بریکنگ نیوز
Home / کالم / سیاسی جنگیں

سیاسی جنگیں

ایک زمانے سے دیکھا جا رہا ہے کہ صرف سیاسی ادارے ہی واحد ادارے ہیں جہاں ہر پارٹی کے اراکین دوسری پارٹی کو کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں اسکے علاوہ کسی بھی ادارے کو دیکھیں تو اگر ان کے کسی بھی رکن سے کوئی کوتاہی ہو جاتی ہے تو سارا ادارہ اُس کو بچانے میں لگ جاتا ہے۔ اسی کو دیکھئے کہ کل ہی طاہر القادری صاحب انکشاف فرما رہے تھے کہ جس ایس ایچ او پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ذمہ داری ڈالی گئی اور اس کو معطل کیا گیاآج وہی شخص ماڈل ٹاؤن تھانے میں انسپکٹر کے طور پر بیٹھاہے اور جن لوگوں پر منہاج القران والوں نے ایف آئی آر درج کروائی تھی اُن کو کسی نے ہاتھ تک بھی نہیں لگایا ۔ایف آئی آر تو نواز شریف اور شہباز شریف پر تھی کہ انہوں نے باقاعدہ پلان کے تحت منہاج القران کے سیکرٹریٹ پر حملہ کروایا تھا اور دونوں بھائی ایک اسلام آباد سے اور دوسرا جاتی عمرہ سے اپنے لوگوں اور پولیس والوں کو ہدایات دے رہے تھے کہ کس طرح سے اور کس طرف سے حملہ کیا جائے مگر پولیس نے ان دونوں بھائیوں کو تو نہ پکڑا ہے ، نہ حوالات میں بند کیا ہے اور نہ ان کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا ہے تو ہمیں انصاف کہاں سے ملے گا جب تک یہ دونوں بھائی اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ہیں اسوقت تک طاہر القادری صاحب کو انصاف مل ہی نہیں سکتا۔ اس لئے ان دونوں کو فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہئے تاکہ ماڈل ٹاؤن سانحے میں شہید ہونے والے غیر مسلح لوگوں کو انصاف مل سکے جن کی صرف بددعاؤں کی وجہ سے پولیس والے مرے بھی اور زخمی بھی ہوئے۔ خیر یہ عدالتوں کا کام ہے کہ وہ کسی کو کہاں تک انصاف فراہم کر سکتی ہیں اور کہاں تک نہیں مگر عدالت کے پاس جن ثبوتوں اور گواہان کی ضرورت ہوتی ہے۔

و ہ جب تک نہیں ہوں گے ماڈل ٹاؤن کا سانحہ ایک ایشو کے طور پر سب پارٹیوں کے پاس ایک ہتھیا ر ہے ہم تو حزب اختلاف کے جس بھی لیڈر کو سنتے ہیں اس کو ایک ہی سانحہ نظر آتا ہے اور وہ ہے سانحہ ماڈل ٹاؤن۔اگر خورشید شاہ صاحب بھی تقریر کرتے ہیں تو ضرور کہیں گے کہ ماڈل ٹاؤن کا سانحہ ایساسانحہ ہے کہ جس کو ابھی حل ہونا ہے اس طرح کے اور بھی بہت سے سانحے ہوئے ہیں جو سندھ کے علاقوں میں ہوئے ہیں مگر سندھ میں چونکہ ایک پارسا پارٹی کی حکومت ہے جس کے لیڈروں کی جمہوریت کے لئے قربانیاں ہیں اس لئے اس کو تو چھیڑنا ہی گناہ عظیم ہے۔ سب سے عظیم قربانی جو جمہوریت کے لئے دی گئی ہے وہ مشرقی پاکستان کو سلام کہنا ہے اس کے بعد جو جو قربانیاں اس پارٹی کی حکومت میں سیاسی لوگوں کو فکس اپ کرنے میں دی گئیں اُن کا شمار تو ہو ہی نہیں سکتا جس بھی سیاسی ورکر یا لیڈر نے ذوالفقارعلی بھٹو کے خلاف زبان کھولی اسکو فکس اپ کر دیا گیااسکی بہت سی مثالیں اب بھی اس وقت کے رسائل اور اخباروں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔جماعت اسلامی کے ایک لیڈر نے بھٹو کو تاریخ دکھانے کی کوشش کی تو دوسرے دن وہ اپنے مطب میں گولیوں سے بھون دیا گیا جسکی ایف آئی آر بھی درج کرنے کو کوئی تھانے جانے پرتیار نہیں تھا ۔ آج بھی اگر سندھ میں کوئی ظلم ہوتا ہے تو کوئی بھی تھانہ وڈیروں کیخلاف ایف آئی آر درج نہیں کر سکتا اس کی مثال حال ہی میں ایک تھانے میں ایک وڈیرے کا تھانیدار کو توبہ کروانے کا واقعہ ہے۔

جو ٹی وی کیمروں نے تو ساری دنیا کو دکھا دیااور ڈی ایس پی کا بھی وڈیرے کیخلاف ہاتھ نہ اٹھاناسب نے دیکھا مگر وہ ایس ایچ او بھی اسطرح وڈیروں کے سامنے دست بستہ کھڑا ہوتا ہے مگر ہمارے پی پی پی کے لیڈروں کو نظر نہیں آتا جب کوئی بات ہوتی ہے تو ہمارے سندھ کے لیڈر اسے پنجاب اور سندھ کی لڑائی میں تبدیل کر لیتے ہیں اور عوام میں ایک دوسرے کے درمیان نفرتیں پھیلانے کے کام کرتے ہیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ سیاست میں جیتنے والی پارٹی وہی ہو گی جسکو عوام چاہیں گے۔ کہنے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ جن لوگوں نے آئین کی حفاظت کی قسم کھائی ہے وہ اپنے پیٹی بندوں کو بچانے کیلئے کہاں تک جاتے ہیں اور ہمارے سیاسی بادشاہ ایک دوسرے کو کھانے کے لئے کہاں تک جاتے ہیں۔ یہ بات یا د رکھنے کی ہے کہ انسان ہونے کے ناطے گناہ سے پاک کوئی بھی نہیں ہے۔جہاں سامنے دولت پڑی ہو گی تو وہاں ہاتھ صاف رکھنے کیلئے جس ایمان کی ضرورت ہے وہ ہم میں سے کسی کے پاس بھی نہیں ہے۔