بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / حکومت خیبرپختونخوا کی تعلیمی اصلاحات

حکومت خیبرپختونخوا کی تعلیمی اصلاحات

یکساں نظام تعلیم کے لئے حکومت خیبرپختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے نصابی کتب پر نظرثانی شروع کی ہے۔ اب تک پانچویں جماعت تک نظرثانی ہوچکی ہے‘ یہ کتابیں پہلے کی نسبت آسان ہیں‘ اب انہیں زبانی یاد کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان میں بنیادی نکات کی وضاحت کی گئی ہے۔

حکومت خیبرپختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے پبلک اور پرائیویٹ سکولوں میں یکساں نظام امتحان متعارف کرایا۔ اس نظام کا مقصد تعلیمی معیار کو بہتر بنانا تھا کیونکہ ان امتحانات سے تعلیمی معیار کی خامیاں سامنے آجاتی ہیں جو تعلیمی منصوبہ سازی میں کام آتے ہیں۔ یہ نظام مرحلہ وار ہوگا پہلے مرحلہ میں 2017 میں اس نظام کے تحت امتحانات ہوئے۔ اب یہ امتحانات بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری کے تحت ہوں گے۔حکومت خیبرپختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے 450 نئے سکول بنائے ہیں ان میں تمام وسائل مہیا ہیں۔ ان میں 229 میں تمام وسائل مہیا کردیئے گئے ہیں جبکہ221 کیلئے کام جاری ہے۔2013 سے حکومت خیبرپختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے بجٹ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ 2013-14 کا بجٹ 64 بلین تھا جو 2014-15 میں 88 بلین ہوگیا۔ 2015-16 میں 99.4 بلین اور 2016-17 میں 118.7 بلین اور 2017-18 میں 136.194 بلین ہوگیا۔ اس سال بجٹ میں 14.51% اضافہ اور گزشتہ پانچ سالوں میں 113.84 فیصد اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ 3 سالوں میں انرولمنٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ 2014-15 میں 4.17 ملین، 2015-16 میں 4.219 ملین اور 2017 میں 4.274 ملین بچوں کو داخل کیا گیا۔ 2016 میں 34000 بچے پرائیویٹ سکول چھوڑ کر سرکاری سکولوں میں آئے جبکہ اس سال 1,51,000 سرکاری سکولوں میں آئے۔

محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کی اہم کامیابیاں

حکومت خیبرپختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم گزشتہ 3 سال میں 10,000 سے زائد کلاس روم، 14,400 سے زائد چار دیواریاں، 17350 بیت الخلا اور 10550 سکولوں میں بجلی کے منصوبے مکمل کئے گئے۔ 13600 سکولوں میں پینے کا صاف پانی فراہم کیا گیا۔ 21 بلین روپے سے سکولوں میں غیر موجود سہولتیں باہم پہنچائی گئیں۔ سکول میں داخلہ کی تعداد بڑھی جبکہ سکول سے بھاگنے والوں میں کمی آئی ہے۔
NTS کے ذریعہ 40,000 ٹیچرز بھرتی کئے گئے۔
برٹش کونسل کی مدد سے 83000 کو انگریزی ذریعہ تدریس کی تربیت فراہم کی گئی۔45000 انگریزی کے درست سپیلنگ کی تربیت دی گئی۔
خیبرپختونخوا وہ پہلا صوبہ ہے جہاں اقوام متحدہ کے پروگرام SGDS کے مطابق بجٹ دیا گیا۔
1413 نئے گرلز کمیونٹی سکول بنائے گئے۔ ان میں 70,000 داخلے ہوئے۔
30,000 ایجوکیشن ووچرز کی شکل میں 500ملین روپے طلباء میں تقسیم کئے گئے۔
حکومت خیبرپختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم 1350 آئی ٹی لیبز بنائیں۔ 1100 سکولوں میں وائٹ انٹرایکٹو بورڈ فراہم کئے گئے۔
حکومت خیبرپختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے غریب بچوں کے داخلہ کیلئے ووچرز شروع کئے۔ اب تک 13000 غریب بچوں کو یہ ووچرز دیئے گئے۔
3 بلین روپے سے مردان میں گرلز کیڈٹ کالج بنایا گیا ہے۔
2016 میں 1900 بیسٹ ٹیچرز، 100,000 اور 50,000 کے انعامات دیئے گئے اور 2015 میں 900 ٹیچرز کو یہ انعامات دیئے گئے۔
خودمختار مانیٹرنگ یونٹ سے اساتذہ کی غیرحاضری میں 10% کمی آئی۔
حکومت خیبرپختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے سکولوں میں غیر نصابی سرگرمیوں کیلئے 5000 پلے ایریاز اور 140 سکولوں میں کھیل کے میدان بنائے۔
خودمختار مانیٹرنگ یونٹ سے 2013 میں ٹیچرز کی غیرحاضری میں 15% کمی آئی۔ 8000 ٹیچرز پر غیرحاضری کے جرمانوں سے ان کی تنخواہوں سے 190 ملین روپے جمع ہوئے۔
کلاس1- سے کلاس 12- تک قرآن پاک کی تعلیم لازمی قرار دی گئی ہے۔
104 ملین سے زائد طلبا اور ٹیچرز کے لئے 4 ملین روپے فرنیچر کیلئے مختص کئے گئے۔
حکومت خیبرپختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے 56 کلاس روم مکمل کرلئے ہیں اور 350 پر کام جاری ہے۔
5000 طلباء کو سپورٹ کٹ دی گئیں جبکہ 7500 پلے ایریا 198 کھیل کے میدان مکمل کئے گئے۔
5500 سکولوں میں سولر الیکٹریسٹی فراہم کی گئی جبکہ اگلے سال 8000 سکولوں کو سولر الیکٹریسٹی فراہم کی جائے گی۔
76 دفاتر اور 480 سکولوں میں بائیومیٹرک سسٹم فراہم کیا گیا۔
تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کیلئے طلباء میں 5.1 ملین ڈرائنگ بکس تقسیم کئے گئے۔
حکومت خیبرپختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے سرکاری سکولوں میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والوں کیلئے انعامات کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ حکومت اول، دوم اور سوم آنے والے کو بالترتیب 1 ملین، 500,000 اور 300,000 روپے دے گی۔ اسی سکیم کے تحت ضلع ایبٹ آباد کے معذور طالبعلم فیصل ملک نے انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں 810 نمبر لے کر پہلی پوزیشن حاصل کی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے اسے 500,000 روپے انعام دیا۔