بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / افغان امن مذاکرات کی بحالی کے امکانات

افغان امن مذاکرات کی بحالی کے امکانات

وزیراعظم نواز شریف کی آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے دوران افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں افغان امن عمل کی بحالی کے سلسلے میں چار فریقی امن مذاکرات کی بحالی پر اتفاق رائے سے اگر ایک جانب افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے نئی امید پیدا ہوگئی ہے تو دوسری جانب اس نئی پیش رفت سے پاک افغان تعلقات میں پچھلے کئی ماہ سے پائی جانے والی تلخی اور تناؤ میں بھی کافی حد تک کمی کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں روسی صدر پیوٹن بھی واضح طور پر افغان حکومت کو طاقت کی بجائے امن مذاکرات کے ذریعے طالبان کیساتھ معاملات طے کرنیکا مخلصانہ مشورہ دے چکے ہیں دوسری جانب افغانستان میں بڑھتی ہوئی بے چینی سے روس کے ساتھ ساتھ خطے کاجو دوسرااہم ملک سب سے زیادہ پریشان ہے وہ چین ہے جو نہ صرف مسلسل افغان صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے بلکہ اس کی جانب سے افغانستان میں قیام امن اور وہاں بھارتی اثر ورسوخ کو محدود کرنے کیلئے کئی نمایاں اقدامات بھی اٹھائے گئے ہیں۔چین چونکہ اپنے ون بیلٹ ون روڈ کے منصوبے کو ہر حال میں پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتا ہے اور اس راستے میں چونکہ افغانستان کے مخدو ش حالات مسلسل رکاوٹ بن رہے ہیں اسلئے چین نے اس ضمن میں اگر ایک طرف سیاسی پیش رفت کرتے ہوئے چار فریقی مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے تو دوسری جانب افغانستان کے اعتماد کی بحالی کیلئے کئی ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کا آغازبھی کیا ہے۔اس ضمن میں حال ہی میں افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور چینی صدر ژی جن پنگ کی موجودگی میں افغان تاجک سرحدی شہر شیر خان بندر سے ہرات تک ریلوے لائن بچھانے کے علاوہ دریائے کابل پر ڈیم کی تعمیر کے دو بڑے منصوبوں کی مفاہمت کی یاداشتوں پر دستخط ہوناہے۔واضح رہے کہ اس سے پہلے مذکورہ دونوں منصوبوں میں بھارت نے نہ صرف دلچسپی ظاہر کی تھی بلکہ اس ضمن میں اسکی جانب سے افغانستان کو مالی اور تکنیکی پیش کش بھی کی جا چکی ہے جس کا مقصد افغانستان میں اس کے پہلے سے موجود اثرورسوخ کو مزید فروغ دیکر چین کیلئے بالعموم اورپاکستان کیلئے بالخصوص مشکلات پیدا کرنا ہے۔

چین نے آگے بڑھ کر ان منصوبوں میں سرمایہ کاری پر رضامندی ظاہر کرکے اگر ایک طرف افغانستان کو اپنی دوستی کا یقین دلانے کی کوشش کی ہے تو دوسری جانب اس پیش رفت کا مقصد افغانستان میں بھارتی عزائم کو محدود کرتے ہوئے خطے میں اس کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور بالخصوص پاکستان کیلئے مسائل پیدا کرنیکی کوششوں کا سدباب کرنا ہے۔دوسری جانب افغانستان میں چین کے بڑھتے ہوئے کردار اور اس کردار کو افغان حکومت کا اعتماد حاصل ہونے کا اظہار افغان صدر کی جانب سے چین کی کوششوں کے نتیجے میں وزیر اعظم پاکستان سے آستانہ میں ہونے والی ملاقات اور اس ملاقات کے نتیجے میں چار فریقی امن مذاکرات کی بحالی پر آمادگی ظاہر کرناہے۔اس ضمن میں یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ امریکہ پہلے ہی پاکستان سے افغان امن عمل کی بحالی کیلئے طالبان پر اپنا اثر ورسوخ استعمال کرنے کیلئے کہہ چکا ہے جسکا تذکرہ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیتھر ناؤٹ اپنی ایک حالیہ پریس بریفنگ میں کر چکی ہیں۔اسی طرح پاک فوج کے ترجمان نے بھی اپنے ایک حالیہ بیان میں افغانستان میں قیام امن کیلئے چین کے کردار کا خیر مقدم کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ اس سے امن کی تلاش میں مدد ملے گی۔

دریں اثناء چینی وزیر خارجہ اور افغان صدر کے ڈپٹی ترجمان نجیب اللہ آزاد نے اپنے الگ الگ بیانات میں کابل میں متوقع چار فریقی امن مذاکرات کے بارے میں مثبت رائے کا اظہار کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ یہ اجلاس گزشتہ اجلاسوں سے مختلف ہوگا اور اس سے امن کے قیام میں مدد ملے گی۔یاد رہے کہ متذکرہ چار فریقی مذاکرات کا آغاز گزشتہ سال چین کی کوششوں سے ارومچی سے ہواتھا اور بعد میں اسکا ایک دور مری میں بھی منعقد ہواتھا لیکن بعد ازاں گزشتہ سال مئی میں طالبان کے امیر ملا اختر منصور کے ایک امریکی ڈرون حملے میں مذکورہ مذاکرات سے چند روز قبل ہلاکت کے نتیجے میں یہ عمل تعطل اور بد اعتمادی کا شکار ہوگیا تھا۔اب اگر مذاکرات کا یہ سلسلہ واقعتا بحال ہوتا ہے اور اس میں افغان حکومت اور امریکہ کی جانب سے لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے طالبان کیساتھ حزب اسلامی طرز کا کوئی امن معاہدہ طے پاتا ہے تو اس سے نہ صرف افغانستان میں قیام امن کا تشنہ خواب پورا ہونے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں بلکہ اس سے اس پورے خطے میں بھی امن واستحکام کے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے ۔