بریکنگ نیوز
Home / کالم / پانامہ کیس: تحقیقاتی عمل!

پانامہ کیس: تحقیقاتی عمل!

پاکستان کی سیاسی و آئینی تاریخ میں نئے باب کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک بیٹے سے سخت تحقیقات کے بعد اب اس کے والد جو کہ ملک کے وزیراعظم جیسے اہم اور سب سے بڑے عہدے پر فائز ہیں خود کو ایک ایسی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کر رہے جو ان سے ’’شریف خاندان‘‘ کے بیرون ملک اثاثہ جات کی منی ٹریل کی تحقیقات میں مصروف ہے۔ اس ملک میں یہ ایک غیر معمولی موقع ہوگا کہ جب سب سے بڑا رہنما تحقیقات کے لئے خود کو کسی کے سامنے جوابدہ کے طور پر پیش ہوا‘ البتہ یہ کسی کو نہیں معلوم کہ ان غیر معمولی تحقیقات کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ جو باتیں شکوک شبہات کو پختہ کرتی ہیں‘ ان میں چند سرکاری محکموں کی جانب سے دستاویزات سے چھیڑ چھاڑ کے الزامات اور تحقیقات کو متنازع بنانے کی ایک منظم مہم شامل ہیں۔ حکمران جماعت کے ممبران کے اشتعال انگیز بیانات‘ تحقیقاتی کمیٹی کے ممبران اور تحقیقات کے نگران جج صاحبان کو ڈرانے دھمکانے کی حکمت عملی کا حصہ لگتے ہیں۔ جہاں سینیٹر نہال ہاشمی کی منی ٹریل کے تحقیق کاروں کو وارننگ اس قدر اشتعال انگیز اور واضح تھی کہ جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا‘ وہیں عدلیہ کو ہدف بنانے والی نواز لیگ کے دیگر رہنماؤں کی مسلسل دھواں دھار تقاریر کسی خطرے سے کم نہیں لگتیں۔

ایسے تبصروں پر جج صاحبان کے شدید غصے کا اندازہ جسٹس عظمت سعید کے اس ریمارکس سے لگایا جاسکتا ہے: ’’ایسا تو دہشت گرد اور مافیا کرتے ہیں۔‘کسی قسم کے سیاسی رد عمل سے بچنے کیلئے‘ پارٹی نے سینیٹر کو پارٹی سے نکال دیا لیکن عدلیہ کو ہدف بنانے والے دیگر ممبران کو روکنے کی ابھی کسی قسم کی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے نواز لیگ کا ماضی کا ریکارڈ کچھ ایسا شاندار نہیں ہے قارئین کو 1997 کا سن یاد ہوگا جب جسٹس سجاد علی شاہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے اور انہوں نے ایک کیس میاں نوازشریف جو اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم تھے کے خلاف سننے کا فیصلہ کرلیا تھا تو یار لوگ بسیں بھر بھر کر سپریم کورٹ لے آئے تھے اور مشتعل کارکنوں نے سپریم کورٹ پر دھاوا بول دیا تھا یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ اس وقت پولیس سائیڈ پر ہو گئی تھی اور کارکنوں کو کھل کر اپنا کھیل کھیلنے کا موقع مل گیا تھا تب جج صاحبان کو عدالت سے بھاگنا پڑا تھا بعد میں میڈیا میں ایسے انکشافات بھی آئے کہ میاں صاحب جسٹس سجاد علی شاہ کو گرفتار کرانا چاہتے تھے تاکہ یہ واقعات اب قصہ ماضی بن گئے ہیں بلاشبہ‘ جے آئی ٹی کی تشکیل کے حوالے سے چند اعتراضات‘ خاص طور پر عسکری خفیہ اداروں کی شمولیت‘ جائز مانے جاسکتے ہیں مگر اسے تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے ایک بہانے کے طور پر ہر گز استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔ چند اپوزیشن پارٹیاں‘ خاص طور پر پی ٹی آئی‘ بھی جے آئی ٹی کو متنازع بنانے اور سپریم کورٹ پر دباؤ ڈالنے میں اپنا حصہ ڈال چکی ہیں۔ عدالت کے باہر سرکس لگا کر حکمران اور اپوزیشن ممبران کا ایک دوسرے کو گالیاں دینے کا عمل انتہائی شرم ناک ہے۔

اس جاری سیاسی محاذ آرائی اور چند حکومتی محکموں کے مبینہ عدم تعاون نے تحقیقات کاروں کے کام انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ بلاشبہ پاناما گیٹ سکینڈل کے حوالے سے اس انتہائی غیر معمولی تحقیقات کو ایسی تمام رکاوٹوں سے متاثر ہونے سے بچانے کا ذمہ اعلیٰ عدالت کا ہے۔ یقیناًہر کسی کو مطمئن کرنا آسان نہیں لیکن اس ملک میں ایک منصفانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات یقیناًاحتساب کے عمل کو تقویت بخشیں گی یہ بات شاید سچ ہو کہ پاناما پیپرز سکینڈل نے معاملات کو سب کے سامنے کھول کر پیش کر دیا ہے لیکن شریف خاندان پر لندن میں مہنگی جائیدادوں کی خریداری کے الزامات نئے نہیں ہیں پہلی بار ایسا معاملہ قریب دو دہائیوں پہلے ایک ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آیا جس میں ’مے فیئر نامی اپارٹمنٹس‘ کی ملکیت کے بارے میں تفصیلات فراہم کی گئی تھیں۔ پرویز مشرف کی فوجی حکومت میں قید کے دوران اسحاق ڈار نے مبینہ طور پر پیسوں کی منتقلی (منی ٹریل) کے بارے میں اہم معلومات فراہم کی تھیں۔ اگرچہ وزیر خزانہ کے دعویٰ کے مطابق وہ بیان زبردستی دلوایا گیا تھا مگر اب بھی معاملے کی تہہ تک تحقیقات کی جانے ضرورت ہے۔ سچ سامنے لانے کا واحد طریقہ اس سکینڈل کی غیر جانبدار تحقیقات ہے‘ جس کے باعث پورے سیاسی نظام پر عوام کا اعتماد داؤ پر لگا ہوا ہے۔ بلاشبہ جے آئی ٹی ایک بہترین انتخاب نہیں ہے مگر اقتدار میں بیٹھے افراد کیخلاف کاروائی کرنے میں ہماری تحقیقاتی ایجنسیوں کی نااہلی کے پیش نظر اعلیٰ عدالت کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ بھی نہیں بچا تھا۔ وزیر اعظم کے ’جے آئی ٹی‘ کے سامنے پیش ہونے سے ملک میں جمہوری عمل کمزور نہیں بلکہ مضبوط ہونا چاہئے اور تنقید کرنیوالوں کو بھی اسے مثبت زوایئے ہی سے دیکھنا چاہئے کیونکہ پاکستان کے ادارے بہرحال شخصیات سے بڑے اور مقدم ہیں۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: زاہد حسین
ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)