بریکنگ نیوز
Home / کالم / پولیس کو اپنا کام کرنے دیں

پولیس کو اپنا کام کرنے دیں


پولیس کسی بھی ملک کا وہ عنصر ہے کہ جو ملکی استحکام میں بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے۔ملک میں جتنے بھی فتنے سر اٹھاتے ہیں اُن کو فرو کرنا اس کی بنیادی ذمہ داری میں شامل ہوتا ہے۔اس کیلئے وہ ہمیشہ تیار رہتی ہے۔اس کے کچھ یونٹس ایسے ہوتے ہیں جن پر نیند بھی حرام ہوتی ہے۔ کسی جرم کو سرزد ہونے سے قبل ہی اس کو دبوچ لینا اسی یونٹ کا کام ہوتا ہے۔ بظاہر یہ محکمہ عام انسان میں ایک بدنام محکمے کی نظر سے دیکھا جاتا ہے مگر سوچا جائے تو ہم جو آرام کی نیند سوتے ہیں یہ اسی محکمے کی وجہ سے ہے۔ یہ لوگ ساری رات ہماری رکھوالی کیلئے جاگتے ہیں اور ہمیں پر سکون نیند حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ شہروں کے حد سے زیادہ پھیلاؤ نے اس محکمے پر برا اثر ڈالا ہے کہ ان کی نفری اس مطابق نہیں ہے کہ جس کی ایک شہر کو ضرورت ہے اسکے باوجود ان کا شہر کے ہر کونے کھدرے میں پہنچنااو ر عوام کی سلامتی کا خیال رکھنا ایک بہت بڑا کام ہے۔ پولیس میں اگر کوئی خامی ہے تو اس کے ذمہ دار بھی ہم عوام ہی ہیں۔ہماری توقع پولیس سے یہی ہوتی ہے کہ وہ ہماری چاہت کے مطابق چلے مگر پولیس کی ٹریننگ میں کوئی معتبر کا مہتر نہیں ہوتا ۔ پولیس کوشش کرتی ہے کہ وہ اپنے کام قانون کے مطابق کرے۔بات وہاں بگڑتی ہے کہ جب حکومت کے کارندے یا بڑے جاگیردار پولیس کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ اگر حکومت کی طرف سے اس محکمے میں مداخلت نہ ہو تو ہم پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ ملک امن کا گہوارہ ہو سکتا ہے۔

ہمارے ہاں کے پی کے میں ایک بات جو بہتر ہوئی ہے وہ پولیس پر حکومت کی طرف سے آزادی ہے۔پولیس اگر کسی شخص کو ملزم سمجھتی ہے تو اُ سکی انویسٹٹیگیشن میں حکومت کی طرف سے کوئی مداخلت نہیں ہوتی۔اسی طرح پولیس کی بھرتی میں یا کسی پولیس افسر کی تعیناتی میں حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔جب سارا کام محکمے کے اندر ہے تو محکمے کا بڑا افسر جو ایک مدت اس محکمے میں گزار کر اونچے مقام تک پہنچتا ہے وہ اسکے سارے انز ( ins ) اور آؤٹس (outs) جانتا ہے۔ اسلئے وہ جب اپنے زیر دستوں کی تعیناتی کسی بھی مقام کیلئے کرتا ہے تو وہ بہتر جانتا ہے کہ کوئی افسر یا جوان کس حد تک وہ کام کرنیکی صلاحیت رکھتا ہے۔ چنانچہ پولیس کی صلا حیتوں میں روز بروز بہتری آ رہی ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ حکومت کے سارے ہی محکموں میں یہی عمل ہونا چاہیے اسلئے کہ ایک کسی بھی محکمے کا انیس ، بیس یا اکیس گریڈ کا افسر اس محکمے کی سب صلاحیتوں اور ضرورتوں سے واقف ہوتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ اُسکے محکمے کا کون سا شخص کس جگہ پر بہتر کام کر سکتا ہے۔ یوں وہ جو نیا آدمی لے رہا ہے اُس میں کام کرنے کی صلاحیت ہے بھی یا نہیں اور کیا وہ اُ س معیار پر پورا اترتا ہے جس کی اُسکے محکمے کو ضرورت ہے یا نہیں۔یوں جس طرح کے پی کے نے پولیس کو سیاست دانوں اور سیاست سے پاک کیا ہے اگردو سرے محکموں کو خصوصاً محکمہ تعلیم کو یوں سیاست دانوں کے حملوں سے بچا لیں تو ہمارا صوبہ ایک مثالی صوبہ بن سکتا ہے اور اس کے دیکھا دیکھی دوسرے صوبے بھی اپنے آپ کو اس رو میں ڈھال کر ایک بہترین پاکستان کی تکمیل کرسکتے ہیں۔

ایک پولیس افسر ہر وقت لوگوں پر نگاہ رکھتا ہے اور اس کے ذرائع اُسے ہر وقت آس پاس کی خبر دیتے رہتے ہیں اور اگر اُس کو خود اعتمادی دی جائے ، یعنی اُسکے کاموں میں حکومت یا سیاست دان مداخلت نہ کریں تو ہم امید کرتے ہیں کہ سوسائٹی میں دنوں میں بہتری آ سکتی ہے۔ ابھی جو واقعہ کرچی میں ہوا ‘افسر جو ایس ایس پی رینک کا ہے اُسکی ذمہ داری سے کون انکار کر سکتا ہے؟ اُس نے جو کیا وہ پوری ذمہ داری سے کیا اور ملک کے بہترین مفاد میں کیا مگر افسوس کے اُس کے کئے کرائے پر سیاست نے پانی پھیر دیا۔اُلٹا اُس کو سزا دے دی۔ ہم تو اس فلسفہ کو ابھی تک نہیں سمجھ پائے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہر محکمے کواپنا کام کرنا چاہیے اور اُس کو احکامات اُس محکمے کا ڈائریکٹر یا جو بھی بڑا افسر ہے وہ دے اور ہمارے سیاسی نمائندے اُن کیلئے صرف قانون بنانے تک ہی رہیں۔