بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / اتفاق رائے!

اتفاق رائے!

بڑے بڑے کارہائے نمایاں سرانجام دینے سے زیادہ ضروری ہے کہ ان بظاہر معمولی امور کی انجام دہی خوش اسلوبی سے کی جائے جنکی وجہ سے پاکستان نہ صرف واضح تقسیم دکھائی دیتا ہے بلکہ جگ ہنسائی کا باعث بھی ہے۔ پاکستان میں نئے اِسلامی مہینے ’شوال المکرم‘ کا استقبال اتحاد و اتفاق کے مثالی مظاہرے سے کیا جائے اور ایک ہی روز عیدالفطر کا پہلا دن منانے کیلئے وفاقی حکومت نے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس اس مرتبہ پشاور میں منعقد کرنیکا فیصلہ خوش آئند لیکن ناکافی ہے سرکاری اجلاس منعقد کرنے کیلئے مواصلاتی آلات‘ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے رابطے اور دیگر انتظامات کی بروقت تکمیل کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 25 جون کی شام طلب کیا جائے گا لیکن کیا یہ کوشش کامیاب ثابت ہو گی‘ کیونکہ غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹی کے اراکین نے اجلاس ایک روز قبل طلب کر رکھا ہے جس دن غیرسرکاری طور پر رمضان المبارک منانے والوں کے 29 روزے مکمل ہو رہے ہیں! وفاق وزارت برائے مذہبی امور کے فیصلہ ساز ’نئے اسلامی مہینے‘ کے چاند سے متعلق کوئی بھی متفقہ فیصلہ لانے میں اِس لئے بھی ناکام ثابت ہو رہے ہیں کیونکہ وہ اِس مسئلے کو خاطرخواہ اہمیت نہیں دیتے اور ہرسال بالخصوص ماہ رمضان المبارک اور ماہ شوال المکرم کے آغاز پر وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے ایسی غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے‘ جس میں صوبائی حکومت بے بس نظر آتی ہے۔ اپنی جگہ یہ سوال بھی اہم ہے کہ اسلامی سال کے دیگر دس ماہ اِس قسم کا کوئی اختلاف کیوں سامنے نہیں آتا اور اگر اِس عرصے میں رویت ہلال پر اختلافات نہیں ہوتے تو محض رمضان و شوال ہی کیوں نشانے پر ہیں؟ اگر غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹی بھی یکساں قانونی حیثیت رکھتی ہے تو اِس کے شرعی فیصلے کا اطلاق ملک کے دیگر حصوں پر کیوں نہیں کیا جاتا یا اِس کے شرعی فیصلے کی روشنی میں مرکزی رویت ہلال نئے اسلامی ماہ کا چاند دیکھنے کے کسی حتمی نتیجے پر کیوں نہیں پہنچتی اور اگر غیرسرکاری رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس منعقد کرنا غیرقانونی اقدام‘ ہے‘۔

تو ایسے اجلاس کے انعقاد کی اجازت ہی بھلا کیوں دی جاتی ہے؟عام آدمی کے نکتۂ نظر سے ’رویت ہلال‘ کا فیصلہ کرنیوالے سرکاری اور غیرسرکاری اراکین دونوں ہی اپنی اپنی ذمہ داریاں اُور فرائض کی بجاآوری میں کہیں نہ کہیں غفلت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ پورے ملک میں اِتفاق رائے پیدا کرنیکی کوششوں سے قبل رویت ہلال کے اراکین کے درمیان اس ایک نکتے پر اِتحاد ضروری ہے کہ وہ چاند دیکھنے کے شرعی و سائنسی اَصولوں کے تعین پر مبنی کسی ایسے حل پر اِتفاق کریں‘ جو تمام اَراکین کے لئے قابل قبول بھی ہو اور ایسے کسی مشترکہ حل کی حمایت حکومت پورے آئینی اختیارات سے کرے۔ اگر صاحبان علم ودانش کے پاس ’رویت ہلال پر اِتفاق رائے پیدا کرنے جیسے مسئلے کا حل نہیں تو پھر تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ بذات خود مسئلہ ہیں!وفاقی حکومت کی جانب سے پشاور میں سرکاری رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس ’محکمہ اوقاف‘ کے صوبائی دفتر میں منعقد ہو گا جہاں سے ذرائع ابلاغ کے لئے براہ راست نشریات کا بندوبست کرنے کے انتظامات کئے جا رہے ہیں۔

لیکن اگر اتفاق رائے ہی پیدا کرنا ہے تو مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو زحمت کرتے ہوئے مسجد قاسم علی خان میں بیٹھ کر چاند نظر آنے کی موصولہ شہادتوں کی جانچ شرعی و سائنسی اصولوں کی کسوٹی پر کرنا ہوگی۔ مسجد سے زیادہ مکرم و محترم جگہ بھلا اُور کیا ہو سکتی ہے۔ محکمہ اوقاف کے آڈیٹوریم سے زیادہ بہتر ہے کہ اوقاف ہی کے زیرانتظام ’مسجد قاسم علی خان‘ میں اجلاس منعقد کیا جائے۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے پشاور میں اجلاس منعقد کرنے سے متعلق غیرسرکاری کمیٹی سے مشاورت کرنے کو اعتماد میں لینا بھی ضروری نہیں سمجھا گیا تو صرف مقام کی تبدیلی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ مسالک کے درمیان فروعی اختلافات کا اثر فرض عبادتوں اور امت کی خوشی و غم کے تہواروں پر مرتب ہو رہا ہے اور اِس سے پیدا ہونے والا تاثر بھی کسی صورت ایسے مسلم اکثریتی معاشرے کے شایان شان نہیں‘ جو ملت اسلامیہ کی محافظ (اسلام کا قلعہ) ہونے کی دعویدار ہے!