہوتی بہر حال سیاسی روایات ایک دن میں نہیں بنا کرتیں پی ٹی آئی اس انٹرا پارٹی الیکشن کے تجربے سے فائدہ اٹھا کر ان کمیوں کو آئندہ ہونیوالے انٹرا پارٹی الیکشن میں پورا کرسکتی ہے جو بنیادی بات ہے وہ یہ ہے کہ ہر سیاسی پارٹی میں اوپر سے نامزدگیوں کے بجائے پارٹی کے اراکین کو موقع دینا چاہئے کہ وہ الیکشن کے ذریعے اپنے عہدہ دار چنیں‘خدا لگتی بات یہ ہے کہ مقابلتاً یا نسبتاً جو طریقہ کار جماعت اسلامی انٹرا پارٹی الیکشن کے دوران اپناتی ہے وہ بہتر اس لئے ہے کہ اس میں موروثیت کی گنجائش بالکل نہیں پارٹی کا ہر رکن اپنی محنت، پارٹی سے لگن اور قابلیت کی بنیاد پر پارٹی کا قائد بن سکتا ہے۔

جو اچھی بات ہے اسے تسلیم کرکے اس کی تعریف کرنی چاہئے‘ الیکشن کمیشن ہر سیاسی پارٹی کی فنڈنگ کے طریقہ کار کو شفاف بنائے کیونکہ یہ بات کنفرم ہے کہ سیاسی دھن رکھنے والے اکثر لوگ اس پارٹی میں بھاری رقوم بطور فنڈ جمع کرادیتے ہیں کہ جس کے الیکشن جیتنے کے چانس زیادہ ہوتے ہیں۔