بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / تصویر کے دو رخ

تصویر کے دو رخ

ایک طرف وہ ڈاکٹر ہیں جو سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورالوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن( ایس آئی یو ٹی) سمیت اس جیسے متعدد دیگراداروں میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں، نہ تنخواہوں میں اضافے کی فکر‘ نہ وظائف و الاؤنسز کو بڑھاوا دینے کی جستجو، نہ سکیورٹی صورتحال کی پرواہ‘ نہ عہدوں کی لالچ اور نہ ہی متعلقہ اداروں کے منتظمین کیخلاف سازشوں میں وقت کا ضیاع ‘ انھیں تو کسی کو ڈیوٹی اوقات کار کی پابندی کا بھی نہیں کہنا پڑتا بلکہ وہ تو اکثر اپنے متعین اوقات کار سے بھی زیادہ وقت اپنے مریضوں کے آس پاس گزارتے ہیں ایسا بھی نہیں کہ انکی استعداد کار و مہارت کی کمی انکے کسی کمرشل ادارے یا کسی سرکاری ہسپتال میں ملازمت اختیار کرنیکی راہ میں رکاوٹ ہے بلکہ ا نکی پیشہ ورانہ صلاحیتیں سرکاری ہسپتالوں میں تعینات بہت سے ڈاکٹرز سے بدرجہا بہتر ہیں،ان میں ینگ ڈاکٹرز بھی ہیں سینئر سپیشلسٹس بھی اور اگر وہ چاہیں تو انھیں انکی موجودہ تنخواہوں سے کئی گنا زیادہ مشاہروں پر نوکریاں مل سکتی ہیں لیکن وہ اپنے حال پر خوش و مطمئن ہیں اس لئے کہ نہ ہی مالی منفعت و ذاتی مفاد ات کو مقدم رکھنے کی جستجو انکے جذبہ مسیحائی کو زیر کر سکی اور نہ ہی لالچ و حرص کی چکا چوند انکی آنکھوں کو خیرہ کرنے میں کا میاب رہی ہے ان درخشندہ مثالوں کو سوچ کے ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ کر دوسرے پلڑے میں ان اصحاب کو رکھا جائے جو ایک مخصوص گرو پ کے پلیٹ فارم سے خیبرپختونخوا کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں آئے روز سراپااحتجاج رہتے ہیں تو دونوں میں فرق صاف ظاہر ہو جاتا ہے ماہانہ وظائف کی شرح بڑھانی ہو توانکا احتجاج ‘الاؤنسز میں اضافہ مقصود ہو تواحتجاج‘سکیورٹی خدشات ہوں تواحتجاج‘ ملازمت کے اوقات کار پر عمل درآمدیقینی بنانے کیلئے بائیو میٹرک سسٹم لاگو کیا جائے تو احتجاج،انتظامی عہدوں پر سخت گیر افسران کی تعیناتیاں عمل میں لائی جائیں تو احتجاج اور زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ بسا اوقات تو احتجاج کا آغاز ہی انتہائی اقدام ( ہڑتال ) سے ہو تا ہے مذکورہ ڈاکٹرز کے طرز عمل کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو تا ہے کہ وہ سرکاری ملازم ہوتے ہوئے واضح طور پر یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ہم نے نوکری سرکار کی شرائط پر نہیں کرنی بلکہ ملازمت کو اپنی شرائط کے تابع رکھنا ہے۔

‘سرکاری ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹرز حضرات میں سے ایک مختصر سا ٹولہ وہ بھی ہے جو اپنے مفادات سے متصادم ہر انتظامی فیصلے کو عدالتی سٹے آرڈرز کے زور پر روکنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اگر عدالت سے ریلیف حاصل کرنے میں ناکامی ہو تو یہ ٹولہ جو سینئر ڈاکٹرز پر مشتمل ہے اپنے جونیئر ڈاکٹرز کی طاقت کو اپنے لئے استعمال میں لانے کی کوشش کرتا ہے اس ضمن میں مثالیں بھی ہیں ‘بہت سی میڈیا رپورٹس کا حوالہ بھی دیا جا سکتا جبکہ ڈاکٹرز کی بعض تنظیموں مثلاََ پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور انصاف ڈاکٹرز فورم کی جانب سے ینگ ڈاکٹرز کے حالیہ احتجاجی اقدامات سے متعلق جو موقف سامنے آیا ہے وہ بھی اشارہ دے رہا ہے کہ’’ احتجاج بریگیڈ ‘‘ زیادتی کی مرتب ہو رہی اور اس کا مطمع نظر مخصوص نوعیت کے مفادات کا حصول ہے ، پیشے کا تقدس ملحوظ خاطر رکھنا ‘فرائض کی ادائیگی کے تقاضوں کی تکمیل ‘دکھی انسانیت کی خدمت کا احساس‘ غریب مریضوں کی حالت زار کا خیال اور اداروں کی اصلاح کے عمل میں معاونت انکی ترجیحات میں نہیں پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا یہ موقف ریکارڈ پر ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت نے مختلف کیڈرز سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز کو درپیش مسائل حل کرنے کیلئے اطمینان بخش اقدامات اٹھائے ہیں‘ ان اقدامات میں ڈاکٹرز کے سروس سٹرکچر میں بہتری لانا ‘ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس کا اجراء اور مختلف دیگر الاؤنسز کے شر ح میں اضافہ وغیرہ شامل ہیں۔

پی ڈی اے عہدیداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’اگر ڈاکٹرز کے نمائندے صوبائی حکومت کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں تو دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے دیگر حل طلب معاملات کے حل کی جانب بھی مثبت انداز میں بڑھا جا سکتا ہے‘‘ ، مطلب یہ ہوا کہ صوبائی حکومت ڈاکٹرز کے جائز مطالبات سننے اور ان پر عمل درآمد کے حوالے سے لائحہ عمل کے تعین کیلئے تیار ہے لیکن ایسا تب ہی ممکن ہے جب ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے ہر معاملے میں انتہائی اقدام کا سہار ا لینے کی پالیسی ترک کی جائے اور صبر و تحمل کے ساتھ آگے بڑھنے کی راہ اختیار کی جائے،یہ امر باعث اطمینان ہے کہ ینگ ڈاکٹرز کے طرز عمل کے خلاف ڈاکٹر برادری کے اندر ہی سے آوازیں اٹھنے لگی ہیں مطلب یہ ہواکہ احتجاج کے زور پر میڈیا کی توجہ حاصل کرنے والے گروہ کی کار گزاریاں تصویر کا ایک رُخ ہیں سرکاری ہسپتالوں میں ان ڈاکٹرز کی بھی اچھی خاصی تعداد موجود ہے جن کے دلوں میں ابھی خوف خدا‘ انسانیت نوازی اور فرائض منصبی کی دیانت دارانہ ادائیگی کا جذبہ موجود ہے یہی لوگ صوبے کے سرکاری ہسپتالوں اور غریب مریضوں کی لئے امید کی کرن ہیں۔