بریکنگ نیوز
Home / کالم / یورپین پارلیمنٹ اور پاکستان!

یورپین پارلیمنٹ اور پاکستان!


یورپی پارلیمنٹ نے پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرکے قرارداد منظور کی جس میں بھارتی جاسوس کلبھوشن کو قونصلر تک رسائی نہ دینے پر پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اکثریتی ارکان نے اپنی قرارداد میں پاکستان میں سکیورٹی فورسز کو دی گئی آزادی‘ فوجی عدالتوں کے استعمال‘ این جی اوز پر کریک ڈاؤن‘ اقلیتی اور ہیومن رائٹس کے ارکان کو دھمکیوں اور ماورائے عدالت قتل پر تشویش کا اظہار کیا ان ارکان نے پاکستان میں مبینہ طور پر خطرناک حد تک پھانسیوں اور ٹرائلز میں خامیوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان سے ناموس رسالت قانون کے غلط استعمال کو روکنے کا مطالبہ کیا۔ ارکان نے کلبھوشن کو قونصلر رسائی نہ دینے کے معاملہ کا ازخود نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا یہ اقدام عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔اسوقت جبکہ بھارتی دہشت گرد جاسوس کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی نہ دینے اور اسکی سزائے موت کیخلاف بھارت کی درخواست برائے اپیل عالمی عدالت انصاف کے روبرو زیرسماعت ہے‘ جسکی آئندہ ہفتے باقاعدہ سماعت شروع بھی ہونے والی ہے‘ یورپی پارلیمنٹ کا اس معاملہ میں پاکستان کیخلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا فتویٰ صادر کرنا پاکستان کیساتھ اسکے خبث باطن اور خدا واسطے کے بیر کی ہی عکاسی کرتا ہے یورپی پارلیمنٹ اپنے رکن ممالک کو یورپی یونین سے تو الگ ہونے سے نہیں روک پا رہی اور برطانوی عوام نے برطانیہ کو یورپی یونین سے باہر نکال لینے کا فیصلہ کرکے اس کے سینے پر مونگ دلنے کا اہتمام کیا ہے مگر وہ ایک آزاد اور خودمختار مملکت پاکستان کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا اپنے تئیں موردالزام ٹھہرا رہی ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کی اکثریت رائے سے منظور کی گئی قرارداد میں جس طرح کلبھوشن یادیو کے لئے سینہ کوبی کی گئی ہے اس سے یہ واضح عندیہ ملتا ہے کہ یہ قرارداد خالصتاً بھارتی لابی کے زیراثر تیار اور منظور ہوئی ہے بصورت دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملہ میں یورپی پارلیمنٹ میں بحث ہوتی تو اس میں ظالم بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ ستر سال سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بھلا کیسے نظرانداز کیا جا سکتا تھا اگر یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کو پاکستان میں اقلیتوں کے معاملہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نظر آتی ہیں۔

جو پاکستان کو کسی نہ کسی حوالے سے مطعون کرنیکا ایجنڈا رکھنے والوں کے باطل پروپیگنڈے کے سوا کچھ نہیں تو یورپی پارلیمنٹ کو ذرا بھارت میں اقلیتوں کیساتھ روا رکھے جانیوالے سلوک کابھی جائزہ لینا چاہئے جہاں مسلمان ہی نہیں‘ سکھ اور عیسائی اقلیتوں کو بھی جبراً ہندو بنایا جارہا ہے اور اسکی صدائے بازگشت اقوام متحدہ میں بھی سنی گئی ہے۔ مسلمان اقلیتوں پر بھارتی مظالم تو آج شرف انسانیت کو بھی شرماتے نظر آرہے ہیں جنہیں گائے کا گوشت رکھنے کے محض شبہ میں بھی سرعام ذبح کردیا جاتا ہے اگر یورپی پارلیمنٹ بھارت کی جانب دانستاًآنکھیں بند رکھتی ہے اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر محض پاکستان کو ٹارگٹ کرتی ہے تو اس سے زیادہ اس کا دہرا معیار اور کیا ہو سکتا ہے۔ اول تو یورپی پارلیمنٹ کا پاکستان کے اندرونی معاملات اور اس کے مروجہ قوانین سے کوئی لینا دینا نہیں۔ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار مملکت کی حیثیت سے اپنے قوانین اور عدالتی نظام کو وضع اور لاگو کرنے کا مکمل مجاز ہے جس سے کسی دوسرے ملک یا ادارے کا کوئی سروکار نہیں ہو سکتا اس لئے پاکستان میں مروجہ قوانین کے تحت انسانیت کے دشمن دہشت گردوں اور دوسرے سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کو قانون کی عدالتوں سے موت کی سزائیں دی جاتی ہیں جن پر عملدرآمد بھی انصاف کی عملداری کا حصہ ہے تو اس پر یورپی پارلیمنٹ اعتراض کرنے والی کون ہوتی ہے؟ اِسے اپنے رکن ممالک میں انسانی حقوق کی ایسی خلاف ورزیوں سے ضرور سروکار ہونا چاہئے۔ اگر پاکستان میں اسکی سا لمیت کمزور کرنے اور اسکا تشخص خراب کرنے کے ایجنڈے کے تحت کام کرنیوالی مادرپدر آزاد ’این جی اوز‘ کی ملک کے مروجہ قوانین کے تحت سرگرمیاں مانیٹر کی جاتی ہیں اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے وضع کئے گئے نیشنل ایکشن پلان کے تحت اس قبیل کی این جی اوز کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی ہے اور انکی سرگرمیاں محدود کی گئی ہیں۔

تو ملکی اور قومی سا لمیت کے تقاضوں کے تحت پاکستان کو اس کا پورا حق حاصل ہے کسی بیرونی سپانسرڈ ادارے یا تنظیم کو پاکستان کے مفادات کے منافی سرگرمیوں کی تو بہرصورت اجازت نہیں دی جا سکتی اس تناظر میں یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد کی حیثیت چند عناصر کو خوش کرنے کے اور کچھ نظر نہیں آتی جبکہ کلبھوشن کے معاملہ کو قرارداد کا موضوع بنا کر یورپی پارلیمنٹ نے عالمی عدالت انصاف کی کاروائی میں مداخلت اور اس کی توہین کا ارتکاب کیا جسکا عالمی عدالت انصاف کو خود بھی نوٹس لینا چاہئے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: افتخار احمد۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)