بریکنگ نیوز
Home / کالم / عتیق صدیقی / ڈونلڈ ٹرمپ اور نواز شریف کے مقدمے

ڈونلڈ ٹرمپ اور نواز شریف کے مقدمے

ڈونلڈ ٹرمپ اور نواز شریف ایک ہی جیسے حالات کی گرفت میں ہیں دونوں کٹہر ے میں کھڑے ہیں اور انکے مخالفین انہیں اقتدار سے محروم کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں دونوں کے خلاف تحقیقاتی کمیٹیاں شدو مد کیساتھ تفتیش کر رہی ہیں اور دونوں بڑے حوصلے اور اعتماد کیساتھ نامساعد حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی بیگناہی کا یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں ان دونوں سربراہوں کی سیاسی جماعتیں انکا ساتھ دینے پر آمادہ نظر آتی ہیں اور انکے ووٹرثابت قدمی کیساتھ انکی حمایت کر رہے ہیں دونوں ملکوں کا میڈیا بری طرح منقسم ہے اور اپنے اپنے بیانئے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے لبرل اور قدامت پسند آمنے سامنے کھڑے ہیں اور لکیر کے دونوں طرف سے تندو تیزبیانات کا سلسلہ جاری ہے صدر ٹرمپ اور وزیراعظم نواز شریف کے مقدر کے ستارے کیا کہہ رہے ہیں اس بارے میں غیر یقینی اتنی زیادہ ہے کہ پنڈت دم سادھے کھڑے ہیں اور پیش گوئیاں کرنے سے گریز کر رہے ہیں صدر ٹرمپ پر روس کیساتھ خفیہ تعلقات رکھنے اور نواز شریف پر منی لانڈرنگ کے الزامات میں مقدمے چل رہے ہیں ان تمام مشابہتوں اور مماثلتوں میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ دونوں کامیاب کاروباری شخصیتیں ہیں انکے کئی ملکوں میں چلنے والے کاروباروں کی نگرانی انکے شہرت یافتہ بچے کر رہے ہیں ایوانکا ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں اپنے غصیلے اورتند خو باپ کے الجھے ہوئے معاملات کو سلجھانے میں مصروف ہیں تو اسلام آباد میں مریم نواز اپنے دھیمے مزاج کے والد کا مختلف محاذوں پردفاع کررہی ہیں دونوں سربراہوں کے نوجوان بیٹے بھی اپنے بڑوں کے کاندھے سے کاندھا جوڑ کر میدان حرب و ضرب میں کھڑے ہیں ان دونوں سلطنتوں کے جانشین یہ جانتے ہیں کہ یہ جنگ صرف انکے کاروباری اور سیاسی مستقبل ہی کی جنگ نہیں بلکہ اسمیں انکا خاندانی وقار اور مقام و رتبہ بھی داؤ پر لگا ہوا ہے وہ اگریہ جنگ جیت لیتے ہیں تو انکے خاندان کی شہرت ‘طاقت ‘ احترام و اقتدار سب کچھ بچ جائیگا ورنہ رسوائی اور گمنامی انکا مقدر ہو گی ڈونلڈ ٹرمپ اور نواز شریف دونوں کے والد ارب پتی کاروباری تھے اور اپنی اولاد کیلئے کاروباری سلطنتیں چھوڑ کر رخصت ہوئے ان میں ایک اہم قدر مشترک یہ بھی ہے کہ دونوں کار سرکار کو ایک کاروباری ادارے کی طرح چلاتے ہیں ۔

ان سلطنتوں کا سربراہ اپنے فیصلے کرنے میں آزاد اور خود مختار ہوتا ہے وہ اپنے اہلخانہ سے صلاح مشورے کے بعد حکمنامہ جاری کر دیتا ہے اور ملازمین اس پر عملدرآمد شروع کر دیتے ہیں اسکا بنایا ہوا نظام اسکی ذات کے گرد گھومتا ہے ایسا سربراہ منتخب نمائندوں حتیٰ کہ اپنی کابینہ سے بھی صلاح مشورہ نہیں کرتا وہ حکومتی اداروں کو خاطر میں نہیں لاتا اور انہیں ڈیپ سٹیٹ کا حصہ سمجھتا ہے ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن اسٹیبلشمنٹ کو ختم کرنے کا وعدہ اپنی انتخابی مہم کی ہر تقریر میں کیا تھا آج وہ انہی اداروں سے محاذ آرائی میں پھنسے ہوئے ہیں میاں نواز شریف آج تک فوج اور عدلیہ سے نباہ کرنے میں ناکام رہے ہیں انکی وزیر داخلہ چوہدری نثار سے بھی کم ہی بنتی ہے اسکی وجہ اہم فیصلوں کا اختیار اپنے پاس رکھنے والی کاروباری ذہنیت ہے امریکہ اور پاکستان کے سیاسی افق کے گہنائے ہوئے ان ستاروں کی دھندلی کرنوں میں جتنی مماثلت ہے اس سے کہیں زیادہ تفریق و امتیاز بھی ہے میاں نواز شریف حساب کتاب دینے کے جھمیلوں سے پہلے بھی گذر چکے ہیں انہیں اپنے ملک کی ڈیپ سٹیٹ سے لڑتے ہوئے کم از کم ربع صدی گذر چکی ہے وہ جیل‘ جلا وطنی‘ دھکم پیل اور بے رحم احتساب کی چکی میں پس چکے ہیں اسکے برعکس ڈونلڈ ٹرمپ ایک رنگین‘ پر تعیش اور شاہانہ زندگی گذارنے کے بعد ستربرس کی عمر میں سیاست کی خوفناک چھلنی کے نوکیلے جبڑوں میں پھنسے ہیں۔

نیویارک کے اس ارب پتی کاروباری نے وائٹ ہاؤس کو بھی ایک کاروباری ادارے کی طرح چلانے کی کوشش کی یہی غلطی اسے لے ڈوبی ڈونلڈ ٹرمپ کو معلوم نہ تھا کہ وائٹ ہاؤس میں صدر مملکت کو گھنٹوں نہیں بلکہ دنوں اور ہفتوں تک ماہرین کی آراء سننی پڑتی ہیں اور آخر میں گہری سوچ بچار کے بعد فیصلہ کرنا ہوتا ہے ان حالات میں ڈونلڈ ٹرمپ کبھی کبھار دل کی یہ بات کہہ دیتے ہیں کہ انہیں ٹرمپ ٹاور یاد آ رہا ہے انکی یہ بات سن کر شعیب منصور کا یہ شعر یاد آجاتا ہے۔
اب آنکھ لگے یا نہ لگے اپنی بلا سے
اک خواب ضروری تھا سو وہ دیکھ لیا ہے
صدر امریکہ کے خود ساختہ بحرانوں پر ظفر اقبال کے اس شعر سے بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے
گرد رسوائی ابھی جھاڑ کے بیٹھا ہوں ظفر
دل ہے کیا جانے کوئی اور حماقت کر دے

دونوں لیڈروں کے معاملات کا ایک اہم فرق یہ بھی ہے کہ وائٹ ہاؤس کا مکین کتنا ہی گیا گذرا کیوں نہ ہو اسے آسانی سے کسی کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جا سکتا جون1973 میں جب واٹر گیٹ سکینڈل کے اختتام پر کانگرس نے صدر رچرڈ نکسن کومواخذے کیلئے پیش ہونے کا حکم دیا تو اس نے قوم سے خطاب کے دوران گرجتے برستے ہوئے یہ مشہور زمانہ جملہ کہاکہ I am not a crook اور استعفیٰ دیکر رخصت ہو گیااسکے بعد 1999 میں ایوان نمائندگان نے صدر بل کلنٹن کا مواخذہ کیا مگر سینٹ نے انکی صدارت برقرار رکھی اب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیاکہ کیا وہ Special Prosecutor یا خصوصی مستغیث رابرٹ مولر کے سامنے پیش ہوں گے تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ وائٹ ہاؤس آکر ان سے بات کر سکتے ہیں آجکل امریکی میڈیا یہ بھی کہہ رہا ہے کہ صدر ٹرمپ کسی بھی وقت سپیشل پراسیکیوٹر کو سبکدوش کر سکتے ہیں۔

پاکستان میں وزیر اعظم چل کر کٹہرے میں جاتا ہے اور امریکہ میں کٹہرہ چل کر وائٹ ہاؤس جاتا ہے امریکہ کے معماران قوم نے آئین میں خصوصی دفعات رکھ کر ملک کے سربراہ کو تحفظات فراہم کئے ہیں وہ اس منصب کے مقام و مرتبے کا دفاع کرنا چاہتے تھے اسے دشمنوں کی سازشوں کے خلاف تحفظ دینا چاہتے تھے امریکی صدر بہ یک جنبش قلم ہاؤس اور سینٹ کے پاس کئے ہوئے بلوں کو ویٹو کر سکتا ہے پاکستان میں جمعرات کے دن وزیراعظم نے جوڈیشل اکیڈمی کی عمارت میں جے آئی ٹی کے سامنے ساڑھے تین گھنٹے تک سوالوں کے جوابات دینے کے بعدمیڈیا سے کہا کہ ’’ مخصوص ایجنڈا چلانے والی فیکٹریاں بند ہونی چاہئیں ورنہ قومی سلامتی خطرے میں پڑ جائیگی‘‘ ڈونلڈ ٹرمپ اور نواز شریف دونوں کے ستارے گردش میں ہیں ان میں سے ایک کو ری پبلکن پارٹی بچا سکتی ہے اور دوسرا اگلے سال کے انتخابات میں اپنی سیاست کا لوہا ایک بار پھر منوا سکتا ہے۔