بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خیبر پختونخوا میں کفایت شعاری اقدامات اٹھانے کا فیصلہ

خیبر پختونخوا میں کفایت شعاری اقدامات اٹھانے کا فیصلہ

پشاور۔صو بائی حکومت نے نئے مالی سال 2017-18 ء کے لئے گزشتہ سالو ں کی طرح امسال بھی کفایت شعاری اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت صوبائی اکاؤنٹ نمبر ون اگر منفی ہو گا تو محکمہ خزانہ تمام قسم کے اخراجات مؤخر کر ے گا۔سٹیٹ بینک میں قائم اکاؤنٹ ون جس سے صوبے کے تمام اخراجات کو کنٹرول کیا جاتا ہے‘ سٹیٹ بینک روزانہ اس اکاؤنٹ کی رپورٹ صو بائی حکو مت کو فراہم کر تا ہے کہ کتنا پیسہ اکاؤنٹ میں آیا ہے کتنا خرچ ہوا اور کتنا باقی ہے ۔بعض اوقات اکاؤنٹ میں رقم کم اور اخراجات زیادہ ہو جاتے ہیں ٗجس پر سٹیٹ بینک حکومت کو اوور ڈرافٹ جاری کرتا ہے اوور ڈرافٹ مقررہ حد سے بڑھ جائے تو بینک حکو مت سے مارک اپ وصول کرتا ہے ٗیا بعض اوقات ادائیگیوں کو مؤخر کر تا دیتا ہے ٗاگر اکاؤنٹ میں رقم نہیں تو حد سے زیادہ اوور ڈرافٹ کی صورت میں حکو مت کو نقصان بر داشت کرنا پڑتا ہے لیکن اب تک مشاہدے میں نہیں آیا کہ صو بائی حکو مت نے از خود کبھی اکاؤنٹ منفی ہو نے کی صورت میں اخراجات کو مؤخر کیا ہو اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے اور حکو مت مارک اپ رہتی دیتی ہے ۔

کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت صوبائی حکومت ہر نئے مالی سال کے موقع پرتمام محکموں کو ہدایات جاری کر تی ہے کہ انتظامی سیکر ٹری بحیثیت پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر اپنے اپنے محکموں میں اندرونی آڈٹ کو یقینی بنانے کے پابند ہو ں گے ۔ ان ہدایات کا مقصد محکموں کا اندرونی احتساب اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی پر کام کے بو جھ کو کم کر نا ہے ہر محکمے کا انتظامی سیکر ٹری اپنے محکمے کا پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر بھی ہو تا ہے‘ عموماً ڈائریکٹر جنرل آڈٹ کی طرف سے آڈٹ کے دوران بہت سی بے قاعدگیوں کی نشاندہی ہو تی ہے جن میں اکثر کیسو ں کی دستاویزات نامکمل ہو تی ہیں ‘یا قانونی کارروائی پوری نہیں کی گئی ہو تی‘ بعد ازاں یہ تمام کیس پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو پیش کئے جاتے ہیں‘ جہاں بعض چھوٹی چھوٹی باتو ں پر وقت ضائع ہو تا ہے ‘ان مشکلات سے بچنے کے لئے حکومت نے احکامات جاری کئے ہیں کہ انتظامی سیکرٹری اندرونی آڈٹ کر یں اور محکمے کسی تجربہ کا ر افسر کے ذر یعے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس سے قبل آڈٹ کروا لیں‘۔

تا کہ اگر سر کاری کھاتو ں میں کوئی کوتاہی ہوئی ہو تو اسے بر وقت دور کیا جا سکے ‘جس سے نہ صرف آڈٹ میں بھی آسانی ہو بلکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں بھی کم سے کم آڈٹ پیرے پیش کئے جائیں‘ لیکن مشاہدے میں آ یا ہے کہ محکمے ان احکامات پرعملدر آمد نہیں کر تے جس کی وجہ سے نہ صرف ڈی جی آڈٹ کے عملے پر بھی کام کے بوجھ میں اضافہ ہو تا ہے بلکہ پی اے سی کے اجلاس میں بھی غیر ضروری آڈٹ پیرے پیش کئے جاتے ہیں جس سے وقت کا ضیاع ہوتا ہے ۔