بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / وزیراعظم کی پیشی اور بات چیت

وزیراعظم کی پیشی اور بات چیت

وزیراعظم نوازشریف پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوگئے، ان سے تین گھنٹے پوچھ گچھ ہوئی، میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹیم کی جانب سے 11سوالات پوچھے گئے‘ اس سے قبل وزیراعظم کے دونوں صاحبزادے بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوچکے ہیں، تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیشی کے بعد وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ آئین اور قانون کی سربلندی کے حوالے سے آج کا دن سنگ میل کا درجہ رکھتا ہے، اس سب کیساتھ وزیراعظم کا یہ بھی کہنا ہے کہ کٹھ پتلیوں کا کھیل نہیں چلے گا، وہ کہتے ہیں کہ پردوں کے پیچھے رہنے کا زمانہ گیا، عوام کے فیصلے روند کر مخصوص ایجنڈے پرچلنے والی فیکٹریاں بند نہ ہوئیں تو جمہوریت اور ملکی سلامتی خطرے میں پڑجائیگی، وزیراعظم یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ جو ہو رہا ہے اس کا سرکاری خزانے کی خوردبرد یا کرپشن سے دور دور تک تعلق نہیں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کہتے ہیں کہ نواز شریف کا تقریر میں ا شارہ عدلیہ اور فوج کی طرف تھا، اس سے قطع نظر کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں قائم جے آئی ٹی کیا رپورٹ پیش کرتی ہے، منتخب وزیراعظم کا اپنے ہی ماتحت اداروں کے نمائندوں پر مشتمل ٹیم کے سامنے پیش ہونا ایک اہم واقعہ ہے اس سے کچھ ہی عرصہ قبل سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی عدالت میں پیشی اور فیصلے پر حکومت چھوڑ دینا بھی ریکارڈ کا حصہ ہے، پانامہ پیپرز کا معاملہ کن کن مراحل سے ہوتے ہوئے عدالت عظمیٰ پہنچا ان پر بحث میں پڑے بغیر اب پورے تحمل سے عدالتی فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے، اس سب کیساتھ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ وطن عزیز کی سیاسی قیادت سرجوڑ کر سسٹم کے اندر ایسی اصلاحات تجویز کرے کہ آئندہ کرپشن اور بدعنوانیوں کے کوئی کیس ہی سامنے نہ آئیں، پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے ٹی او آرز پر اختلاف اپنی جگہ ، احتساب اور کرپشن کے خاتمے پر ہماری سیاسی قیادت متفق رہی ہے جو قابل اطمینان ہے، اسی اتفاق کا مظاہرہ دفتری نظام میں اصلاحات پر بھی ہونا چاہئے۔

صرف ریگی ٹاؤن کافی نہیں

سینئر وزیر بلدیات عنایت اللہ خان کا یہ کہنا ہے کہ ریگی ماڈل ٹاؤن منصوبے کے مردہ گھوڑے میں جان ڈال دی گئی ہے،ریگی ٹاؤن سے متعلق صوبائی حکومت کے اعلانات اور اقدامات عملی صورت اختیار کر لیتے ہیں تو دیر آید درست آید کے مصداق اس سب کو قابل اطمینان ہی قرار دیاجائیگا، بڑھتی ہوئی آبادی اور شہروں کی جانب تیزی سے نقل مکانی پشاور میں ریگی کیساتھ دیگر رہائشی منصوبوں کی متقاضی ہے اس ضمن میں متعدد اعلانات ریکارڈ پر موجود ضرور ہیں تاہم برسر زمین کوئی منصوبہ عملی صورت دکھائی نہیں دے رہا، سرکاری منصوبوں کیلئے لینڈ ایکوزیشن کے حوالے سے بھی قاعدہ تبدیل کیاجارہا ہے چاہئے تو یہ کہ اراضی کا حصول آسان ہونے پر فوری نتائج سامنے آئیں، رہائشی منصوبے میں ایک سے زائد محکموں کی حیثیت سٹیک ہولڈرز کی ہوتی ہے، ماضی میں فزیکل پلاننگ کا محکمہ اور اسکے ماتحت اربن ڈیویلپمنٹ بورڈ سارے معاملات دیکھتا تھا جس نے متعدد منصوبے دیئے، اب بھی معاملات کو یکجا کرنے کیلئے اگر ہاؤسنگ کے محکمے کو ری سٹرکچر کرکے پی پی اینڈ ایچ جیسے اختیارات سونپ دیئے جائیں یا پھر محکمہ بلدیات ہی میں ایک ذیلی ادارہ بنا دیاجائے تو اعلانات اور بیانات کو عملی صورت دینے میں آسانی ہوسکتی ہے۔