بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / شہباز شریف پیشی ‘اٹارنی جنرل کا جواب

شہباز شریف پیشی ‘اٹارنی جنرل کا جواب


وزیراعظم نواز شریف کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے قائم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوگئے ہیں وزیراعظم کے دونوں صاحبزادے اس سے پہلے ہی پیش ہو کر ٹیم کے سوالوں کے جواب ریکارڈ کر اچکے ہیں‘ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی بغیر کسی پروٹو کول کے اکیڈمی پہنچے جبکہ ان کی گاڑی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ڈرائیو کر رہے تھے وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور حمزہ شہباز بھی ان کے ہمراہ تھے جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت میں شہباز شریف نے اپنے خاندان کے مختلف ادوار میں ہونے والے احتساب سے متعلق تفصیل بتائی ان کاکہنا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم نے جو سوالات کئے انہوں نے ان کے جوابات دے دیئے ہیں اس سے ایک روز قبل اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے جانے والے جواب میں کہا کہ وزیراعظم ہاؤس کے فون ٹیپ کئے جا رہے ہیں وزیراعظم ہاؤس نے جے آئی ٹی کے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم نے خود اپنی درخواست میں فون ٹیپ اور گواہان کی مانیٹرنگ کا اعتراف کیا ہے اس کے ساتھ ہی وزارت قانون نے بھی جے آئی ٹی کے الزامات مسترد کئے وزیراعظم ہاؤس کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم پر من و عن عمل کیا جائے گا لیکن جے آئی ٹی کو بھی شفافیت کا حکم دیا جائے

‘ دریں اثناء اطلاعات و نشریات کی وزیر مملکت مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ شریف فیملی کے جے آئی ٹی پر تحفظات ہیں سپریم کورٹ کو ان کا نوٹس لینا چاہئے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر فیصلہ شریف خاندان کے تحفظات کا جواب دیئے بغیر آیا تو نامکمل ہو گا وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے افراد کی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیشی اہمیت کی حامل ہے وزیراعظم ہاؤس کا یہ کہنا بھی قابل اطمینان ہے کہ عدالتی فیصلے پر من و عن عمل ہو گا‘جے آئی ٹی کی رپورٹ اور اس کے بعد آنے والے فیصلے کا تحمل کیساتھ انتظار ہی وقت کا تقاضا ہے فیصلہ جو بھی ہو اس سارے منظرنامے میں ایک بات واضح ہوچکی ہے کہ وطن عزیز میں احتساب کی ایک روایت قائم ہورہی ہے اس اہم مرحلے کا تقاضا ہے کہ اس پر بردباری کا مظاہرہ کیا جائے تاکہ آئندہ کیلئے ایسا نظام وضع ہوسکے کہ جس میں احتساب کی ضرورت نہ رہے اور اگر ایسا ہو بھی تو احتساب سیاسی انتقام کا ذریعہ نہ بنے۔
ہوائی فائرنگ روکنا ہوگی
بنوں پولیس نے ہوائی فائرنگ کی روک تھام کیلئے اقدامات شروع کئے ہیں اور ڈپٹی انسپکٹرجنرل پولیس بنوں کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہوائی فائرنگ کا دائرہ ہمیشہ اتنا وسیع ہوتا ہے کہ پولیس کیلئے کسی بھی ڈسٹرکٹ میں ہر جگہ پہنچ کر اسے روکنا یا اس میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کرنا ممکن نہیں ہوتا ایک ایسے وقت میں جب بلدیاتی اداروں کے منتخب اراکین اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں پولیس اور لوکل گورنمنٹ کے اداروں میں فوری اور موثر رابطے کا میکنزم ترتیب دینا ہوگا یہ رابطہ ایک جانب ہوائی فائرنگ کو روکنے میں عوامی قیادت کو متحرک کریگا تو دوسری طرف امن وامان کے قیام کیلئے ہونے والے سکیورٹی انتظامات میں بھی کمیونٹی کی شرکت آسان ہوجائے گی جس کے نتائج یقیناًثمر آور ہوں گے ‘ضرورت پولیس اور شہریوں کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کی ہے جس سے باہمی تعاون کو فروغ حاصل ہوگا۔