بریکنگ نیوز
Home / کالم / دیوانوں کی ٹیم

دیوانوں کی ٹیم

کھیل میں کہا جاتا ہے کہ ٹیم میں اور چاہنے والوں میں بھی سپورٹس مین سپرٹ ہونی چاہئے یعنی کھیل کو کھیل سمجھ کر کھیلا جائے اور اسی نظر سے دیکھا بھی جائے یعنی ٹیم اگر کھیلنے کے لئے میدان میں اترتی ہے تو اُسکے جیتنے اور ہارنے کے برابر کے مواقع ہوتے ہیں ۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ جس بھی ٹیم کا وہ دن ہو گا وہ جیت جائے گی یہ ضروری نہیں کہ ہر دن کسی ایک ہی ٹیم کا دن ہو اس لئے ہار اور جیت کو کھیل کے نظر سے دیکھنا چاہئے اور اسے صرف جیت کی نظر سے نہ دیکھا جائے۔ویسے ٹیم جب بھی میدان میں اترے تو اسکو صرف جیت کی نظر سے اترنا چاہئے ورنہ جیت کا چانس ختم ہو جاتا ہے۔یہ بھی کہ مخالف کو نہ بہت بڑا سمجھنا چاہئے اور نہ نظر سے گرانا چاہئے۔ ہاں کوشش یہ ہو کہ ہم نے جیتنا ہے اور اس جیتنے کے لئے جتنا زور چاہئے لگایا جائے اور فیصلہ مقدر پر چھو ڑ دیا جائے۔دیکھنے والوں یا چاہنے والوں کا بھی یہی رویہ ہونا چاہئے کہ ٹیم جیتے ضرور مگر ٹیم ہار بھی سکتی ہے اس لئے کہ دوسری ٹیم بھی جیتنے کے لئے ہی کھیل رہی ہوتی ہے لیکن دیکھا گیا ہے کہ دیکھنے والے کچھ زیادہ ہی پرجوش ہوتے ہیں اور جب بھی اپنی ٹیم کو ہارتا دیکھتے ہیں تو خود پر قابو نہیں پاسکتے اور نتیجہ لڑائی جھگڑے پر منتج ہوتا ہے ۔ جہاں تک میدان میں دیکھنے والوں کا تعلق ہے تو وہاں تو اکثر کھیل ختم ہونے پر لڑائی جھگڑے ہو جاتے ہیں مگر جو لوگ ٹی وی کے سامنے بیٹھے ہوتے ہیں ان کا شوق بھی دیدنی ہوتا ہے۔فٹ بال ہے تو ہر کک پر ان کے پاؤں بھی ککیں مار رہے ہوتے ہیں اور اگر ان کی فیورٹ ٹیم ہارتی ہے تو سارا غصہ ٹی وی پر نکالتے ہیں کئی ایک توٹی وی پر ایسے حملہ آور ہوتے ہیں کہ جیسے اُن کی ٹیم کو ہرایا ہی ٹی وی نے ہے اور ٹی وی سکرین کے ٹوٹے نکل جاتے ہیں۔ یہ جوش و خروش دیگر ممالک کی فٹ بال کے مقابلوں میں دیکھا جا سکتا ہے مگر ہم برصغیر کے لوگوں میں کرکٹ ایک ایساکھیل بن چکا ہے کہ ہم ایسے سمجھتے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان کی ٹیموں کے درمیان میچ ایسے دیکھا جاتا ہے جیسے دونوں ملکوں میں گھمسان کی جنگ ہورہی ہے۔

میچ سے دنوں پہلے سے ہی ایک جوش و خروش پیدا کر دیا جاتا ہے اور جب کوئی ٹیم ہارتی ہے تو اسکے چاہنے والے اپنے ٹی وی سیٹ توڑتے نظر آتے ہیں اور دوسرے دن کے اخبارات اور مختلف چینلز ایسے ماتم کر رہے ہوتے ہیں کہ جیسے ہندوستان نے لاہور فتح کر لیا ہے یا پاکستان کا امرتسرپر قبضہ ہو گیا ہے ۔ٹیم ایک ہارے گی مگر ٹی وی پورے ملک میں ٹوٹ رہے ہوں گے ایسے کہ جیسے ٹی وی نے ہی میچ ہروایا ہے۔اس کے بعد اخبارات میں کالم لکھے جا رہے ہوں گے کہ یہ فلاں کی غلطی تھی ہم یہ نہ کہتے تھے کہ فلاں کھلاڑی کو نہ کھلوائیں مگر کیا کیا جائے کہ کرکٹ بورڈاپنے چاچے مامے کے بیٹوں کو نوازتا ہے جن کو بیٹ پکڑنا بھی نہیں آتا اُن کو ٹیم میں شامل کر لیا ہوا ہے یہ نتیجہ تو ہونا ہی تھا اب بھی وقت ہے کہ ایسے لڑکوں کو نکال باہر کریں ورنہ کوئی بھی میچ جیتنا ہمارے مقدر میں نہیں ہو گا اس چیمپینز ٹرافی میں ٹیم پاکستان کا پہلا مقابلہ ہندوستان کے ساتھ ہوا ۔ میچ سے ہفتوں پہلے دونوں ملکوں کے ٹی وی چینلز نے ایک جوش و خروش پیدا کرنا شروع کر دیا تھا اور جب ہندوستان کی ٹیم جیت گئی تو ہمارے ہاں ایک توصف ماتم بچھ گئی اور دوسرے مختلف کھلاڑیوں پر بے جا تنقید شروع ہو گئی مگر جب دوسرا جوڑ جنوبی افریقہ کے ساتھ پڑا توٹیم پاکستان جیت گئی پھر کیا تھا وہی لڑکے کہ جن پر کل تک سخت قسم کی تنقید کی جا رہی تھی اُن کو ہی سر پر اٹھا لیا گیااور پھر جب سری لنکا کو زیر کر لیا گیا کہ جس نے ہندوستان کو زیر کیا تھا تو تعریفوں کے پل بندھنے شروع ہو گئے اور جو کارکر دگی نئے لڑکوں نے دکھائی تو ہر طرف اُن پر تعریفوں کے ڈونگرے برسنے لگے۔ پھر اُس ٹیم کو کہ جس کے ہوم گراؤنڈ پر کھیل ہو رہا تھا ٹیم پاکستان نے آٹھ وکٹوں کے بڑے مارجن سے شکست دے کو فائنل کے لئے کوالی فائی کیا تو پھر تو ہر طرف سے تعریفوں کے پُل باندھے جانے لگے ۔ پاکستان پہلی مرتبہ اس چیمپینز ٹرفی کے فائنل میں پہنچا ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ پاکستان یہ فائنل بھی جیتے کہ یہاں پھر بانوے والے حالات ہیں کہ ٹیم پاکستان نے سیمی فائنل میں ایک کوئی بھی میچ نہ ہارنے والی ٹیم نیوزی لینڈ کو ہرایا تھا اور فائنل کے لئے کوالی فائی کیا تھا او رپھر فائنل میں ایسی ہی نہ ہارنے والی ٹیم انگلینڈ کو ہرا کر ورلڈ کپ جیتا تھا۔ اب انشا اللہ امید ہے کہ فائنل بھی پاکستان ٹیم جیتے گی مگر یہ کھیل ہے اور کھیل کو کھیل ہی سمجھنا چاہئے۔