بریکنگ نیوز
Home / کالم / عوامی عدالت کا شوشہ

عوامی عدالت کا شوشہ

انجام کار وزیراعظم صاحب جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوہی گئے ان کے سیاسی حریف تو ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے لئے یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ ازخود نہیں گئے بلکہ بلائے گئے ہیں پر بات ایک ہی ہے بھلے آپ کان کو بائیں جانپ سے پکڑیں یا دائیں طرف سے ان کے حلیف ان کو اس ات کا کریڈیٹ دے رہے ہیں کہ انہوں نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوکر ایک اچھی سیاسی روایت قائم کی اگر وہ ضد میں آکر نہ پیش ہوتے تو ان پر مزید کئی انگلیاں اٹھتیں سوال مگر یہ ہے کہ ہمارے ہاں جو ضابطہ دیوانی ‘ضابطہ فوجداری اور قانون شہادت موجود ہے ان کے تحت ملزم شاذ ہی مجرم ثابت ہوئے ہیں ہمارے قوانین کا پلڑہ ملزموں کی طرف جھکا رہتا ہے ذرا سا بھی استغاثے کے مقدمے میں شک پیدا ہوجائے تو عدالتیں اس کا فائدہ ملزموں کو دے دیا کرتی ہیں کیونکہ ہمارے ہاں جو فقہیہJuris Prudence سکہ رائج الوقف ہے اس کا محور یہ ہے کہ بے شک دس میں سے نو ملزممان برس ہوجائیں تو کوئی قباعت نہیں پر ایک بے گناہ کو پھندہ نہیں لگنا چاہیے میاں محمد نوازشریف کے کارندے یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ ان کے قائد نے اپنا تو کیا اپنے پرکھوں کا حساب کتاب بھی عدالتوں کو دے دیا ہے کہ جو اب مرحومین ہیں وزیراعظم صاحب نے جے آئی ٹی میں اپنی پیشی کے بعد ٹیلی ویژن کے ذریعے ایک لکھی ہوئی تحریر بھی پڑھی کہ جس میں انہوں نے ایک بڑی عجیب بات کہی اور وہ یہ تھی کہ اب ایک اور جے آئی ٹی بھی بیٹھنے والی ہے اور وہ ہے بیس کروڑ عوام کی جے آئی ٹی کہ جو صحیح فیصلہ کریگی اور جس کے سامنے ہم سب کو پیش ہونا ہے باالفاظ دیگر 2018ء کے الیکشن میں لوگ فیصلہ کرینگے کہ کون سچا تھا اور کون جھوٹا ویسے ہے یہ بڑی دلچسپ منطق ؟

اکثر سیاست دان جب کسی کرپشن کے مقدمے میں پھنستے ہیں اور انہیں عدالتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ ’عوامی عدالت‘ کا پھر ذکر ضرور کرتے ہیں اور لوگوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر انہوں نے کچھ غلط کیا ہے تو عوامی عدالت انہیں مسترد کردیگی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس مفروضے کو مان لیا جائے اور چلئے ایک منٹ کے لئے ہم اسے مان بھی لیں تو پھر تو کوئی مجرم بھی جیل کی سلاخیں کے پیچھے نہیں جاسکے گا وہ جی بھر کے کالا دھن اس وقت بنائے گا کہ جب اقتدار میں ہوگا اور زیادہ سے زیادہ اس کو یہ سزا ملے گی کہ وہ عوام کا سیاسی شعور اگر بلند ہوا تو وہ الیکشن ہار جائے گا پھر بھی اس کے پاس حرام کی کمائی ہوئی دولت کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہوگا جس سے وہ اپنی باقی ماندہ زندگی میں خوب رنگ ریلیاں مناتا رہے گا یہ تو پھر سزا اور جزا نہ ہوئی؟ خدا لگتی یہ ہے کہ ہمارے ارباب اقتدار اپنے دور اقتدار میں اپنے اثر ورسوخ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اربوں روپے کا ہیر پھیر بھی کرتے ہیں کمیشن اور رشوت سے مال بھی بناتے ہیں اور پھر اپنے آپ کو نئے الیکشن میں دھلے ہوئے گھوڑے کی طرح عوام کے ساتھ پیش کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہرمفکر نے ‘ہر فلسفی نے اور ہر ایک دور اندیش شخص نے عوام کو کئی الفاظ میں خبردار کیا کہ حیف ہے اس قوم پر کہ جس پرتاجر مسلط ہوجائیں کہ وہ ایوان اقتدار کو استعمال کرکے اپنی دولت زیادہ کرلیتے ہیں اور پھر اپنی بے پناہ دولت کا فائدہ اٹھا کر دوبارہ برسراقتدار آجاتے ہیں ہم نے تو آج تک اس قسم کے حکمرانوں کی کبھی بھی ناجائز دولت نہ بحق سرکار ضبط ہوتی دیکھی اور نہ ان کو کرپشن کے جرم میں کبھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے جاتے دیکھا اور نہ ہمارا خیال ہے کہ آئندہ اس ملک میں ایسا ہوگا ۔